Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئی فون کی اقساط یا وجہ کچھ اور؟ بیٹے سمیت ماں باپ کی پہاڑی سے گر کر ہلاکت کی کہانی میں نیا موٖڑ

انڈین ریاست مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کی پہاڑی سے گر کر ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات میں نیا رخ سامنے آیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 21 اگست کو چھترپتی سمبھاجی نگر کے تیس گاؤں کے قریب کھاوڈیا ڈونگر پہاڑی پر پیش آیا، جہاں کنال، اس کے 48 سالہ والد مرلی دھر چندگُڈے اور والدہ سنگیتا چندگُڈے ہلاک ہوگئے۔
ابتدائی طور پر 18 سالہ کنال چندگُڈے کے نئے آئی فون کی اقساط کے معاملے کو اس کے والد سے جھگڑے کی وجہ بتایا گیا تھا، تاہم اب پولیس خاندان کے اندر موجود اختلافات اور دیگر حالات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
انڈین ریاست مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کی پہاڑی سے گر کر ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات میں نیا رخ سامنے آیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 21 اگست کو چھترپتی سمبھاجی نگر کے تیس گاؤں کے قریب کھاوڈیا ڈونگر پہاڑی پر پیش آیا، جہاں کنال، اس کے 48 سالہ والد مرلی دھر چندگُڈے اور والدہ سنگیتا چندگُڈے ہلاک ہوگئے۔
ابتدائی طور پر 18 سالہ کنال چندگُڈے کے نئے آئی فون کی اقساط کے معاملے کو اس کے والد سے جھگڑے کی وجہ بتایا گیا تھا، تاہم اب پولیس خاندان کے اندر موجود اختلافات اور دیگر حالات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
واقعے سے قبل موقع پر موجود افراد کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
ویڈیوز میں کنال کو پہاڑی کے کنارے کھڑے جبکہ اس کی والدہ اور دیگر افراد کو اسے واپس آنے کے لیے مناتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں سنگیتا اپنے بیٹے سے واپس آنے کی اپیل کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ موقع پر موجود افراد بھی اسے سمجھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

 کنال نے ایک سال پہلے بھی خودکشی کی کوشش کی تھی

این ڈی ٹی وی نے پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کنال نے تقریباً ایک سال قبل بھی اسی پہاڑی پر خودکشی کی کوشش کی تھی۔
اس وقت پولیس اسے سمجھانے میں کامیاب ہوگئی تھی اور وہ واپس آگیا تھا، تاہم اس مرتبہ پولیس اور مقامی افراد کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے خاندان میں کشیدگی کا تعلق تقریباً چھ سال قبل جوڑے کے بڑے بیٹے کی بیماری کے باعث موت سے بھی جوڑا ہے۔
پولیس کے مطابق مرلی دھر ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے اور کئی ماہ تک گھر سے دور رہتے تھے۔ واقعے سے تقریباً دو روز قبل وہ تین ماہ بعد گھر واپس آئے تھے۔

کیا معاملہ صرف آئی فون کا تھا؟

واقعے کے فوراً بعد پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات میں آئی فون کی اقساط کو والد اور بیٹے کے درمیان جھگڑے کا فوری سبب بتایا گیا تھا۔
تاہم ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈپٹی کمشنر پولیس پنکج اتلکر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں خاندان کے اندر ’سنگین اختلافات‘ سامنے آئے ہیں اور پولیس اب ان کے پس منظر کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب سنگیتا کی بہن پلوی پاٹل نے آئی فون کی اقساط والی کہانی کو ’افواہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بات کرنے والے لوگ اصل حقائق سے واقف نہیں۔ پلوی پاٹل نے یہ بھی کہا کہ ’خاندان کے حالات کو جانے بغیر واقعے کو صرف آئی فون سے جوڑنا درست نہیں۔‘

’تم نے میرا خاندان برباد کر دیا‘ ماں کی ویڈیوز میں کیا کہا گیا؟

واقعے کے بعد سنگیتا کی ایک پرانی سوشل میڈیا پوسٹ بھی سامنے آئی جس میں انہوں نے خاندان کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق سنگیتا نے کسی شخص کا نام لیے بغیر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اور ان کے بیٹے کے جائیداد کے حقوق چھین لیے گئے، خاندان میں غلط فہمیاں پیدا کی گئیں اور ان کے بیٹے کو والدین سے دور کیا گیا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا: ’تم نے میرا خاندان برباد کر دیا۔‘
ان پوسٹس میں کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور یہ بھی واضح نہیں کہ سنگیتا کی مراد کس شخص یا افراد سے تھی۔ تاہم پولیس ان دعوؤں اور ان کے پس منظر کا جائزہ لے رہی ہے۔
ایک پرانی ویڈیو میں سنگیتا نے خاندان کے رشتوں اور جائیداد سے متعلق مسائل پر بات کرتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی بہن سمیت رشتہ داروں پر خاندان میں غلط فہمیاں پیدا کرنے اور جھگڑے کا الزام لگایا تھا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض رشتہ دار جائیداد میں حصہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور خاندان کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔
ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی جبکہ رپورٹس کے مطابق پولیس ان ویڈیوز کی صداقت اور ان کے پس منظر کا جائزہ لے رہی ہے۔

واقعے سے ایک روز پہلے کی ویڈیو

دوسری جانب سنگیتا کے یوٹیوب اکاؤنٹ پر 33 ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں اور وہ مراٹھی زبان میں موٹیویشنل ویڈیوز کے ساتھ اپنے بیٹے کنال کے مختصر وی لاگز بھی شیئر کرتی تھیں۔
سنگیتا نے واقعے سے ایک روز قبل یوٹیوب پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں وہ رشتوں، محبت اور باہمی قدر کے بارے میں بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق تقریباً ایک منٹ کی اس ویڈیو میں سنگیتا کہتی ہیں کہ اگر کوئی شخص آپ کی محبت، کوشش اور قدر نہیں کرتا تو ایسے رشتے میں بار بار کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
وہ رشتے کو روٹی کی مثال سے سمجھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ جس طرح روٹی دونوں طرف سے پکنے پر اچھی بنتی ہے، اسی طرح رشتہ بھی دونوں طرف سے کوشش اور قدر سے قائم رہتا ہے۔
تاہم دستیاب رپورٹس میں اس ویڈیو کو واقعے کی براہ راست وجہ قرار دینے کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔

 ماں بیٹے کی پرانی ویڈیوز بھی دوبارہ سامنے آگئیں

واقعے کے بعد کنال اور اس کی والدہ کی دو پرانی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔
ایک ویڈیو میں کنال اپنی والدہ کے ساتھ چائے پیتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری ویڈیو میں وہ اپنی والدہ کے پاؤں دھوتے اور ان سے آشیرواد لیتا نظر آتا ہے۔

شیئر: