’ڈالر کے بدلے ڈالر‘، کینیڈا کا امریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تین روزہ اہم تجارتی مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں جس کے بعد دونوں دیرینہ اتحادیوں اور اہم تجارتی شراکت داروں کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے سنیچر کو اوٹاوا کے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی سٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر مصنوعات پر ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ کی بنیاد پر جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔
یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد اضافی محصول عائد کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی نے پریس کانفرنس کے دوران واشنگٹن کے اقدام پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ’جب آپ پر حملہ کیا جاتا ہے تو آپ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ہم پر حملہ کیا گیا ہے اور کینیڈا اپنے ورکرز، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری شعبے کی حفاظت کے لیے امریکاہ کے نئے ٹیرف کا برابر کا جواب دے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم ان کی پیشکش کو قبول نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہم وہ دیں گے جو انہوں نے مانگا ہے۔‘
امریکی صدر کے نئے ٹیرف سے کینیڈا کی وائن، فرنیچر، ڈیرئی مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے اور ہاکی کے سامان سمیت قریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہوں گی۔
یہ ٹیرف سہ ملکی آزادانہ تجارتی معاہدے(یو ایس ایم سی اے) کے تحت آنے والی مصنوعات پر بھی لاگو ہوں گے جو کہ اس سے قبل ان برآمدات کو تحفظ فراہم کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ شراکت داری کا ایک بہترین موقع ضائع کر دیا ہے۔‘
انہوں نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ فی الحال کینیڈا کے ساتھ مزید مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور کینیڈین جوابی کارروائی کا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات سے کینیڈا کی برآمدات کا قریباً 5 فیصد حصہ شدید متاثر ہوگا جس سے کچھ نازک انڈسٹریز جیسے کہ لکڑی اور وائن کی صنعت کو بھاری نقصان اور روزگار کے مواقع ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
سیاسی سطح پر بھی وزیراعظم کارنی کے اس سخت فیصلے کو کینیڈا میں وسیع عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ’کینیڈینز کو اپنے روزگار اور کاروبار پر ہونے والے ان غیر منصفانہ حملوں کے خلاف متحد ہو کر اپنے ملک کا دفاع کرنا ہو گا۔‘
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعطل کے باعث اب امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے آزادانہ تجارتی معاہدے کا مستقبل بھی پیچیدہ ہو گیا ہے۔
