ہوا کے دوش پر کرتب دکھاتے نوجوان: مکہ میں کائٹ سرفنگ کیوں مقبول ہو رہی ہے؟
ہوا کے دوش پر کرتب دکھاتے نوجوان: مکہ میں کائٹ سرفنگ کیوں مقبول ہو رہی ہے؟
جمعرات 27 اگست 2026 10:33
الشعیبہ کے ساحل پر نظر آنے والا یہ منظر نوجوانوں میں آؤٹ ڈور کھیلوں کے رجحان کو اجاگر کرتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
ہر ہفتے کے اختتام پر الشعیبہ کے ساحلوں کے ساتھ، شوخ اور جدید کینوپی کائٹس بحیرۂ احمر کی ہواؤں کو اپنی گرفت میں لے کر آسمان پر تیز خم دار دائرے بناتی ہیں۔ ان کے نیچے نوجوان کھلاڑی مخصوص بورڈز پر فیروزی پانی کی سطح پر برق رفتاری سے پھسلتے ہوئے حیرت انگیز کرتب اور بلند و بالا چھلانگیں لگاتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق کسی زمانے میں مکہ کی شہری زندگی کی بھاگ دوڑ سے دور خاندانوں کے لیے ایک پرسکون ساحلی تفریح گاہ کی حیثیت رکھنے والا علاقہ ’الشعیبہ‘، اب دنیا کے سب سے تیزی سے مقبول ہونے والے واٹر سپورٹس کا ایک متحرک مرکز بن چکا ہے۔
کائٹ سرفنگ جس میں کھلاڑی پانی کی سطح پر تیرنے کے لیے پتنگ نما سائے کے ذریعے ہوا کی طاقت کا استعمال کرتے ہیں خالص جسمانی طاقت اور درست تکنیکی توازن کا بہترین امتزاج ہے۔
سیفٹی کوئیک ریلیز، آرام دہ ہارنس ڈیزائن اور ایرو ڈائنامک تکنیک سے تیار کردہ کائٹس نے اس کھیل میں شامل ہونے کی دشواریوں کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ اس پیشرفت نے ایک زمانے میں خطرناک سمجھے جانے والے اس مخصوص کھیل کو مکہ کے مہم جو نوجوانوں کے لیے ایک پرکشش تفریح میں بدل دیا ہے۔
تاہم بحیرۂ احمر کی لہروں پر مہارت حاصل کرنے کے لیے صرف جوش و جذبہ ہی کافی نہیں بلکہ سمندری موسم کی گہری تکنیکی سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے۔
پانی میں اترنے سے پہلے کھلاڑی ساحل کی ریت پر ہوا کی رفتار جانچنے، ہوا کی سمت میں تبدیلی کا اندازہ لگانے اور کنٹرول لائنز کو ترتیب دینے میں اچھا خاصا وقت صرف کرتے ہیں۔
چونکہ پانی پر آگے بڑھنے اور چلنے کا پورا انحصار قدرتی ماحولیاتی حالات پر ہوتا ہے، اس لیے سخت حفاظتی اصولوں کی پابندی بے حد ضروری ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے کنٹرول بارز اور ہنگامی حالات میں طاقت کم کرنے والے سسٹمز کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نئے سیکھنے والے ہمیشہ سرٹیفائیڈ ٹرینرز کی نگرانی میں ہی تربیت حاصل کریں اور ہوا کی سمتوں اور دائرہ کار کو سمجھنا سیکھیں۔ الشعیبہ کے ساحل پر نظر آنے والا یہ منظر سعودی نوجوانوں میں آؤٹ ڈور کھیلوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کرتا ہے۔
کیپٹن ناصر القحطانی نے عرب نیوز کو بتایا کہ کائٹ سرفنگ ’مملکت میں ترقی کے زبردست امکانات رکھتی ہے جسے طویل ساحلی خطوط، موافق موسم اور ہوا کے سازگار پیٹرن کی مکمل حمایت حاصل ہے۔‘
یہ پتنگیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی نوجوان مہم جوئی کا شوق رکھتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مقامی کمیونٹی نے اپنی مہارت کو منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اگلے مرحلے میں توجہ موجودہ چند محدود مقامات سے ہٹ کر اس کھیل تک رسائی کو مزید وسعت دینے پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے الليث، رابغ، املج، الوجہ اور نیوم جیسے ساحلی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے طویل المدتی ترقی کے لحاظ سے بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں اور سال بھر چلنے والی ہوائیں ان مقامات کو بحری کھیلوں کے شوقین افراد کے لیے عالمی مراکز میں بدل سکتی ہیں۔
دوسری جانب کیپٹن ماجد الحربی نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مخصوص اور مختص کردہ مقامات کی ترقی سعودی سپورٹس ٹورازم کو فروغ دینے میں ایک انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
اقتصادی اور سیاحتی کشش سے ہٹ کر، الحربی نے اس کھیل کے ذریعے شخصیتی ترقی کے پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بحری کھیل نوجوانوں کو جسمانی چیلنج، توجہ، فوری فیصلہ سازی اور ایک صحت مند، متحرک طرزِ زندگی فراہم کرتے ہیں۔
کیپٹن ناصر القحطانی کے مطابق کائٹ سرفنگ مملکت میں ترقی کے زبردست امکانات رکھتی ہے (فوٹو: عرب نیوز)
دونوں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مملکت کو کائٹ سرفنگ کے ایک عالمی معیار کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لیے محض تقاریب اور ایونٹس کا انعقاد ہی کافی نہیں ہے۔
اس کے لیے مخصوص انفراسٹرکچر کی تعمیر، مقامی کلبوں کی سرپرستی، تجربہ کار کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور دنیا کے سامنے سعودی عرب کے بھرپور ساحلی جغرافیے کو اجاگر کرنے کے لیے بحری کھیلوں کو قومی سیاحتی حکمتِ عملیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
الشعیبہ کے آسمان پر اڑتی رنگ برنگی پتنگیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی نوجوانوں میں مہم جوئی کا شوق پہلے ہی بلندیوں پر ہے۔
مملکت کے خوبصورت اور ہوا دار ساحلوں کو حکمتِ عملی پر مبنی سرمایہ کاری اور مخصوص سہولیات سے جوڑ کر، سعودی عرب اپنے قدرتی بحری فوائد کو ایک پھلتی پھولتی کھیل کی ثقافت میں بدلنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایسا کرنے سے، بحیرۂ احمر کے ساحل نہ صرف مقامی کھلاڑیوں کی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنیں گے بلکہ عالمی بحری کھیلوں کے میدان میں مملکت کو ایک اہم ترین مقام کے طور پر مضبوطی سے قائم کریں گے۔