ایک وائرل ویڈیو نے انڈیا میں تہذیب، روایت اور ایٹی کیٹ کی بحث چھیڑ دی ہے۔ انڈیا میں کھانے کا معاملہ صرف ذائقے تک محدود نہیں۔ یہاں کھانا روایت بھی ہے اور ثقافت بھی۔ بعض اوقات یہ ایک یاد بھی ہے اور کہیں شناخت کا حصہ بھی۔
در اصل ایک فائو سٹار ہوٹل کے مبینہ ویڈیو میں ایک شخص چھری اور چمچے کے ساتھ ڈوسا کھانے کے ’مہذب‘ طریقے کا باضابطہ ڈیمو دے رہا ہے اور اسی ویڈیو نے ایک سادہ سے سوال کو جنم دے دیا کہ ڈوسا کیسے کھایا جائے؟
سوشل میڈیا پر اس کے متعلق ایسی بحث چھڑ گئی کہ لوگ چھری کانٹے سے لے کر ہاتھ سے کھانے کی روایت تک یعنی مختلف قسم کے طریقوں کا ذکر کرنے لگے۔
مزید پڑھیں
-
پونے کے لوہ گڑھ قلعے میں قتل:’وائرل پوسٹ اور شدید گرمی میں ہُڈی‘Node ID: 905754
ویڈیو میں وہ کانٹے اور چمچ کی مدد سے ڈوسے کو موڑتے، کاٹتے اور پھر چھوٹے لقموں کی صورت میں کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔
’دی ہندوستان ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کا مؤقف تھا کہ ریسٹورنٹ میں برتنوں کا استعمال کھانے کو زیادہ صاف ستھرا، باوقار اور نفیس انداز میں کھانے میں مدد دیتا ہے۔ حتیٰ کہ ڈاکٹروں کے لیے منعقدہ ایک سیشن میں بھی انہوں نے ڈوسا کھانے کے آداب سکھائے۔
لیکن سوشل میڈیا کو یہ ’نفاست‘ اور ’مہذب‘ طریقہ کچھ زیادہ ہی گراں گزرا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’امریکہ اور یورپ میں بھی ڈوسے کو ہاتھ سے ہی کھایا جاتا ہے۔ نہ جانے یہ کس تہذیب کی نقل کر رہے ہیں۔‘
Even people in the US and Europe eat dosa with hand …
Not sure whose tradition is this person honouring. This is the same person who goes abroad and tries to eat Pizza with fork and spoon pic.twitter.com/pJHe7ru7dX
— Vineeth K (@DealsDhamaka) August 17, 2026
ویڈیو وائرل ہوتے ہی لوگوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ڈوسا، جو جنوبی انڈیا کے گھروں اور ریستورانوں میں نسلوں سے ہاتھ سے کھایا جاتا رہا ہے، اسے اچانک چمچ اور کانٹے کے ذریعے کھانے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟
ایک صارف نے لکھا کہ ’ہندوستانی کھانے ہندوستانی انداز میں کھائیے‘ جبکہ ایک اور نے کہا کہ ’میں اس طرح ڈوسا کھا ہی نہیں سکتا۔‘ کسی نے طنزیہ انداز میں مشورہ دیا کہ ڈوسے کو ڈوسا ہی رہنے دیں ’اسے سرجری نہ بنائيں۔‘
ایک اور دلچسپ تبصرہ تھا کہ ’اتنی دیر میں تو میرا ڈوسا ہی ختم ہوجائے گا۔‘ یعنی معاملہ صرف آداب کا نہیں رہا، رفتار بھی بحث کا حصہ بن گئی۔ اب ڈوسے کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’مسالہ ڈوسا کے علاوہ سارے ڈوسے چھری چمچ سے کھائے جا سکتے ہیں۔‘
’انڈیا ٹوڈے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ انڈیا میں ’کھانا کیسے کھایا جائے‘ کے موضوع پر پہلی بحث نہیں ہے۔ گزشتہ برس سموسہ کھانے کے آداب سکھانے والی ایک ویڈیو نے بھی خاصا ہنگامہ برپا کیا تھا۔ اس میں ایک ایٹی کیٹ کوچ نے کانٹے اور چاقو سے سموسہ کاٹ کر کھانے کا طریقہ بتایا۔ لوگوں نے اس حرکت کو انڈین اسٹریٹ فوڈ کو ’مغربی رنگ‘ دینے کی کوشش قرار دیا۔ ایک صارف نے طنز کیا کہ ’جب تک اس طرح سموسہ کھایا جائے گا، چٹنی بھی ریٹائر ہوجائے گی۔‘
اس سے قبل پانی پوری بھی اس بحث سے محفوظ نہیں رہی۔ ایک سال قبل سنہ 2025 میں دہلی کی ایک پرسنیلٹی ڈیولپمنٹ کوچ نے ویڈیو میں گول گپہ کانٹے اور چمچ سے کھانے کا طریقہ دکھایا تھا تاکہ میک اَپ خراب نہ ہو۔ ویڈیو میں پوری کو کٹلری سے توڑ کر کھانے اور پانی الگ پینے کا مشورہ دیا گیا۔ اس پر بھی سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل دیا تھا۔
یہ تمام واقعات ایک دلچسپ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا کھانے کے آداب کی کوئی ایک عالمی تعریف ہوسکتی ہے؟
شاید نہیں۔ چمچ، کانٹا اور چھری کا استعمال کرنا اپنی جگہ ایک تہذیبی روایت ہے۔ رسمی دعوت، کاروباری کھانے یا ایسے ریسٹورنٹ میں جہاں کٹلری فراہم کی گئی ہو، اسے استعمال کرنا بالکل فطری نظر آتا ہے۔

لیکن انڈین کھانوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہیں ہاتھ سے کھانے کا اپنا ایک طریقہ اور ثقافتی پس منظر ہے۔ دال چاول، روٹی، ڈوسا یا بعض دیگر کھانے ہاتھ سے کھانے میں صرف سہولت نہیں بلکہ ایک مخصوص طرزِ طعاق بھی ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2022 میں بھی ایک ایسا ویڈیو آیا تھا جس نے ہندوستانی کھانا کھانے کے ’صحیح طریقے‘ پر بحث چھیڑ دی تھی۔ اس وقت ایک ایٹی کیٹ کوچ نے دال چاول کھانے کے آداب سمجھائے تھے اور سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا تھا کہ کیا روزمرہ کے سادہ کھانے کے لیے بھی اتنی رسمی پابندی ضروری ہے؟
یہاں اصل مسئلہ شاید ڈوسا کھانے کے طریقے سے زیادہ ’ایٹی کیٹ‘ کی تعریف کا ہے۔ اگر کوئی شخص ریسٹورنٹ میں چمچ اور کانٹے سے ڈوسا کھانا چاہتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ہاتھ سے کھانا پسند کرتا ہے تو اسے کم مہذب قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ صفائی، موقع اور دوسروں کا خیال رکھنا یقیناً اہم ہے، لیکن تہذیب کو صرف کٹلری کے استعمال سے ناپنا شاید بہت محدود تعریف ہوگی۔
ہندوستانی کھانے کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ یہاں ایک ہی پلیٹ میں کئی تہذیبیں ساتھ بیٹھتی ہیں۔ کہیں چمچ چلتا ہے، کہیں ہاتھ؛ کہیں کیلے کے پتے پر کھانا سجتا ہے، کہیں چینی کے برتنوں میں؛ کہیں ڈوسا انگلیوں سے توڑا جاتا ہے اور کہیں اسے نہایت احتیاط سے چاقو اور کانٹے سے کاٹا جاتا ہے۔
اس لیے شاید اس وائرل بحث کا سب سے مناسب جواب یہ ہے کہ جسے جس طرح پسند ہے اپنا ڈوسا کھا سکتا ہے اور یہ کہ اس کے کھانے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہے جسے درست قرار دیا جائے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’آخر کھانا کوئی امتحان تو نہیں کہ اس میں پاس ہونے کے لیے چمچ صحیح زاویے پر پکڑنا ضروری ہو۔‘
1,500 for a dosa. Then someone teaches you how to eat it with a fork and spoon.
Brother, it is dosa.
Not a nuclear reactor.Tear. Dip. Eat. Repeat. https://t.co/swWj3qud1y
— Rakesh P Sheth (@rakeshpsheth) August 19, 2026












