Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026، چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے اختیارات کیا ہیں؟

پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026ء‘ اور ’پاکستان دفاعی افواج ایکٹ، 2026ء‘ کی اکثرتی رائے سے منظوری دے دی ہے جبکہ اپوزیشن نے اس عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
قومی اسمبلی میں حکومت نے یہ بلز سپلیمنٹری ایجنڈے کے طور پر پیش کیے تھے۔
قانون سازی کے موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں موجود تھے اور ایوان میں آمد پر وہ اپوزیشن بنچوں پر گئے جہاں انہوں نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سے مصافحہ بھی کیا۔
پاکستان میں مسلح افواج کی ساخت، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور آپریشنل صلاحیتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی غرض سے اس قانون کے ذریعے عسکری نظام اور کمانڈ سٹرکچر میں بنیادی اور دور رس اثرات کی حامل اصلاحات کی گئی ہیں، جن کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان باہمی ربط اور مشترکہ آپریشنل صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
27ویں آئینی ترمیم اور نیا عسکری فریم ورک
یہ قانون سازی دراصل 27ویں آئینی ترمیم کے بعد کے عمل کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سٹرکچر کو دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔
اس نئے فریم ورک کے تحت ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘کی مدتِ ملازمت کا آغاز ان کے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے ہو گا جبکہ ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔
اس آئینی ترمیم میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت بطور سی ڈی ایف نوٹیفکیشن کی تاریخ سے ازسرِنو شروع ہو گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو 4 دسمبر کو ملک کا پہلا سی ڈی ایف مقرر کیا گیا تھا جو آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز دونوں عہدے بیک وقت سنبھالنے کا نادر اعزاز رکھتے ہیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم اور کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا قیام
نئے فریم ورک کے تحت 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ ’کمانڈر آف دی نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ‘ کا نیا منصب قائم کیا گیا۔
وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ آرمی چیف اور سی ڈی ایف کی سفارش پر اس فور سٹار کمانڈر کی تین سال کی مدت کے لیے تعیناتی کر سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 24 جولائی کو پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقّی دے کر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا کمانڈر مقرر کیا تھا۔

اس نئے فریم ورک کے تحت ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘کی مدتِ ملازمت کا آغاز ان کے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے ہو گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سی ڈی ایف کی سفارش پر وزیراعظم اس کمانڈر کو مزید تین سال کی ایک اضافی مدت کے لیے دوبارہ مقرر کر سکتے ہیں اور اس تعیناتی، ری اپائنٹمنٹ یا توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ آرمی ایکٹ کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر، مدتِ ملازمت اور عہدے سے ہٹانے سے متعلق شقیں کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ پر لاگو نہیں ہوں گی اور وہ پاکستان آرمی میں بطور جنرل فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
سروسز قوانین اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم
کابینہ نے ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء‘ میں ترمیمی بلز کی بھی منظوری دی جسے وزیراعظم آفس نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد کا ایک ضروری قانونی قدم قرار دیا۔ آئینی تبدیلیوں کے بعد بری، بحری اور فضائی افواج کے سروسز قوانین میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ پاکستان نیوی اور پاکستان ایئر فورس کے قوانین میں ترمیمی بلز کے ذریعے سی جے سی ایس سی کے تمام حوالہ جات اور متعلقہ شقوں کو حذف کر کے نیول سٹاف اور ایئر سٹاف کے سربراہان کے حوالے سے کمانڈ سٹرکچر اور اصطلاحات کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
قانون کا اطلاق اور دیگر قوانین پر فوقیت
اس قانون کو ’پاکستان دفاعی افواج ایکٹ، 2026ء‘ کا نام دیا گیا ہے، تاہم قانونی اور انتظامی امور کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا موثر نفاذ 13 نومبر 2025ء سے تسلیم کیا گیا ہے۔
اس ایکٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت وضع کردہ احکامات، قواعد اور ہدایات کو ملک میں نافذ العمل دیگر تمام مروجہ قوانین پر فوقیت اور برتری حاصل ہوگی۔
تاہم اس برتری کے باوجود یہ واضح کیا گیا ہے کہ پہلے سے موجود قوانین جیسے کہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء، پاکستان فضائیہ ایکٹ 1953ء، بحری افواج پاکستان آرڈیننس 1961ء اور کنٹونمنٹس ایکٹ 1924ء کی عمومی حیثیت اور روح پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا بشرطیکہ وہ اس نئے قانون کے صریحاً منافی نہ ہوں۔
دفاعی افواج کے ہیڈ کوارٹر کا قیام
نئے قانون کے تحت ملک میں ایک مرکزی ’دفاعی افواج کا ہیڈ کوارٹر‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اعلیٰ عسکری ادارہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی براہِ راست کمان اور اختیار کے تحت کام کرے گا۔
اس ادارے کو یہ کلیدی حیثیت حاصل ہو گی کہ یہ قومی سلامتی، دفاعی حکمتِ عملی اور مسلح افواج سے متعلق تمام اہم اور تزویراتی امور میں وزیراعظم کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر کے طور پر فرائض انجام دے گا۔

نئے قانون کے تحت ملک میں ایک مرکزی ’دفاعی افواج کا ہیڈ کوارٹر‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کے اختیارات اور جوابدہی
اس ایکٹ کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب انتہائی اہمیت کا حامل بنا دیا گیا ہے جنہیں ملک کی تمام مسلح افواج کی آپریشنل اور عملی کمانڈ اور کنٹرول کا مکمل اختیار سونپ دیا گیا ہے۔
اس اہم ترین عسکری ذمہ داری کے ساتھ ساتھ جمہوری اور آئینی نظام کے تحت ان کی جوابدہی بھی طے کی گئی ہے جس کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تمام امور میں چیف آف ڈیفنس فورسز براہِ راست وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔
اس کے علاوہ بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان آپریشنل آہنگی، کثیر الجہتی انضمام، مشترکہ حکمتِ عملی اور تمام تزویراتی امور کی نگرانی کی بنیادی ذمہ داری بھی انہی کے سپرد کی گئی ہے۔
ملازمین و افسران سے متعلق انتظامی اختیارات
نئے قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو عسکری اہلکاروں اور افسران سے متعلق وسیع انتظامی اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت ہونے والی مخصوص تعنیاتیوں کے علاوہ چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج کے کسی بھی فرد کو ملازمت سے ریٹائر، فارغ یا سبکدوش کر سکیں گے۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کو عسکری اہلکاروں اور افسران سے متعلق وسیع انتظامی اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے ساتھ ہی انہیں یہ اختیار بھی حاصل ہو گا کہ وہ کسی اہلکار کا استعفیٰ منظور یا مسترد کر سکیں، اسے ملازمت میں برقرار رکھیں یا پھر ریٹائرمنٹ کی عمر اور ملازمت کی مدت کی حد میں کمی و بیشی سے متعلق فیصلے کر سکیں۔
قواعد و ضوابط اور مشکلات کا ازالہ
اس قانون پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کو وقت فوقتاً قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز آپریشنل سطح پر ضروری ہدایات اور احکامات جاری کر سکیں گے۔
اگر اس ایکٹ کے نفاذ کے دوران کوئی عملی دشواری سامنے آتی ہے یا کسی دوسرے قانون کے ساتھ عدم مطابقت کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو صدرِ مملکت کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ خصوصی حکم کے ذریعے اس مشکل کا قانونی ازالہ کر سکیں۔
قانون میں یہ تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے کہ اس ایکٹ کے نفاذ سے قبل جاری ہونے والے وہ تمام قواعد اور احکامات جو اس سے متصادم نہیں ہیں، 13 نومبر 2025ء سے قانونی طور پر برقرار اور نافذ العمل تصور کیے جائیں گے۔

شیئر: