بلوچستان: سرکاری اسلحے کی چوری اور کالعدم تنظیموں کو فروخت کا انکشاف
بلوچستان: سرکاری اسلحے کی چوری اور کالعدم تنظیموں کو فروخت کا انکشاف
جمعرات 20 اگست 2026 10:20
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
نام ظاہر نہ کرنے والے پولیس افسر کا کہنا ہے اسلحہ واٹس ایپ کے ذریعے کھلے عام فروخت کیا جاتا رہا (فائل فوٹو: روئٹرز)
بلوچستان میں سرکاری اسلحے کی بڑے پیمانے پر چوری اور کالعدم تنظیموں کو فروخت کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اسی سلسلے میں سابق لیویز اور موجودہ پولیس افسر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
چند ماہ قبل ہونے والی اس کارروائی کو منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ رواں سال مئی میں اس وقت کھلا جب کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں محکمہ ایکسائز نے معمول کی چیکنگ کے دوران ایک گاڑی سے اسلحہ برآمد کیا اور بعد میں یہ کیس مزید تفتیش کے لیے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کیا گیا۔
سی ٹی ڈی نے بعد میں کوئٹہ کے علاقے کلی نوحصار میں ایک گھر سے مزید اسلحہ برآمد کر کے دو ملزموں کو گرفتار کیا۔
ان میں سے ایک ملزم روشن خان کی ڈیوٹی لیویز کے اسلحہ خانے میں تھی، بعد میں لیویز اسلحہ خانے کے انچارج عبدالحکیم کو بھی گرفتار کر کے تفتیش میں شامل کیا گیا۔
18 مئی 2026 کو سب انسپکٹر شائستہ خان کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمہ نمبر71/2026 میں ملزمان کے خلاف دھماکہ خیز مواد ایکٹ کی مختلف دفعات، بلوچستان آرمز ایکٹ اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات لگائی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن مطابق ’سی ٹی ڈی کو مخبر خاص نے فون پر اطلاع دی کہ روشن خان جو کہ لیویز ملازم ہے اور اپنے دیگر ساتھیوں محمد شفیق، حنیف بڑیچ کے ساتھ مل کر کالعدم تنظیموں کو دہشت گردی کے لیے گولہ بارود اور اسلحہ فراہم کرتا ہے۔‘
بلیلی میں معمول کی چیکنگ کے دوران ایک گاڑی سے اسلحہ برآمد ہونے کے بعد کیس سی ٹی ڈی کو دیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’روشن وغیرہ اس وقت بھی بھاری مقدار میں گولہ بارود و اسلحہ ایمونیشن کے ساتھ اپنے گھر واقع کلی نوحصار میں موجود ہیں اور اسے کہیں اور منتقل کرنے کا پروگرام ہے، اس اطلاع کے بعد سی ٹی ڈی تی کی ٹیم نے روشن خان کے مکان پر چھاپہ مارا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’چھاپے کے دوران روشن خان اور اس کے ساتھی محمد شفیق کو گرفتار کر کے قبضے سے دو عدد نائن ایم ایم پستول برآمد کیے گئے۔ ایک گھر سے دیوار پھلانگ کر فرار ہو گیا جس کا نام حنیف بڑیچ معلوم ہوا۔‘
مزید لکھا گیا ہے کہ ’گھر کی مزید تلاشی پر آٹھ بوریوں اور ایک لکڑی کے بکس سے بھاری اسلحہ برآمد ہوا۔ اس میں چار سب مشین گنز (ایس ایم جیز)، چھ چینی ساختہ رائفلیں، تین لائٹ مشین گنز(ایل ایم جی)، پانچ تھری ناٹ تھری رائفلیں، ایک جی تھری رائفل، بارہ اور بائیس بور کی دو رائفلیں، پانچ ہزار سے زائد گولیاں اور درجنوں میگزین شامل تھے۔‘
’اس کے علاوہ 16 راکٹ گولے، انہیں داغنے والے دو لانچر، 18 فیوز اور دس دستی بم بھی برآمد ہوئے۔ دو دستی بم اور اٹھارہ فیوز کو خطرناک قرار دے کر موقع پر ہی تلف کر دیا گیا جبکہ باقی اسلحہ قانونی کارروائی کے تحت قبضے میں لے لیا گیا۔‘
پولیس نے اس کیس میں ملوث لیویز کے سابق افسر اور موجودہ پولیس کے ڈی ایس پی عبدالحکیم کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
19اگست کو پولیس ترجمان کے دفتر سے جاری بیان کہا گیا کہ ’عبدالحکیم کو مسلسل غیر حاضررہنے، شدید بدتمیزی اور کسی بھی سرکاری شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے پر سرکاری ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔‘
بلوچستان میں لیویز فورس کو چند برس قبل پولیس میں ضم کر دیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ سرکاری اہلکار یہ اسلحہ سرکاری گاڑی میں دفتر سے نکال کر پھر اسے کوئٹہ، پشین، افغان سرحدی علاقوں قلعہ عبداللہ، گلستان سمیت مختلف علاقوں میں لے جا کر فروخت کر دیتے تھے۔
ان کے بقول ’تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے خریدار کی شناخت جانے بغیر بھی کھلے عام اسلحہ بیچا جاتا رہا اس لیے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے کارندوں کو بھی اسلحہ بیچا گیا ہے۔‘
پولیس افسر نے بتایا کہ اس معاملے میں گرفتاریوں کے بعد سے اسلحہ خریدنے والوں کے موبائل نمبرز مسلسل بند جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل لیویز کے دفتر سے قیمتی و حساس اسلحے، سرکاری سامان اور مشینری کی چوری کی یہ پہلی واردات نہیں تھی بلکہ اس سے قبل بھی کئی چوریاں ہو چکی تھیں۔
پولیس افسر کے مطابق ان میں سے اکثر واقعات اس وقت پیش آئے جب ڈیڑھ سو سال پرانی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے اس کے اثاثے منتقل کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق لیویز دفتر سے مزید کتنا سامان چوری ہوا اس کی تحقیقات جاری ہیں تاہم سی ٹی ڈی کو دباؤ اور عدم تعاون کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
لیویز کے سابق حکام نے اب تک اسلحے اور دیگر سامان کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے کئی ماہ گزرنے کے باوجود سی ٹی ڈی کی جانب سے کیس کا چالان ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزموں کی گرفتاری کے بعد تحقیقات جاری ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ دفتری سامان اور اسلحے کا درست ریکارڈ، سٹاک رجسٹر اور گاڑیوں کے لاگ بکس جیسی سرکاری دستاویزات منظم نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس کی تفتیش میں کرپشن کی تحقیقات کرنے والے دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق ’سرکاری اسلحے کے علاوہ مختلف مقدمات میں ضبط شدہ سامان، اینٹی رائٹ آلات اور بلٹ پروف جیکٹوں کے غائب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔‘
اسی طرح بلوچستان لیویز کے ایک سابق سینئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک تحریری بیان شیئر کیا۔ یہی بیان بلوچستان لیویز ڈائریکٹوریٹ فورس کے نام سے فیس بک پیج پر بھی شائع کیا گیا۔
اس بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جس وقت چوری کا واقعہ پیش آیا اس وقت محکمہ داخلہ بلوچستان کے تین فروری 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت لیویز فورس مکمل طور پر بلوچستان پولیس میں ضم ہو چکی تھی اور اس کے تمام اثاثے اور ذمہ داریاں پولیس کو منتقل ہو چکی تھیں۔
بیان کے مطابق ’دونوں گرفتار اہلکار اگرچہ ماضی میں لیویز سے وابستہ رہے لیکن گرفتاری کے وقت وہ باضابطہ طور پر بلوچستان پولیس کے ملازم تھے کیونکہ انضمام مکمل ہو چکا تھا۔ دونوں ملزمان اس وقت جیل میں ہیں اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔’
ایف آئی آر کے مطابق لیویز کا ایک ملازم کالعدم تنظیموں کو دہشت گردی کے لیے گولہ بارود و اسلحہ فراہم کرتا تھا (فوٹو: گیٹی امیجز)
بیان میں مزید کہا گیا کہ سابق لیویز ڈائریکٹوریٹ کی عمارت انضمام کے بعد محکمہ داخلہ کو الاٹ کی جا چکی تھی جہاں بعد میں صوبائی وزیرِ داخلہ کا دفتر قائم ہوا اس لیے اسے موجودہ فعال لیویز دفتر قرار دینا درست نہیں۔
اس میں یہ بھی کہا گیا کہ 22 اپریل 2026 کو محکمہ خزانہ کی دستاویز کے تحت لیویز ڈائریکٹوریٹ کی بارہ کیڈر پوسٹیں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ کسی بھی مالی یا اسلحہ سکینڈل کی ذمہ داری کا تعین ماضی کی ملازمت کے بجائے اس وقت کی ادارہ جاتی صورت حال اور تحقیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسلحے یا سرکاری سامان کی گمشدگی سے متعلق کسی بھی دعوے کی تصدیق کے لیے مال خانے، اسلحہ رجسٹر، اثاثوں اور پولیس کو حوالگی کے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ ضروری ہے اور موجودہ تحقیقات میں دونوں گرفتار اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔