Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیکٹ چیک: ’مہک پنڈی والی‘ کی چھکے لگاتے ہوئے وائرل ویڈیوز، حقیقت کیا ہے؟

فیکٹ چیک میں انکشاف ہوا ہے کہ ’مہک پنڈی والی‘ کے نام سے وائرل ہونے والی ویڈیو حقیقی نہیں (فوٹو: آئی ویریفائی)
سوشل میڈیا پر گذشتہ چند روز سے ایک لڑکی کی ٹیپ بال کرکٹ کھیلتے ہوئے چھکے لگانے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہے، جسے صارفین ’مہک پنڈی والی‘ کے نام سے شیئر کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں لڑکی کو مردوں کے ٹیپ بال کرکٹ میچ میں زبردست بیٹنگ کرتے اور بڑے چھکے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین اسے غیر معمولی کرکٹ ٹیلنٹ قرار دے رہے ہیں۔
تاہم فیکٹ چیک میں انکشاف ہوا ہے کہ ’مہک پنڈی والی‘ کے نام سے وائرل ہونے والی ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار اور ڈیجیٹل طور پر تبدیل کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھنے والے صارفین نے لڑکی کی بیٹنگ کو غیر معمولی قرار دیا اور اس کے چھکوں کی تعریف کی، جبکہ بعض صارفین نے ویڈیو کی حقیقت پر بھی سوال اٹھائے۔
یہ ویڈیو 18 اگست 2026 سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہے۔ فیس بک پر ایک صارف نے اسے ’چیک دی شاٹ‘ کے کیپشن کے ساتھ شیئر کیا، جسے قریباً 7 کروڑ 50 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا، جبکہ اسی ویڈیو کا کلوز اپ زاویہ بھی شیئر کیا گیا جسے 54 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔
ٹک ٹاک پر ایک صارف نے یہی کلپ ’مہک پنڈی والی کا زبردست چھکا‘ کے کیپشن کے ساتھ شیئر کیا، جسے ایک کروڑ 9 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا، جبکہ ایک اور صارف نے اسے ’ناقابل یقین چھکا‘ قرار دیتے ہوئے پوسٹ کیا، جسے 2 لاکھ 62 ہزار مرتبہ دیکھا گیا۔

ویڈیو ایکس پر بھی وائرل ہوئی، جہاں ایک پوسٹ کو ایک لاکھ 90 ہزار مرتبہ دیکھا گیا (فوٹو:آئی ویریفائی)

ویڈیو ایکس پر بھی وائرل ہوئی، جہاں ایک پوسٹ کو ایک لاکھ 90 ہزار مرتبہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ انسٹاگرام، یوٹیوب، ایکس اور ٹک ٹاک پر کرکٹ سے متعلق متعدد اکاؤنٹس نے بھی ویڈیو شیئر کی، جنہیں مجموعی طور پر 4 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران لڑکی کو مختلف لباس اور مختلف کیمرہ زاویوں میں بیٹنگ کرتے دکھانے والی مزید ویڈیوز بھی ٹک ٹاک پر سامنے آئیں، جنہیں مجموعی طور پر 57 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔

اصل ویڈیو سے حقیقت سامنے آگئی

ویڈیو کی غیرمعمولی مقبولیت اور مقامی کرکٹ میں عوام کی دلچسپی کے پیش نظر دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے آئی ویریفائی نے فیکٹ چیک شروع کیا، جس کے دوران متعلقہ الفاظ اور تصویری تلاش کے ذریعے 2 اگست 2026 کو ’ٹیپ بال وائس‘ نامی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اصل ویڈیو کا سراغ ملا۔

 اصل ویڈیو میں وہی پچ، وکٹ کیپر، دوسرے بلے باز، روشنی اور دیگر مناظر موجود ہیں (فوٹو: آئی ویریفائی)

 اصل ویڈیو میں وہی پچ، وکٹ کیپر، دوسرے بلے باز، روشنی اور دیگر مناظر موجود ہیں جو وائرل ویڈیو میں دکھائی دیتے ہیں، تاہم اصل ویڈیو میں کریز پر موجود بلے باز لڑکی نہیں بلکہ ایک مختلف شخص تھا۔
بعد میں اصل بلے باز کو ڈیجیٹل طریقے سے تبدیل کرکے اس کی جگہ لڑکی کا چہرہ اور جسم دکھایا گیا، جس کے بعد ویڈیو کو ’مہک پنڈی والی‘ کے نام سے سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
فیکٹ چیک کے دوران ایسی مزید ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں مبینہ طور پر یہی لڑکی مختلف لباس، مقامات اور کیمرے کے زاویوں میں بیٹنگ کرتی دکھائی گئی۔
ان ویڈیوز کو بھی لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا، تاہم ان کے حقیقی ہونے کا کوئی قابل اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔

وائرل ویڈیو کو مصنوعی ذہانت کی شناخت کرنے والے مختلف ذرائع سے بھی جانچا گیا (فوٹو: آئی ویریفائی)

وائرل ویڈیو کو مصنوعی ذہانت کی شناخت کرنے والے مختلف ذرائع سے بھی جانچا گیا۔
اگرچہ کچھ ذرائع نے ویڈیو کو مصنوعی ذہانت سے تیارکردہ قرار نہیں دیا، تاہم ’ہائو موڈریشن‘ نے ویڈیو میں 54.6 فیصد مصنوعی ذہانت سے تیارکردہ مواد کا امکان ظاہر کیا۔
اسی طرح ’این ویڈیا‘ کے ذریعے کیے گئے تجزیے میں ویڈیو کا مصنوعی مواد کا سکور 33.3 فیصد رہا، جو اس کے مقررہ 30 فیصد معیار سے زیادہ ہے اور ویڈیو کے مصنوعی یا مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے کے امکان کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم فیکٹ چیک میں اصل ویڈیو کا سُراغ ملنا اس معاملے میں زیادہ اہم ثبوت قرار دیا گیا (فوٹو: آئی ویریفائی)

تاہم فیکٹ چیک میں اصل ویڈیو کا سُراغ ملنا اس معاملے میں زیادہ اہم ثبوت قرار دیا گیا، کیونکہ اصل فوٹیج میں وہی کرکٹ میچ اور مناظر موجود ہیں لیکن کریز پر موجود بلے باز مختلف ہے۔

 کیا ’مہک پنڈی والی‘ نے واقعی وہ چھکے لگائے؟

فیکٹ چیک کے مطابق نہیں۔ سوشل میڈیا پر ’مہک پنڈی والی‘ کے نام سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں لڑکی کو چھکے لگاتے دکھانے والا دعویٰ غلط ہے، کیونکہ اصل ویڈیو میں کریز پر موجود بلے باز لڑکی نہیں بلکہ ایک مختلف شخص تھا۔
 

شیئر: