Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس‘، پاکستان اور گوگل کے درمیان مفاہمتی یاد داشت پر دستخط

وزیراعظم شہباز شریف نے 18 اگست کو پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا افتتاح کیا تھا (فوٹو: پی ایم آفس)
پاکستان اور گوگل نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر لیے ہیں، جس کا مقصد ملک میں ڈیجیٹیل مہارتوں، آئی ٹی کی برآمدات اور جدت کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسیع کرنا ہے۔
جمعے کو پی ایم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کی ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی اسی تقریب میں ہوئے۔
معاہدے کے تحت ملک میں ڈیجیٹل سکلز کے فروغ کے لیے گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کو مزید وسیع کرنے کے حوالے سے تعاون کیا جائے گا۔
گوگل کی جانب سے 2026 میں پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یادداشت میں پاکستانی طلبہ کی جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز تک رسائی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
طلبہ کو ایک برس تک گوگل اے آئی پلس، جیمنی اور دوسرے جدید ٹولز تک مفت رسائی دی جائے گی۔
اسی طرح اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
اس کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں اور ہیومن ریسورسز کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے گی۔
اسی طرح موبائل ایپس، گیمنگ انڈسٹری کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے، ڈیجیٹل تجارت کا دائرہ وسیع کرنے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو فروغ دینے کے لیے بھی تعاون کیا جائے گا۔
یاد داشت کے مطابق حکومتی امور اور سرکاری سروسز کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تعاون کیا جائے گا۔
اسی طرح ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے مںصوبے میں ڈیٹا اینالیٹکس کے لیے بھی اے آئی کو استعمال کیا جائے گا جبکہ زراعت کے شعبے میں بھی سروسز حاصل کی جائیں گی جن میں فصلوں کی نگرانی، پیداوار کی پیش گوئی اور پائیدار زرعی طریقہ کار کی معلومات شامل ہوں گی۔
پی ایم آفس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے استفادے پر بھی تعاون کیا جائے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مسابقتی صلاحیت کے روڈ میپ کی تیاری کے لیے ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اسی طرح آئی ٹی برآمدات میں حائل رکاوٹوں اور ترقی کے امکانات کی نشاندہی کے لیے حکومت، گوگل اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔
بیان میں اقدام کو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 2030 تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے وزیراعظم کے وژن کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی قرار دیا گیا ہے۔

شیئر: