Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پہلے لانگ مارچ ختم کریں پھر بات ہوگی، وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو پیشکش

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو ’ہوش کے ناخن لینے‘ کے انتباہ کے ساتھ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر وہ لانگ مارچ ختم کر دے تو اس کے ساتھ بات ہو سکتی ہے۔
 منگل کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لانگ مارچ کا پہلا نشانہ معیشت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی گئی تھی ’لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کرنے والے ہوش کے ناخن لیں یہ ملک کے لیے نقصان ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کرنے والے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا ترقی کے پہیے کو جام کرنا ملک دشمنی نہیں؟ ’عوام کے جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے جس کو نبھایا جائے گا۔‘
اس سے قبل وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی وزیراعظم کے بیان سے ملتا جلتا موقف اپنایا اور کہا تھا کہ بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔
’یہ غلط فہمی میں ہے اور یہ مارچ جو اس دفعہ نکلے گا اس کے بعد پاکستان میں مارچ نہیں ہوگا۔ یہ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اس کا سیاسی انتظام، آئینی انتظام بھی اور ہر طرح کا انتظام کیا ہے۔‘

’پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کوہاٹ میں، آج پشاور کے لیے روانگی ہو گی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ کرک سے ہوتا ہوا کوہاٹ پہنچ گیا ہے جہاں سے یہ پشاور کے لیے روانہ ہوگا۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹس پر دی گئی معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں ہونے والے لانگ مارچ میں بڑی تعداد میں کارکنان بھی شریک ہیں۔
پیر کی رات کوہاٹ کی تحصیل لاچی پہنچنے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عمران خان ہی ملک کو دلدل سے نکال سکتے ہیں۔
خیال رہے اس وقت خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان سخت تناؤ پایا جاتا ہے کیونکہ وہاں کی مقتدر پارٹی پی ٹی آئی نے اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں (فائل فوٹو: کے پی اسمبلی)

پہلے یہ لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہونا تھا مگر پھر اسے ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
اتوار کو بھی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے جس میں لانگ مارچ کا معاملہ بھی شامل تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔
دوسری جانب حکومتی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ’احتجاج کی سیاست‘ پر پاکستان تحریک انصاف کو سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں۔
اسی طرح اتوار کو مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔‘

شیئر: