چینی ہیومنائڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ میں یوسین بولٹ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
روبوٹ ’لائٹننگ‘ نے یہ کارکردگی ایک آزمائشی مقابلے کے دوران دکھائی۔ (فوٹو: روئٹرز)
چین میں تیار کیے گئے ایک ہیومنائڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.32 سیکنڈ میں مکمل کرکے انسانی دوڑ کا عالمی ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق روبوٹ ’لائٹننگ‘ نے یہ کارکردگی ایک آزمائشی مقابلے کے دوران دکھائی۔
چینی سمارٹ فون ساز کمپنی ’آنر ‘ کی جانب سے تیار کیے گئے اس روبوٹ نے آزمائشی دوڑ کے دوران زیادہ سے زیادہ 14.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کی۔
لائٹننگ کی 9.32 سیکنڈ کی کارکردگی انسانی مردوں کی 100 میٹر دوڑ کے موجودہ عالمی ریکارڈ سے تقریباً ایک چوتھائی سیکنڈ بہتر ہے۔ یہ ریکارڈ جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 17 سال قبل جرمنی کے شہر برلن میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کے دوران 9.58 سیکنڈ میں قائم کیا تھا۔
روبوٹ کی یہ کارکردگی دوسرے ورلڈ ہیومنوئڈ روبوٹ گیمز سے قبل سامنے آئی ہے، جن کا آغاز سنیچر سے ہوگا۔
چین گزشتہ کچھ عرصے سے ہیومنائڈ روبوٹس کو ایک ابھرتی ہوئی صنعتی شعبے کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ چینی پالیسی ساز اور کمپنیاں اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر ٹیکنالوجی میں پیش رفت سے ہیومنائڈ روبوٹس کو صنعت، لاجسٹکس اور صارفین کے لیے تیار کی جانے والی مختلف مصنوعات اور خدمات میں زیادہ تیزی سے استعمال کیا جا سکے گا۔
لائٹننگ اس سے قبل بھی غیر معمولی رفتار کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ اپریل میں اس نے بیجنگ کی ہاف میراتھن 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کرکے مردوں کے عالمی ریکارڈ سے بھی بہتر وقت حاصل کیا تھا۔
ہاف میراتھن کے وقت لائٹننگ کا قد 169 سینٹی میٹر تھا جبکہ اس کی ٹانگوں کی لمبائی 95 سینٹی میٹر تھی۔ بعد ازاں محققین نے روبوٹ کی ٹانگوں کی لمبائی میں 10 سینٹی میٹر اضافہ کیا تاکہ اسے ان کھیلوں کے لیے مزید موزوں بنایا جا سکے۔
چین کی جانب سے ہیومنائڈ روبوٹس کی تیاری اور ان کے عملی استعمال پر بڑھتی ہوئی توجہ ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ہارڈویئر ٹیکنالوجی کو صنعتی پیداوار سے لے کر روزمرہ صارفین کی ضروریات تک مختلف شعبوں میں استعمال کرنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
