Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خواب پورے کروں گی‘، پاکستان آئیڈل جیتنے والی حرا قیصر کون ہیں؟

کراچی اور فیصل آباد کے سنیما گھروں میں ایونٹ کی سکریننگ بھی کی گئی (فوٹو: انسٹاگرام، لائف سٹائل پاکستان)
پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو کے زیرِ انتظام ہونے والا موسیقی کا مقابلہ ’پاکستان آئیڈل‘ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی حرا قیصر نے جیت لیا ہے۔
اتوار کی شب اختتامی تقریب میں ان کے نام کا اعلان کیا گیا۔
اس مقابلے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم بھی شریک ہوئے اور انہوں نے خصوصی پرفارمنس بھی دی۔
اس سے قبل سوپر فِنالے میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا اور ایک کے بعد جب دوسرا پرفارمر سامنے آتا تو سب کے ذہن میں یہی سوال پیدا ہوتا کہ شاید یہی ونر ہوگا، یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور بالآخر وہ نام بھی سامنے آیا جس نے اعزاز نے اپنا نام کیا۔
فیصل آباد سے سوپر فِنالے تک
رپورٹس کے مطابق ٹائیٹل جیتنے والی حرا قیصر کا تعلق ایک متوسط گھران سے ہے، انہوں نے پورے مقابلے کے دوران شاندار پرفارمنس دی اور ناظرین کے ساتھ ساتھ ججوں کے دل بھی جیت لیے۔
اعزاز جیتنے کے بعد حرا قیصر کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی والدین کی دعاؤں کی بدولت ممکن ہوئی اور اب وہ اپنے خواب پورے کرنے کے لیے ایک نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔

حرا قیصر کا تعلق فیصل آباد سے ہے (فوٹو: سکرین شاٹ)

سنیما گھروں میں سکریننگ
پاکستان آئیڈل کا ’سوپر فِنالے‘ اتوار کی رات کو پیش کیا گیا جس کے لیے کراچی اور فیصل آباد کے سنیما گھروں میں سکریننگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے جہاں لوگوں کی بڑی تعداد مقابلے کا آخری مرحلہ دیکھنے کے لیے پہنچی۔
اس مرحلے میں حرا قیصر کے علاوہ طرب نفیس، نبیل عباس، ماہم طاہر، روحان عباس، وقار حسین اور آریان نوید بھی پہنچے تھے۔
’پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں‘
سوپر فِنالے کی ایک اہم بات گلوکار عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان کی یادگار پرفارمنسز بھی تھیں، ان کے گانوں پر سننے والے جھومتے رہے، عاطف اسلم نے مقابلے کو ایک خوشگوار ایونٹ قرار دیا اور حرا قیصر کو مبارک باد دی، اسی طرح راحت فتح علی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ایسے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے پاکستان آئیڈل جیسے مزید پلیٹ فارمز بھی سامنے آنے چاہییں۔

فائنل مرحلے میں حرا قیصر کے علاوہ طرب نفیس، نبیل عباس، ماہم طاہر، روحان عباس، وقار حسین اور آریان نوید بھی پہنچے تھے (فوٹو: شوبز آن لائن)

پاکستان آئیڈل کیا ہے؟
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے آڈیشن ہوتے ہیں اور مطلوبہ معیار پر پورے اترنے والوں کو اگلے مرحلے میں جانے کی اجازت ملتی ہے۔
شروع میں یہ تعداد کم نہیں ہوتی مگر جیسے جیسے مراحل آگے بڑھتے ہیں یہ تعداد اس لیے کم ہوتی جاتی ہے کہ ناظرین اور ججز کے ووٹ کچھ کو بہتر اور کچھ کو کم بہتر قرار دیتے جاتے ہیں، جس کے ساتھ ہی کچھ نام مقابلے سے نکلتے جاتے ہیں۔
نام کم ہونے کے ساتھ مقابلہ بھی مزید سخت ہوتا چلا جاتا ہے، اس میں لوگوں کی دلچسپی بڑھتی ہے، سسپنس لمبا ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر فائنل مقابلے تک پہنچتی ہے۔
اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا، ملک کے مختلف حصوں میں آڈیشنز کیے گئے اور ان میں کافی لوگ منتخب بھی ہوئے، جن کو ججز اور ناظرین کے سامنے نہ صرف پرفارمنس دینا تھی بلکہ ان کے دل بھی جیتنا تھے۔

ایونٹ میں عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان نے بھی فن کا مظاہرہ کیا (فائل فوٹو: عرب نیوز)

یہ مقابلہ مختلف مراحل سے ہوتا ہوا اس آخری مرحلے تک پہنچا تھا۔
حرا قیصر کی جیت پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
سوشل میڈیا پر بھی اس مقابلے کے حوالے کافی جوش و خروش پایا گیا۔ پاکستان آئیڈل کا ایونٹ شروع ہونے کے ساتھ ہی یہ صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر بحث بھی تیز ہوتی گئی جو فائنل مقابلے تک عروج تک پہنچی۔
زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین حرا قیصر کو مبارک باد دے رہے ہیں جبکہ بعض کی طرف سے ملا جلا ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
جہاں متعدد صارفین نے حرا قیصر کو شاندار پرفارمنسز اور کامیابی پر مبارک باد دی، وہیں بعض صارفین نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے دیگر فائنلسٹس، خصوصاً طرب نفیس، کے حق میں بھی آواز اٹھائی۔
ایکس پر ریون نامی صارف نے حرا قیصر کی کامیابی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’پاکستان آئیڈل کے نتائج سے مایوس ہوں، طرب کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔‘

شبانہ شوکت نے حرا قیصر کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا، ’بہترین انتخاب، افسوس ہے ججز پر جنہیں طرب نفیس، روحان عباس، نبیل عباس، وقار حسین، سامعہ گوہر جیسے ورسٹائل سنگرز کی موجودگی میں یہ نصیبو لال 2 دکھائی دی، ماہم طاہر اور حرا قیصر ایک جیسا گاتی تھیں، کوئی versatility  نہیں تھی، وہ ہر بچے پر ہر طرح کی موسیقی پر گاتے تھے۔‘

ایک اور پوسٹ میں شبانہ شوکت نے لکھا، ’یہ انڈین آئیڈل جیتنے والی مناشی گھوش ہیں جنہوں نے ہر طرح کا گانا گایا۔ انڈیا میں گلی گلی اکیڈمیز کھلی ہوئی ہیں یا وہ بچپن سے بچوں کو راگ سکھاتے ہیں، الگ کہانی ہے، کیونکہ پاکستان آئیڈل میں بھی کنٹسٹنٹس بہت مشق کر کے آئے تھے اور بہترین فن پیش بھی کیا، مگر انتہائی متنازع کامیابی۔‘
تاہم دوسری جانب متعدد صارفین نے حرا قیصر کی جیت کو مکمل طور پر مستحق قرار دیا۔
ریحان خان نے کہا، ’لوگوں نے ورسٹائل ہونے کا لفظ سیکھا اور رکنے کا نام نہیں لے رہے، ورسٹائل ہونے کے ساتھ پرفارمنس بھی اچھی ہونی چاہیے۔ طرب کی آخری دو پرفارمنسز بالکل اچھی نہیں تھیں، جب بھی حرا قیصر نے پرفارم کیا، انہیں ججز کی جانب سے سٹینڈنگ اوویشن ملی۔ وہ پاکستان آئیڈل کی مستحق فاتح ہیں۔‘

حنان نے لکھا، ’پاکستان آئیڈل سیزن 2 کی فاتح! فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی حرا قیصر، بالکل اس کی مستحق تھیں۔‘

چوہدری فواد حسین  نے بھی حرا قیصر کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا، ’پاکستان آئیڈل 2026 بننے پر حرا قیصر کو مبارک باد، قابلِ فخر لمحہ۔ مستقبل کے لیے نیک خواہشات، جبکہ ٹیم پاکستان آئیڈل کو بھی ایسا کامیاب ایونٹ منعقد کرنے پر خراجِ تحسین۔‘

شعیب نے حرا قیصر کی پرفارمنس کو سراہتے ہوئے کہا، ’ایک گلوکار کے بارے میں کچھ خوبصورت ہے جسے گانا محسوس کروانے کے لیے اسے ضرورت سے زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ حرا قیصر کی ’زندگی تماشا بنی‘ پرفارمنس بے ساختہ، پُرسوز اور خوبصورت انداز میں پیش کی گئی۔ بطور موسیقی کے شوقین، میں اس پرفارمنس کو بار بار سن سکتا ہوں۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے۔‘

مدھا نے بھی حرا قیصر کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا، ’مجھے بہت خوشی ہے کہ کم از کم پاکستان میں کچھ اچھا ہوا۔ یہ دیکھنا شاندار ہے کہ ایک خاتون نے پاکستان آئیڈل کی ٹرافی جیتی، جس میں ان کی بے مثال صلاحیت، محنت اور لگن کو تسلیم کیا گیا۔ مبارک ہو حرا قیصر۔‘

اسی طرح عائلہ  نے پاکستان آئیڈل کے تمام فائنلسٹس کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے لکھا، ’پاکستان آئیڈل کے فائنلسٹس کے ساتھ کوک سٹوڈیو کا ایک سیزن شاندار ہوگا۔‘

 

شیئر: