Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شدید گرمی سے رواں برس یورپ میں 30 ہزار اضافی اموات: رپورٹ

براعظم یورپ میں رواں برس مسلسل شدید گرمی کی لہر اور خشک سالی کے دوران کم سے کم 30 ہزار اضافی اموات ہوئی ہیں۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ’اس شدید گرمی کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہے۔‘
یورپ کے 23 ممالک میں شرحِ اموات کا موازنہ کرنے والے مانیٹرنگ پلیٹ فارم ’یورومومو‘ کے ابتدائی اندازے کے مطابق ’اضافی ہلاکتوں کی تعداد 32 ہزار رہی۔‘
’جولائی کے وسط سے اگست کے وسط تک یورپ میں 32 ہزار سے زیادہ اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ گرمی کا موسم تاحال اختتام کو نہیں پہنچا۔‘
’یورومومو‘ مختلف ممالک کے حساب سے اموات کے اعداد و شمار جاری نہیں کرتا، تاہم کئی یورپی ممالک کے صحت کے اداروں نے مئی کے آخر سے اگست تک کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق صرف آسٹریا، بیلجیئم، برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، پُرتگال اور سپین میں گرمی سے ہونے والی یا اضافی اموات کی تعداد 33 ہزار تک پہنچ چُکی ہے۔
دو خطرناک ہفتے
’یورومومو‘ کے تازہ ہفتہ وار اندازوں کے مطابق جُون کا آخری ہفتہ رواں موسمِ گرما کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز ہفتہ رہا، جس میں قریباً 16 ہزار اضافی ہلاکتیں ہوئیں۔
اس کے بعد جولائی کا پہلا ہفتہ آیا، جس میں قریباً 8 ہزار افراد جان سے گئے۔
دونوں ہفتوں کے دوران یورپ شدید گرمی کی ایک اور لہر کی لپیٹ میں تھا۔ وسیع پیمانے پر خشک سالی کے باعث جنگلات بہت خشک ہو گئے تھے جس سے آگ لگنے کے خطرات بھی بڑھ گئے تھے۔
تازہ اعداد و شمار میں آنے والے ہفتوں کے دوران تبدیلی ممکن ہے، اس لیے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ یا کمی واقع ہو سکتی ہے۔
’یورومومو‘ کے اعداد و شمار میں یورپ کے 23 ممالک شامل ہیں، جبکہ مشرقی یورپ کا کچھ حصہ اس نظام میں شامل نہیں ہے۔
جرمنی میں ریکارڈ اموات
یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں 9 اگست تک گرمی کی لہر سے قریباً 14 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ’2016 میں ریکارڈ مُرتب کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے یہ گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔‘
گرمی کی شدید لہر سے دیگر یورپی ممالک کی طرح جرمنی میں بھی 75 سال سے زیادہ عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
فرانس میں 7 ہزار 300 افراد ہلاک ہوئے
فرانس میں مئی کے آخر سے 22 جولائی تک شدید گرمی کے دوران قریباً 7 ہزار 300 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔
یہ ابتدائی تعداد ہے اور اس میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ جولائی کے آخر میں شروع ہونے والی گرمی کی طویل لہر حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔
سپین میں قریبا 4 ہزار 500 اموات ریکارڈ ہوئیں
سپین میں یکم جون سے 19 اگست تک گرمی سے مرنے والے افراد کی تعداد قریباً 4 ہزار 500 ریکارڈ کی گئی۔
یہ 2022 کے بعد اس عرصے کے دوران گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
سپین کے محکمہ موسمیات کے مطابق ’جولائی 2026 میں ملک کا مرکزی حصہ 1961 میں ریکارڈ کا سلسلہ مُرتب ہونے کے بعد مشترکہ طور پر سب سے گرم جولائی تھا۔‘
برطانیہ میں نیا ریکارڈ بننے کا خدشہ
برطانیہ کے صحت اور حفاظتی ادارے کے مطابق ’مئی اور جُون کے دوران گرمی سے ملک میں 2 ہزار 877 افراد جان سے گئے۔یہ تعداد 2022 کے موسمِ گرما کے 2 ہزار 985 کے ریکارڈ کے بہت قریب ہے۔‘
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے پورے سال میں گرمی سے ہونے والی اموات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں کیونکہ سال کے دوران مزید شدید گرمی بھی پڑی ہے۔
بیلجیئم میں 2 ہزار 570 افراد جان سے گئے
بیلجیئم میں آبادی کم ہونے کے باوجود گرمی سے مرنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ رہی۔
بیلجیئم کے قومی صحت کے ادارے کے مطابق 18 جون سے 17 جولائی تک ملک میں ہونے والی اضافی اموات کی تعداد 2 ہزار 570 رہی۔
یہ تعداد ستمبر میں دوبارہ اپ ڈیٹ کی جائے گی تاکہ اس میں 25 جولائی سے 16 اگست تک کا عرصہ بھی شامل کیا جاسکے۔ اسی دوران ملک کے جنگلات میں جدید تاریخ کی بدترین آگ شروع ہوئی تھی۔
نیدرلینڈز میں قریباً 1000 افراد کی ہلاکت
نیدرلینڈز کے صحت اور ماحولیات کے ادارے (آر آئی وی ایم) کے اعداد و شمار کے مطابق ’22 جُون سے 5 جولائی تک ملک میں قریباً 968 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔‘
آسٹریا اور پُرتگال میں بھی سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے
آسٹریا میں صحت اور تحفظِ خوراک کی ایجنسی نے بتایا کہ  ‘ملک میں رواں برس جُون میں گرمی سے 396 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘
سنہ 2017 سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق آسٹریا میں جُون کے مہینے میں گرمی سے ہونے والی اموات کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
دوسری جانب پُرتگال میں جُون کے وسط سے جولائی کے آخر تک 600 سے زیادہ اضافی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔

شیئر: