Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خواتین کی جسامت عوامی بحث کا موضوع نہیں‘، نیمل خاور کا وزن پر بات کرنے والوں کو جواب

نیمل خاور کے مطابق کوئی بھی چیز دوسروں کو کسی خاتون کے جسم پر تبصرہ کرنے کی دعوت نہیں دیتی۔ (انسٹاگرام، نیمل خاور)
پاکستانی اداکارہ نیمل خاور نے خواتین کی جسامت اور ظاہری شکل پر بلا جھجک تبصرے کرنے کے رجحان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خاتون کے جسم میں آنے والی تبدیلیاں دوسروں کے لیے گفتگو یا تفریح کا موضوع نہیں ہونی چاہئیں۔
نیمل خاور نے انسٹاگرام سٹوری پر ایک ایسی سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کی جس میں ایک حالیہ شادی کی تقریب کے دوران ان کی تصاویر کے ساتھ ان کی ظاہری شکل میں تبدیلی کو نمایاں کیا گیا تھا۔ پوسٹ میں قیاس آرائی کی گئی کہ آیا اداکارہ حاملہ ہیں یا ان کا وزن بڑھ گیا ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے نیمل نے کہا کہ انہیں یہ بات حیران اور افسردہ کرتی ہے کہ لوگ کس قدر آسانی سے کسی عورت کے جسم پر اپنی رائے دینا اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزن میں کمی بیشی ایک فطری عمل ہے اور وہ بھی پانچ سال پہلے جیسی نظر نہیں آتیں۔ ان کے مطابق ماں بننے کے بعد ایک خاتون کی زندگی اور جسم میں ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جن کا اندازہ باہر سے لگانا ممکن نہیں۔


نیمل خاور نے اپنے وزن پر ہونے والی بحث کا جواب انسٹاگرام سٹوری پر دیا۔ (تصویر: نیمل خاور، کنزہ شوبز سکوپ)

نیمل نے واضح کیا کہ عمر، ہارمونز، ذہنی دباؤ، صحت، طرزِ زندگی اور بعض اوقات حمل سمیت مختلف عوامل خواتین کے جسم کو متاثر کر سکتے ہیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی چیز دوسروں کو کسی خاتون کے جسم پر تبصرہ کرنے کی دعوت نہیں دیتی۔
اداکارہ نے خواتین سے بھی مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر وہی جسم برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں جو ان کا پانچ سال پہلے، گزشتہ سال یا حتیٰ کہ گزشتہ ماہ تھا۔
نیمل خاور اور اداکار حمزہ علی عباسی 2020 میں ایک بیٹے کے والدین بنے تھے۔ نیمل اس سے قبل زچگی کے بعد پیش آنے والی ذہنی اور جذباتی مشکلات کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکی ہیں۔

شیئر: