Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مٹی سے فن پاروں تک: علا الراشد نے قدیم ہنر کو نئی زندگی دے دی

الاحسا میں سعودی خاتون علا الراشد مٹی سے گلاس، گلدان اور دیگر اشیا بنانے کے فن میں ماہر مانی جاتی ہیں۔
وہ مٹی کی سوندھی خوشبو اور ماضی کی  یادوں کو عہدِ حاضر میں لانے کےلیے کوشاں ہیں۔ ان کی اس کہانی کا آغاز کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوا لیکن جب انہوں نے مٹی کو ہاتھ لگایا تو ان کے لمس نے گویا مٹی کو ماضی کی کہانیاں سنانے کا ہنر سکھا دیا۔
علا الراشد  نے سعودی ٹی وی الاخباریہ کو بتایا کہ ’جب انہوں نے مٹی کے برتن بنانے کا فن دیکھا تو اس میں بے حد کشش دکھائی دی، میں نے بلا کسی جھجک کے اس شعبے کو اپنانے کا فیصلہ کرلیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں انہیں اس فن کو سیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، مگر شوق اور لگن نے ہر مشکل آسان بنا دی۔ ان کے مطابق یہ ہنر عام نہیں تھا، اس لیے اس کی باریکیوں اور تکنیک کو سمجھنے میں مشکلات پیش آئیں۔
’ابتدا میں چکنی مٹی سے گلدان اور کٹورے بنانے سے آغاز کیا۔ ان پر الاحسا کے علاقے میں رائج مخصوص نقوش ثبت کرنا شروع کیے۔ یہ نقوش الاحسا کے پرانے گھروں کی مجالس اور مختلف مقامات پر ہوا کرتے تھے جنہیں مٹی کے ان کٹوروں اور گلدانوں پرسجایا۔‘
علا الراشد اس گم گشتہ فن کا احیا کر رہی ہیں جو علاقے کی ثقافت و ماضی کی روایت تھی، ان کے ہاتھ گویا اس ثقافت کے امین ہیں۔
ان کا کہان ہے کہ اان کے بنائے ہوئے مٹی کے فن پاروں کی مارکیٹ ویلیو سائز اور ان پر بنائے نقوش کے اعتبار سے مختلف ہے، قیمت 30 ریال سے شروع ہوتی ہے، بعض اشیا کے لیے مٹی کو امپورٹ کیا جاتا ہے جس سے ان کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔
اس وقت علا الراشد اپنے فن میں منفرد مقام رکھتی ہیں اور نئی نسل کو بھی اس قدیم ہنر کی تربیت دے رہی ہیں جو ماضی کی یادوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔

شیئر: