امریکہ میں اس وقت باکس آفس پر سب سے زیادہ کامیاب دو فلمیں ’بیک رومز‘ اور ’ابسیشن‘ ہیں، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں فلموں کے ہدایت کار ایسے نوجوان ہیں جنہوں نے فلم سازی کی مہارت یوٹیوب پر کام کرتے ہوئے حاصل کی۔
سی این این کے مطابق نسبتاً کم بجٹ میں بنائی گئی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے تشہیر حاصل کرنے والی یہ فلمیں نہ صرف تجارتی اعتبار سے غیرمعمولی کامیابی حاصل کر رہی ہیں بلکہ ہالی وڈ کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
26 سالہ کری بارکر کی ہدایت کاری میں بننے والی ہارر فلم ’ابسیشن‘ 15 مئی کو ریلیز ہوئی۔ تقریباً سات لاکھ 50 ہزار ڈالر کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے اب تک تقریباً 15 کروڑ ڈالر کی کمائی کر لی ہے، جو اس کے بجٹ کے مقابلے میں حیران کن منافع تصور کیا جا رہا ہے۔
اس کے بعد 20 سالہ کین پارسنز کی فلم ’بیک رومز‘ منظر عام پر آئی، جس پر وہ کئی برس سے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے کام کر رہے تھے۔
’بیک رومز‘ کا بجٹ تقریباً ایک کروڑ ڈالر تھا اور اس میں چیویٹل ایجیوفور، رینیٹ رینسوے اور مارک ڈوپلاس جیسے معروف اداکار شامل تھے، تاہم اس کے باوجود فلم کی باکس آفس کامیابی نے ناقدین کو حیران کر دیا۔
نفسیاتی ہارر فلم ’بیک رومز‘ نے ریلیز کے پہلے ہی ویک اینڈ پر باکس آفس پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ فلم نے شمالی امریکہ میں تقریباً آٹھ کروڑ ڈالر جبکہ دنیا بھر میں 12 کروڑ ڈالر کی کمائی کی، جس میں جین زی ناظرین کا اہم کردار رہا۔

سٹوڈیو اے 24 کے مطابق کین پارسنز ہالی وڈ کی تاریخ کے کم عمر ترین فلم ساز بن گئے ہیں جن کی فلم ویک اینڈ باکس آفس پر پہلے نمبر پر رہی۔
اسی دوران ’ابسیشن‘ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ ایک ہفتہ قبل ریلیز ہونے والی ’سٹار وارز: دی مینڈلورین اینڈ گروگو‘ تیسرے نمبر پر چلی گئی۔
عام طور پر فلموں کی سب سے زیادہ کمائی ابتدائی ویک اینڈ میں ہوتی ہے اور بعد ازاں ٹکٹوں کی فروخت میں کمی آ جاتی ہے، تاہم ’ابسیشن‘ اس رجحان کے برعکس مسلسل ترقی کر رہی ہے۔
فوکس فیچرز کے مطابق کرسمس سیزن کو چھوڑ کر ’ابسیشن‘ 1982 کے بعد پہلی فلم ہے جس کی باکس آفس آمدنی دوسرے اور تیسرے ویک اینڈ میں مزید بڑھی۔
ماہرین کے مطابق اس کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ نوجوان ناظرین اب بھی سینما گھروں میں جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ وہ ان تخلیق کاروں سے خود کو جوڑ سکیں جنہیں وہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے جانتے ہیں۔
اسی وجہ سے ہالی وڈ کے سٹوڈیوز اب یوٹیوب اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر اگلے بڑے فلم ساز کی تلاش میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس رجحان کے نتیجے میں سٹوڈیوز معروف فرنچائزز اور سیکوئلز کے بجائے نئی اور اصل کہانیوں پر بھی زیادہ سرمایہ لگانے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
’بیک رومز‘ میں سائنس دان کا کردار ادا کرنے والے اداکار مارک ڈوپلاس نے ایک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں کہا کہ یہ دونوں فلمیں فلمی صنعت کے لیے ’امید کی ایک کرن‘ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ تخلیق کار اپنے خیالات پر برسوں کام کرتے ہیں، انہیں آن لائن پیش کرتے ہیں، اپنا ناظرین کا حلقہ بناتے ہیں اور پھر یہی ناظرین ان کی فلموں کو کامیاب بناتے ہیں۔‘













