Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جیل سے ہسپتال منتقلی کا فیصلہ، کیا عمران خان کو ملنے والے ریلیف نے سیاسی بساط الٹ دی؟

پاکستان میں ان دنوں غیر معمولی سیاسی صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اچانک سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کو قریباً ایک ماہ کے لیے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کروانے کا حکم صادر کیا۔
اس ایک بڑے حکم کے ساتھ جو دیگر چھوٹے چھوٹے احکامات دیے گئے جن میں بچوں سے تواتر سے فون پر بات کروانا اور خاندان کے لوگوں کی ملاقاتیں شامل ہیں، ان سب نے دیکھتے ہی دیکھتے سیاسی ماحول میں ہلچل مچا دی۔
سپریم کورٹ کے حکم کے کچھ ہی دیر بعد سب سے پہلی غیر متوقع آواز  نواز شریف کے قریبی سمجھے جانے والے ن لیگی سینیٹر ناصر بٹ کی تھی جنہوں نے اسے فوری طور پر ’حکومت کے خلاف ایک سازش‘ سے تعبیر کیا۔
ایک طرف تحریک انصاف کے کیمپوں میں شادیانے بجائے اور مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی تھیں تو دوسری طرف ن لیگی کیمپوں میں وسوسے دوڑ رہے تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما میں اس معاملے کو حیرت کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔
اسی غیر یقینی صورت حال میں کئی گھنٹے بعد بالآخر حکومت کا ایک جامع موقف سامنے آیا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اس حکم کو صرف اس لیے چیلنج کیا جائے گا کیونکہ سزایافتہ قیدی کو نجی ہسپتال میں لانا کئی قانون نقائص پیدا کر رہا ہے۔
جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو سب سے بڑا سوال جو سوشل میڈیا اور زبان زد عام تھا وہ یہ کہ کیا عمران خان آ رہے ہیں؟ کیا ہواؤں کا رخ بدلنے کی ابتدا ہو گئی ہے؟ خود ایک لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے اپنے سوشل میڈیا پر موجودہ صورت حال پر جو شعر لکھا اس میں بھی ہواؤں اور جنگلی شیر کی بے بسی کا ذکر تھا۔
یوں 24 گھنٹے گزرنے سے پہلے ہی نہ صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بلکہ ٹی وی چینلز اور سیاسی و عوامی حلقوں میں ایک ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔
تو پھر سوال یہ بڑا کہ کیا اس اچانک ہونے والی پیش رفت کو  اسٹیبلشمنٹ کی روایتی ’پلے بک‘ کو درجہ ملنے والا ہے؟ پس پردہ آخر چل ہی کیا رہا ہے؟
اس معاملے پر ن لیگی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’ایک چیز تو واضح ہے، عمران خان کے معاملے پر تاخیری حربے استعمال کرنے والی عدالتوں سے اچانک غیر معمولی ریلیف ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ سیاست کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی طرح یہ ریلیف عمران خان کے مخالفین کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے بیچ مفاہمت ہوتی ہے تو یہ ان کی سیاست کے لیے نقصان دہ ہو گا۔‘
انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ تحریک انصاف محاذ آرائی کو کم کر دے اور اسٹیبلشمنٹ جس طرح نئے صوبوں کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا چاہ رہی ہے، وہ یہی حمایت تحریک اںصاف سے لینے کی بھی متقاضی ہو۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ فوری طور پر حکومت کو خطرہ ہے؟ تو میں کہوں گا کہ نہیں، لیکن اگر پوچھیں گے اس فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟ تو میں کہوں گا کہ تحریک انصاف کے سیاست میں سرگرم ہونے سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا۔‘
ٹی وی میزبان اجمل جامی کہتے ہیں کہ ’میں تو اس ساری صورت حال کو وزیر داخلہ محسن نقوی کے خطاب اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرس کے ساتھ ملا کر دیکھ رہا ہوں۔ اس ساری صورت حال کا تعلق صوبوں کی بحث سے ہے۔ ویسے تو ایک طرف تحریک انصاف شادیانے بجا رہی ہے اور دوسری طرف ن لیگ افسردہ دکھائی دے رہی ہے لیکن میرے خیال میں دونوں جلد بازی کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہوا صرف یہ ہے کہ سیاسی شطرنج کے اصل کھلاڑیوں نے بساط تبدیل کی ہے اور کچھ نئی چالیں شامل کی ہیں۔ اور پہلے 24 گھنٹوں میں اس کے اثرات بڑے گہرے مرتب ہوئے ہیں۔ اب کھیل ان نئی چالوں سے آگے دوبارہ شروع ہو گا۔‘

شیئر: