Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، سیاست دان نچلی سطح پر اقتدار کی منتقلی سے خائف کیوں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو صوبے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے کی یقین دہانی کے بعد صوبائی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں خصوصاً نئے صوبوں کی تشکیل اور انتظامی و آئینی تقسیم کی بحث عروج پر ہے جس کے باعث سیاسی و تجزیاتی حلقے اس فیصلے کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
پنجاب میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے جن کی پانچ سالہ مدت 2021 کے آغاز میں ختم ہو گئی تھی اور یوں صوبہ گزشتہ کئی برسوں سے مقامی حکومتوں کے نمائندوں سے محروم ہے۔
اس عرصے کے دوران بلدیاتی قوانین کی بار بار تبدیلی تاخیر کی سب سے بڑی وجہ بنی۔
تحریکِ انصاف کا دور
 2013 کے قانون کو ختم کر کے نیا قانون متعارف کرایا اور بلدیاتی اداروں کو تحلیل کیا جسے بعد میں عدالتِ عظمیٰ نے بحال کر دیا۔ تاہم تحریکِ انصاف اپنے اقتدار کے دوران مسلسل نئی قانون سازی، نظام کی تبدیلی اور حد بندیوں کے نام پر وقت گزارتی رہی اور ایک بار بھی بلدیاتی انتخابات نہ کروا سکی۔
مسلم لیگ (ن) کا دور
اقتدار کی تبدیلی کے بعد آنے والی حکومت نے بھی سابقہ قانون منسوخ کر کے نیا بلدیاتی ایکٹ پاس کیا جس سے انتخابی عمل مسلسل التوا کا شکار ہوتا رہا۔
انتخابات اور ’صوبوں کی بحث‘
اس تمام صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بتایا ’میرے خیال میں پنجاب کے اندر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جو پیش رفت ہو رہی تھی اور الیکشن کمیشن جس طرح سے حکومت پر اس آئینی عمل کی تکمیل کے لیے مسلسل دباؤ بڑھا رہا تھا، تو جب یہ کوششیں ایک بار پھر تکمیل کے قریب تھیں تو صوبوں کی بحث بھی دیکھنے کو ملی، یہ ایک اتفاق لگتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہاں، لیکن ابھی بھی حکومت اگر بلدیاتی انتخابات نہیں کروانا چاہتی اور کوئی نئی ترمیم اسمبلی کے ذریعے لے آتی ہے تو صرف اسی صورت میں اب یہ معاملہ دوبارہ مؤخر ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ترمیم کی صورت میں سارا عمل نئے سرے سے شروع ہوگا جس میں حد بندیاں اور دیگر معاملات شامل ہوتے ہیں۔‘
سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے خائف کیوں؟
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کی ٹائم لائن کا جائزہ لیا جائے تو تمام بڑئ جماعتیں نچلی سطح کے انتخابات سے خوفزدہ نظر آتی ہیں۔
سنہ 2019 میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے نیا ایکٹ منظور کر کے بلدیاتی اداروں کو قبل از وقت تحلیل کیا، جس کے خلاف مقامی نمائندے عدالت چلے گئے۔
مارچ 2021 میں سپریم کورٹ نے ان اداروں کو بحال کرنے کا حکم دیا لیکن صوبائی حکومت نے عملدرآمد میں مہینوں تاخیر کی اور بالآخر دسمبر 2021 میں ان اداروں کی آئینی مدت ختم ہو گئی۔
سنہ 2022- 2023 میں الیکشن کمیشن نے متعدد مرتبہ انتخابات کی تاریخیں طے کرنے کی کوشش کی لیکن پہلے تحریکِ انصاف نے ویلیج و نیبر ہوڈ کونسل کی سطح پر نئی حد بندیوں کا عذر تراشا اور پھر ’پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022‘ لے آئی۔
اپریل 2022 میں مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی تو اس نے پی ٹی آئی کا قانون منسوخ کر کے 2023 میں ایک اور نیا بل تیار کرنا شروع کر دیا۔
ہر نئی ترمیم کے ساتھ الیکشن کمیشن کو حد بندیوں کا عمل ازسرِ نو شروع کرنا پڑا، اور یوں قانون سازی کو ڈھال بنا کر الیکشن کو آگے دھکیلا جاتا رہا۔
’سیاسی ساکھ اور معاشی دباؤ‘
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا ماننا ہے کہ ’مسلم لیگ (ن) سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کو اختیارات اور فنڈز منتقل کرنے سے خائف رہتی ہیں، کیونکہ صوبائی اسمبلی کے اراکین اپنے حلقوں کے ترقیاتی فنڈز پر سے گرفت چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس لیے بلدیاتی انتخابات ان کے خیال میں ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں اور اقتدار پر گرفت کمزور کر سکتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’جیسے ابھی پنجاب میں تمام کام ہو رہے ہیں اس کا سارا کریڈٹ صوبائی حکومت لے رہی ہے اور یہی بیانیہ اگلے انتخابات میں ان کے کام آئے گا۔ لیکن اب صوبوں کی بحث نے ایک نئی صورت حال کو جنم دیا ہے، اس لیے بڑے نقصان سے بچنے کے لیے میرا خیال ہے کہانی بلدیاتی انتخابات کی طرف بڑھے گی۔‘
دوسری جانب تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں ’مسلم لیگ (ن) کی ہچکچاہٹ کی اصل وجہ معاشی مشکلات اور مہنگائی کے باعث نچلی سطح پر ووٹرز کی ناراضگی کا خوف رہا ہے، کیونکہ حکمراں جماعت کو اندیشہ تھا کہ معاشی سختی کے دوران بلدیاتی الیکشن میں شکست ان کے مرکزی سیاسی بیانیے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘
انہوں نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا ’اس لیے بلدیاتی انتخابات میں نہ جانا ایک حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ لیکن اس صورت حال سے اب پیچیدگی اور بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف سیاسی پریشر کی سمت تبدیل ہوئی ہے اور پھر نئے صوبوں کی بحث نے بھی بڑی حد تک پرانے طریقہ کار پر ضرب لگائی ہے۔ اس لیے اب انہیں فیصلہ کرنا ہی ہوگا، اور ان انتخابات کے دور رس نتائج ہوں گے کیونکہ یہ ایک بڑی سیاسی سرگرمی ثابت ہوگی۔‘

شیئر: