آسٹریلوی جزیرے کے قریب تیرتا ’خلائی راکٹ‘، سپیس ایکس کے انجینیئر لینے پہنچ گئے
آسٹریلوی جزیرے کے قریب تیرتا ’خلائی راکٹ‘، سپیس ایکس کے انجینیئر لینے پہنچ گئے
جمعرات 20 اگست 2026 8:32
24 جولائی کو چھوڑے جانے والے راکٹ کا ایک کچھ حصہ واپسی پر سمندر میں گر گیا تھا (فوٹو: سپیس ایکس))
ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے انجینیئر سٹارشپ کے اس حصے کو واپس لانے کے لیے آسٹریلیا کے ایک دور افتادہ جزیرے کی طرف روانہ ہو گئے ہیں جو سمندر میں گر گیا تھا۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق وہ خلائی جہاز اس وقت آسٹریلیا کے کرسمس جزیرے کے قریب سمندر میں تیر رہا ہے۔ اس کو 24 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا، یہ راکٹ مدار میں پہنچ گیا تھا اور 20 غیر فعال سیٹلائٹس چھوڑنے کے بعد واپس آتے ہوئے واقعہ پیش آیا تھا۔
حالیہ چند ہفتوں سے کمپنی خلائی جہاز کے 52 میٹر لمبے اس حصے کو تیز سمندری لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس کو کھینچ کر نسبتاً سمندر کے پرسکون حصے میں لے جایا جا رہا ہے جہاں اس کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔
سپیس ایکس کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکوری ٹیم نے سٹار شپ کو کرسمس آئی لینڈ کے ساحل کے کچھ دور ایک خاص مقام تک پہنچا دیا ہے، جس کے بعد انجینیئرز کی ٹیم اس کے جائزے کے لیے پہنچ رہی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جائزے کے بعد اس کو سٹار بیس کیمپ لانے کی کوشش بھی کی جائے گی۔
کرسمس آئی لینڈ ٹورزم ایسوسی ایشن کے چیئمرین ڈیوڈ واچورن کا کہنا ہے کہ ’منگل کو علی الصبح جزیرے کے زیادہ تر رہائشیوں نے سمندر میں تین بڑے جہاز تیرتے ہوئے دیکھے، تاہم جب ان کو مزید قریب سے دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ ان میں سے ایک ایک بہت بڑا کالے رنگ کا راکٹ تھا۔‘
راکٹ کو کئی ہفتے کی تلاش کے بعد ڈھونڈا گیا ہے (فوٹو: دی گارڈین)
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد کرسمس اور قریبی دوسرے جزیرے بھی بہت زیادہ زیر بحث آ رہے ہیں اور مقامی لوگوں کو امید ہے اس سے سیاحت کو فروغ ملے اور سیاح ان کا رخ کریں گے۔
یہ جزیرہ آسٹریلیا کے مغربی حصے میں 15 سو 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں کے قدرتی مناظر اور مختلف جانور سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں جن میں سرخ کیکڑے اور ریڈ فلفی فلائنگ فاکسز شامل ہیں، یہ دراصل چمگادڑ کی ایک بڑی قسم ہے جس کو ان کی آنکھوں کی وجہ سے اڑنے والی لومڑیاں کہا جاتا ہے۔
یہ واقعہ اس سے ملتے جلتے ایک اور واقعے کے چند ہفتے بعد پیش آیا ہے جس میں کوینز لینڈ کے ساحل کے قریب سے خلائی ملبہ ملا تھا، جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ کسی راکٹ کا حصہ ہے۔
فلینڈرز یونیورسٹی سے وابستہ سپیس آرکیالوجسٹ پروفسیر ایلس گورمین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹس کی لانچنگز کے بڑھتے سلسلے کے باعث خلا میں موجود راکٹوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جن میں سے کچھ نیچے گر جاتے ہیں۔