امریکی محکمہ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ معروف ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’ٹک ٹاک‘ نے بچوں کے رازداری کے وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات پر امریکی وزارتِ انصاف کے ساتھ 400 ملین ڈالر (قریباً 40 کروڑ ڈالر) کی بھاری رقم ادا کرنے کے سمجھوتے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ کارروائی ’چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ‘کے تحت سامنے آنے والے سب سے بڑے معاہدوں میں سے ایک ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ قانون 13 سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے پر سخت پابندی عائد کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
’ٹک ٹاکر آگئی‘: اسلام آباد کے مسائل اجاگر کرنے والی طالبہNode ID: 906591
-
ٹک ٹاک ویڈیو اور صرف ایک کمنٹ، جس پر دو نوجوان قتل ہو گئےNode ID: 907135
تاہم 2024 میں امریکی محکمہ انصاف اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی جانب سے دائر کیے گئے جوائنٹ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ٹک ٹاک نے والدین کو آگاہ کیے بغیر لاکھوں بچوں کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کر کے اور استعمال میں لا کر ان کی حفاظت کو خطرے میں ڈالا۔
وزارتِ انصاف کے بیان کے مطابق معاہدے کے تحت ٹک ٹاک 300 ملین ڈالر فوری طور پر ادا کرے گا جبکہ بقایا 100 ملین ڈالر ایک سابقہ حکم نامے کی منسوخی کے بعد ادا کیے جائیں گے۔
یہ سابقہ فیصلہ ٹک ٹاک کی پیشرو ایپ ’میوزکلی‘ سے متعلق تھا جسے چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے 2017 میں خرید کر ٹک ٹاک میں ضم کر دیا تھا۔
دعویٰ کیا گیا تھا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے مخصوص ’کڈز موڈ‘ میں بنائے گئے اکاؤنٹس کے ذریعے بھی ای میل ایڈریسز اور دیگر حساس معلومات جمع کی جاتی رہیں۔
اس تصفیے میں چینی کمپنی بائٹ ڈانس کا نام بھی شامل ہے جس کے پاس امریکی میڈیا کے مطابق ٹک ٹاک یو ایس کے 19.9 فیصد حصص موجود ہیں۔













