منظر ذرا غور سے دیکھیں۔ ساحلِ سمندر پر ایک نوجوان لڑکی دُھوپ میں لیٹی ہے۔ ہاتھ میں موبائل نہیں ایک موٹا سا رُوسی ناول ہے جس کے صفحوں میں جگہ جگہ رنگ برنگے کاغذی نشان لگے ہیں۔
دُوسری ویڈیو میں ایک لڑکا بستر پر نیم دراز کیمرے کو بتا رہا ہے کہ آج رات وہ برادرز کرامازوف کے کتنے صفحے پڑھے گا؟ یہ کسی پُرانے زمانے کی فلم کے مناظر نہیں، 2026 کے ٹک ٹاک کی ویڈیوز ہیں، اور ایسی ایک دو نہیں، ہزاروں ہیں۔
جس ’جین زی‘ کے بارے میں ہم صبح شام سنتے ہیں کہ اس کے پاس 30 سیکنڈ سے زیادہ توجہ نہیں بچی، وہ 150 برس پُرانا ضخیم رُوسی ناول اٹھائے پھر رہی ہے۔ یہ قصہ سمجھنے کے لیے مگر پہلے لندن کے ایک گھر چلتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
کیا آپ کی زندگی کی چَس باقی ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 906823
-
پاکستانی فری لانسرز کا خواب کس نے بیچا تھا، توڑا کس نے؟Node ID: 907312
چند ہفتے قبل وہاں ایک نوجوان نے اپنی ماں سے پوچھا کہ ’ممی! آپ کے خیال میں اب مجھے برادرز کرامازوف (رُوسی مصنف دوستوئیفسکی کا شاہکار ناول) پڑھ لینا چاہیے؟
ماں صحافی ہیں، معروف برطانوی اخبار ڈیلی ’ٹیلی گراف‘ میں کالم لکھتی ہیں، نام جمائما لیوس۔ عام والدین ایسے موقعے پر خوشی سے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے کہ شاباش، اس عمر میں دوستوئیفسکی کا نام لے رہے ہو۔
جمائما لیوس اور اُن کے شوہر کا ردِعمل مگر خوشی سے زیادہ گھبراہٹ کا تھا۔ اُن کے نزدیک آج کے زمانے میں کسی نوجوان کے اندر کتاب پڑھنے کی عادت پیدا کرنا ایسا ہے جیسے نازک پہاڑی آرکڈ اپنے گھر میں اُگا رہا ہو، وہ پھول جو ذرا سی بے احتیاطی پر مُرجھا جاتا ہے۔
خدشہ یہ پیدا ہوا کہ اُن کا بچہ اگر سیدھا ساڑھے تین لاکھ سے زائد الفاظ کا وہ ناول اٹھا لے جس میں ایمان، آزاد مرضی، اخلاق اور خدا کے وجود پر صفحوں کے صفحے بحث ہوتی ہے اور 200 صفحے پڑھ کر تھک ہار کے بیٹھ جائے، تو خطرہ ہے کہ کہیں کتاب ہی سے نہ بِدک جائے۔ تحقیق پر مگر جمائما لیوس کو پتا چلا کہ بیٹا اکیلا نہیں پوری ایک نسل یہی ناول پڑھ رہی ہے۔
سمر آف دوستوئیفسکی
20 اگست کے ڈیلی ٹیلی گراف میں جمائما لیوس نے یہی قصہ اپنے کالم میں سنایا کہ سوشل میڈیا پر رواں سال کے موسم گرما کو باقاعدہ سمر آف دوستوئیفسکی کہا جا رہا ہے۔
ہوا یوں کہ یورپ اور برطانیہ میں اس بار ہیٹ ویو بہت شدید اور سخت رہی۔
باہر نکلنا عذاب، سو نوجوانوں نے وہی کیا جو ہم لوگ لوڈشیڈنگ کے زمانے میں کرتے تھے، یعنی صوفے پر دراز ہو کر کوئی موٹی سی کتاب کھول لی۔

اسی دوران یوٹیوب پر فلسفے کا مواد بنانے والے جو فولی نامی نوجوان نے اپنے ہزاروں فولوورز کے ساتھ برادرز کرامازوف کا ہفتہ وار اجتماعی مطالعہ شروع کر دیا۔
ہر ہفتے اتنے صفحے پڑھنے ہیں، پھر مل بیٹھ کر بات ہوگی۔ ادھر ٹک ٹاک پر انہی ویڈیوز کا سیلاب آگیا جن کا ذکر اوپر ہوا، پینگوئن کلاسکس کے پیپر بیک ایڈیشن، کتابوں میں لگے کاغذی نشان۔
جمائما لیوس اس سارے منظر میں تھوڑی سی نمائش اور شوشا بھی دیکھتی ہیں کہ کتاب پڑھنے کے ساتھ یہ دکھانا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ دیکھو، میں دوستوئیفسکی جیسے بڑے اور سنجیدہ ادیب کو پڑھ رہا ہوں۔
اس کے باوجود وہ خود ہی لکھتی ہیں کہ نمائش سے قطعِ نظر بنیادی بات حیران کن ہے۔ 146 برس پُرانا ناول، جو اچھا خاصا مشکل ہے، جس میں طویل بحثیں ہیں، آخر وہ اس نسل کی بکھری ہوئی توجہ کھینچنے میں کامیاب ہو گیا جس کے بارے میں عام خیال تھا کہ وہ چند سکینڈ کی ریل سے آگے کچھ برداشت نہیں کر سکتی۔
آغاز ایک پتلی سی کتاب سے ہوا
ویسے یہ رُجحان برادرز کرامازوف سے شروع نہیں ہوا۔ 2026 میں برطانیہ کے مشہور بک ٹاک کرییٹر جیک ایڈورڈز نے دوستوئیفسکی کے ایک چھوٹے سے ناول ’وائٹ نائٹس‘ کا جائزہ لیا۔

یک طرفہ محبت کی اُداس سی کہانی جو ایک نشست میں ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پینگوئن کلاسکس کا وہ مختصر ایڈیشن 2026 کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ادبی شاہکار بن گیا۔
پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ جس نے وائٹ نائٹس پڑھی، اس نے اگلا قدم اٹھایا۔ دوستوئیفسکی کے مشہور ناول کرائم اینڈ پنشمنٹ (جُرم اور سزا) کی فروخت بڑھی، ’نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ‘ کی سیل بڑھی اور نوبت برادرز کرامازوف تک جا پہنچی۔
ٹیلی گراف کے اس کالم کے مطابق ایک زمانے میں دوستوئیفسکی پینگوئن کلاسکس کے کم بکنے والے مصنفوں میں شمار ہوتے تھے، اب فہرست میں بہت اُوپر جا چکے ہیں۔
اس پورے واقعے سے سادہ سا نتیجہ نکلا، وہی جو ہمارے بابے صدیوں سے سمجھاتے رہے ہیں کہ کسی کو گہرے پانی میں لے جانا ہو تو پہلا قدم گھٹنوں تک پانی میں رکھوایا جاتا ہے، دھکا دے کر نہیں پھینکا جاتا۔
ہر نسل اپنا مصنف خود ڈھونڈ لیتی ہے
مجھے جمائما لیوس کا کالم پسند آیا، اس کا ایک جملہ خُوب صورت لگا کہ ہر نسل بالآخر انہی مصنفوں سے جُڑ جاتی ہے جن کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔
جمائما لیوس نے اس بات کی تشریح بھی کی۔ اُن کے خیال میں دوستوئیفسکی کی سنجیدگی اور گہرائی ان نوجوانوں سے بات کرتی ہے جو خود ایک سنجیدہ اور پیچیدہ زمانے میں جوان ہو رہے ہیں۔

ہم جنریشن زی کو میمز اور ریلز کی نسل سمجھ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ یہ نسل مگر ایسے وقت میں پل کر جوان ہوئی ہے جب مستقبل کا کچھ پتا نہیں، نوکری کی ضمانت نہیں، مشرق ہو یا مغرب ہر جگہ سماج بُری طرح سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔
جنگیں جاری ہیں، انسان کی جگہ اے آئی مشین لانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور تنہائی باقاعدہ بیماری کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ ایسے میں دوستوئیفسکی کے وہ کردار جو کمرے میں بند بیٹھے اپنے آپ سے لڑ رہے ہوتے ہیں، اچانک اجنبی نہیں لگتے دلچسپ بات یہ کہ دوستوفسکی دائیں اور بائیں بازو، دونوں کو بھاتے ہیں۔
کالم نگار نے باقاعدہ حوالہ دیا کہ ایلون مسک اور جارڈن پیٹرسن جیسے دائیں بازو کے لوگ ان کا نام لیتے رہتے ہیں، کیونکہ دوستوئیفسکی اپنے کرداروں کو ایک دوسرے کے بالکل اُلٹ خیالات پوری قوت سے بیان کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ اُدھر بائیں بازو کے نوجوان کو بھی یہی چیز اچھی لگ سکتی ہے۔
خاکسار کے نزدیک اصل نکتہ یہی ہے۔ ہمارے زمانے کی ہر چیز جواب دینے پر تُلی ہوئی ہے۔ گوگل جواب دیتا ہے، اے آئی جواب دیتی ہے، اینکر جواب دیتا ہے، سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا سیل جواب دیتا ہے۔ دوستوئیفسکی جواب نہیں دیتا۔ وہ قاری کو سوالوں کے بیچ لا کر چھوڑ دیتا ہے کہ اب خود سوچو۔ شاید اسی چیز کی قِلت ہے۔

ٹیلی گراف کے اس اہم کالم کے اختتام میں مصنفہ نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا ان کے بچے کی ضرورت کو ان سے بہتر جانتا ہے۔
اب ذرا اپنے گھر کی طرف
یہ کالم پڑھ کر میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ کیا ہمارے ہاں پاکستان میں بھی ایسا ہو سکتا ہے؟ پہلا ردِعمل مایوسی کا ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل تو کتاب سے دُور جا چکی۔ پھر فوراً ہی خیال آیا کہ ہمارے زمانے میں بھی کون سا پورا محلہ قرۃ العین حیدر کا ناول ’آگ کا دریا‘ پڑھ رہا تھا؟
ہم لڑکے اشتیاق احمد کے جاسوسی ناول پڑھتے تھے، ابنِ صفی اور پھر مظہر کلیم کی عمران سیریز، مختلف قسم کے ڈائجسٹ، اور نسیم حجازی کے ناول محلے کی کرائے والی لائبریری سے لاتے تھے۔
اسے تب بھی ادبِ عالیہ نہیں مانا جاتا تھا مگر بعد میں اسی راستے سے چل کر میرے جیسے بہت سے لوگ منٹو، بیدی، کرشن چندر، غلام عباس اور پھر بعد کے لکھنے والوں کے کام تک پہنچے۔ داخلے کا دروازہ ہمیشہ ایسے ہی ہوتا ہے۔
کوئی سیدھا غالب سے شروع نہیں کرتا۔ ہماری آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ 30 برس سے کم عمر ہے۔ اتنے بڑے ہجوم میں سے ایک فیصد بھی سنجیدہ قاری نکل آئے تو ناشروں کی زندگی اور تقدیر بدل جائے۔ مسئلہ قاری کی کمی کا نہیں، اس تک بات پہنچانے والے کی کمی کا ہے۔

ہمارے پاس تو خزانہ پڑا ہے
سوچیں، کل کو لاہور یا کراچی کا کوئی نوجوان ولاگر کیمرہ آن کر کے ہفتہ وار مطالعے کا سلسلہ شروع کر دے تو مواد کہاں سے لائے گا؟ کہیں سے نہیں، سب کچھ الماری میں پڑا ہے۔
عبداللہ حسین کی ’اُداس نسلیں‘ 60 کی دہائی میں چَھپی اور اردو ناول کا معیار بدل گئی۔ تقسیم، پہلی جنگِ عظیم، کسان، جاگیر اور ان سب کے بیچ ایک آدمی کی اندرونی شکست۔ یہ ناول آج کے نوجوان کو بھی اتنا ہی بے چین کر سکتا ہے۔ بانو قُدسیہ کا راجہ گِدھ 80 کی دہائی میں آیا اور آج تک بحث جاری ہے۔
حرام رزق اور جُنون کے تعلق والا نظریہ درست ہے یا نہیں، الگ بحث ہے، مگر سوچیں تو اس ایک موضوع پر ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر کیسی زوردار بحث چھڑ سکتی ہے؟
جمیلہ ہاشمی کے ناول ’تلاشِ بہاراں‘ کو آدم جی ایوارڈ ملا تھا مگر کسی نے حسین بن منصور حلاج پر ان کا ناول ’دشتِ سوس‘ پڑھا ہو تو کیا اسے بھلا سکتا ہے؟ مفتی کا ’علی پور کا ایلی‘ ایک عجب دنیا سے روشناس کراتا ہے، آپ اسے بے شک مسترد کر دیں، مگر لُطف تو لیں گے ہی۔
مستنصر حسین تارڑ نے تو ہر عمر کے قاری کے لیے کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔ ’پیار کا پہلا شہر‘ اُن کا پہلا اور سب سے مشہور ناول ہے، محبت اور پردیس کی وہ کہانی جس نے پوری ایک نسل کو ناول کی طرف کھینچا۔

جپسی ہے، ڈاکیا اور جولاہا جس میں طوفانی عشق کی کہانی ہے۔ پھر تارڑ کا شاہکار بہاؤ آتا ہے۔ ’بہاؤ‘ جسے اردو کے 10 بڑے ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے زمانے کی ایک بستی جس کا دریا آہستہ آہستہ سُوکھ رہا ہے اور لوگ بے بسی سے اپنی دنیا ختم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
آج جب ہم موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے بحران کے سائے میں بیٹھے ہیں، اس سے زیادہ اہم ناول کون سا ہوگا؟ یہ فہرست خدا کی بستی، جانگلوس، کئی چاند تھے سرِآسمان، نولکھی کوٹھی، غلام باغ، ناخدا وغیرہ تک جاتی ہے۔
دوستوئیفسکی خود بھی ہمارے لیے اجنبی نہیں، برادرز کرامازوف اور کرائم اینڈ پنشمنٹ سمیت روسی ادب کے اردو تراجم بازار میں موجود ہیں۔ بُک کارنر جہلم نے قریباً پورا دوستوئیفسکی، چیخوف، ٹالسٹائی، گورکی، شولوخوف وغیرہ کے تراجم شائع کر دیے۔
یہ ہوگا کیسے؟
اس پر سوچنا چاہیے، کھپنا چاہیے، ڈسکشنز ہونی چاہییں۔ میں ادب کا ایک عام طالب علم ہوں، مگر یہ بات مجھے سمجھ آتی ہے کہ یہ اساتذہ کے وعظ سے نہیں ہوگا۔ یہ کام وہی کریں گے جن کی زبان نئی نسل سمجھتی ہے۔
کوئی ولاگر، کوئی ٹک ٹاکر جو کیمرے کے سامنے کتاب کی بات ایسے کرے جیسے دوست دوست سے کرتا ہے، لیکچر دینے والے استاد کی طرح نہیں۔













