’تماشا‘ کی سابق کنٹیسٹنٹ زینب راجہ کے شو پر سنگین الزامات، ’فاتحین پہلے سے طے ہوتے ہیں‘
زینب راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’شو کے ایک انتہائی مقبول کنٹسٹنٹ کی شادی ہو چکی تھی (فوٹو: یوٹیوب، سکرین گریب)
پاکستان کے مقبول رئیلٹی شو ’تماشا‘ کی سابقہ کنٹیسٹنٹ زینب راجہ نے پروگرام کے حوالے سے متعدد سنگین دعوے کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ’شو سکرپٹڈ ہے، مختلف سیزنز کے فاتحین پہلے سے طے کیے جاتے ہیں اور بعض کنٹیسٹنٹس کو خصوصی ترجیح دی جاتی ہے۔‘
نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے رئیلٹی شو ’تماشا‘ کے اب تک چار سیزنز سامنے آچکے ہیں جو 2022 سے 2025 کے درمیان نشر ہوئے جبکہ پانچواں سیزن اس وقت جاری ہے۔
گزشتہ برس نشر ہونے والے چوتھے سیزن میں سیف علی خان، مسلم، اومی، زینب راجہ، کنول فاروق اور یاسین سمیت کئی اداکاروں اور سوشل میڈیا شخصیات نے نے حصہ لیا تھا۔
سیزن فور میں نمایاں کھیل پیش کرنے والی زینب راجہ نے حالیہ دنوں میں انسٹاگرام سٹوریز میں شو کے پسِ پردہ معاملات سے متعلق اپنے تجربات اور دعوے شیئر کیے ہیں۔
زینب راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’شو کے ایک انتہائی مقبول کنٹیسٹنٹ کی شادی ہو چکی تھی اور اس کے دو بچے بھی تھے، تاہم ’تماشا‘ کے دوران اس نے خود کو غیر شادی شدہ ظاہر کیا۔ ان کے مطابق ’تماشا گھر میں موجود تمام افراد اس کی شادی سے واقف تھے اور وہ کنٹیسٹنٹس میں ٹاپ فائیو تک پہنچا تھا۔‘
زینب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب ان سے ’تماشا‘ کے سکرپٹڈ ہونے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے میزبان عدنان صدیقی سے کہا تھا، ’سکرپٹڈ ہے آپ کا شو‘، تاہم ان کے مطابق پروگرام کی حتمی نشریات میں ان کا جواب شامل نہیں کیا گیا اور صرف ان کے خاموش تاثرات دکھائے گئے۔
سابقہ کنٹیسٹنٹ نے دعویٰ کیا کہ ’مجھے شو کے اندرونی معاملات کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے سختی سے منع کیا گیا تھا۔‘
زینب راجہ نے مختلف سیزنز کے فاتحین کے لیے مبینہ پی آر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے سافٹ ویئر آپریٹرز سے چیک کیا جا سکتا ہے کہ کن کنٹیسٹنٹس کی ویڈیوز کے لیے پی آر کی گئی۔‘ ان کے بقول، ’بہت سے کنٹیسٹنٹس کی پی آر تھی۔‘
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’مرد کنٹیسٹنٹس کو گھر سے باہر جانے کی اجازت دی جاتی تھی اور انہیں فون کالز کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ سے رابطے کی سہولت بھی حاصل تھی، جسے زینب نے ناانصافی قرار دیا۔‘
زینب راجہ نے شو کے دیگر مبینہ پسِ پردہ معاملات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’کنٹیسٹنٹس کی بیڈ شیٹس دو ماہ تک تبدیل نہیں کی گئیں، جبکہ بعض شرکا کو گھر سے خطوط بھی موصول ہوئے۔‘
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’بادشاہ سلامت‘ کو مبینہ طور پر ایئر پیس کے ذریعے ہدایات دی جاتی تھیں۔ بعض اوقات سپیکر پر سنائی دینے والی آواز بھی دراصل بادشاہ سلامت کی نہیں ہوتی تھی بلکہ اسے بعد میں نشریات کے لیے ایڈٹ کیا جاتا تھا۔‘
زینب راجہ کے یہ تمام بیانات ’تماشا‘ میں ان کے ذاتی تجربے اور ان کے اپنے دعووں پر مبنی ہیں۔ تاحال شو کے پروڈیوسرز کی جانب سے ان الزامات پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
