Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

براڈ پیک سانحہ: موسم کی خرابی کے باعث کوہ پیماؤں کی نعشوں کو تلاش کرنے میں مشکلات

سابق برطانوی فوجی اور معروف کوہ پیما نرمل پرجا بھی سانحہ براڈ پیک میں جان سے جانے والے کوہ پیماؤں میں شامل ہیں (فوٹو: اے پی)
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ پاکستان میں امدادی ٹیمیں منگل کو پیدل ہی اُن 10 کوہ پیماؤں کی لاشوں کی تلاش میں مصروف رہیں جو دنیا کے بارہویں بلند ترین پہاڑ پر برفانی تودہ گرنے سے ہلاک ہو گئے تھے، کیونکہ خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹروں کا پرواز کرنا ممکن نہیں تھا۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق علاقائی حکومت نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ ہیلی کاپٹر تیار حالت میں کھڑے تھے، تاہم دوپہر تک وہ براڈ پیک پر جاری ریسکیو اور ریکوری آپریشن کے لیے اُڑان بھرنے سے قاصر رہے۔
نیپال، عمان، پاکستان، چین، برطانیہ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے یہ کوہ پیما جمعرات کو گلگت بلتستان کے علاقے میں برفانی تودے کی زد میں آگئے تھے، جسے الپائن کلب آف پاکستان نے ملک کی مہلک ترین کوہ پیمائی آفات میں سے ایک قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق زمینی ٹیموں نے آٹھ کوہ پیماؤں کی لاشوں کا سراغ لگا لیا، جبکہ کم سے کم تین لاشیں سنیچر کو پہاڑ سے نیچے منتقل کر دی گئیں۔
نمز ڈائی کے نام سے مشہور نیپال میں پیدا ہونے والے اور سابق برطانوی فوجی نرمل پرجا بھی اُن کوہ پیماؤں میں شامل تھے جو چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران برفانی تودے کی نذر ہو گئے۔ ان کی ایکسپیڈیشن کمپنی نے ہفتے کے روز کہا کہ دنیا نے کوہ پیمائی کے عظیم ناموں میں سے ایک کو کھو دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو مرنے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے پر گہرے رنج و غم میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، اور چین، نیپال، عمان، برطانیہ اور امریکا کی حکومتوں اور عوام سے بھی تعزیت کرتا ہوں۔‘
اسحاق ڈار نے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کے اہلِ خانہ سے بھی اظہارِ افسوس کیا اور کہا کہ ’پہاڑوں کے لیے ان کی جراَت اور جذبہ فخر کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔‘

موسم کی خرابی کے باعث ریسکیو ٹیموں نے پیدل ہی سرچ آپریشن جاری رکھا (فائل فوٹو: اے پی)

انہوں نے کہا کہ ’مرنے والے تمام افراد کے عزم اور بہترین کارکردگی کے حصول کی جستجو کوہ پیمائی کی حقیقی روح کی عکاسی کرتی ہے اور آئندہ نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔‘
اسحاق ڈار نے ’ریسکیو اور ریکوری ٹیموں کی انتھک کاوشوں‘ کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان نیپال، عمان، برطانیہ اور امریکا کے سفارت خانوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے ریسکیو اور ریکوری آپریشن جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
شمالی پاکستان میں برفانی تودوں، برف اور پتھروں کے گرنے، انتہائی بلندی اور تیزی سے تبدیل ہوتے موسم کے باعث کوہ پیمائی کے حادثات عام ہیں۔ گذشتہ سال ایک چینی کوہ پیما دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سے اترتے ہوئے پتھروں کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گیا تھا۔
پاکستان میں پہاڑ سر کرنے کی کوشش کے دوران جان سے جانے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں عموماً ان کے اہلِ خانہ اور حکومتوں کی درخواست پر واپس لائی جاتی ہیں۔ اہلِ خانہ اگر ریسکیو کرنے سے انکار کر دیں تو مرنے والوں کی لاشیں وہیں چھوڑ دی جاتی ہیں جہاں کوہ پیما نے جان دی ہوتی ہے۔

شیئر: