Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

66 کلو وزن کم کر میراتھن دوڑنے والے پال گڈسن، ’ڈاکٹروں نے کہا 30 سال کی عمر سے پہلے مر جاؤ گے‘

سنہ 2017 میں پال گڈسن کا وزن 150 کلو تھا (فوٹو: پال گڈسن)
29 سال کی عمر میں 150 کلو وزن، سانس لینے میں دُشواری اور ڈاکٹر کی یہ خوفناک وارننگ کہ شاید وہ 30 سال کی عمر بھی نہ دیکھ سکیں۔ یہ پال گڈسن کی زندگی کا وہ لمحہ تھا جس نے انہیں خود کو بدلنے پر مجبور کردیا۔
انہوں نے اپنی خوراک تبدیل کی، دوڑنا شروع کیا اور پانچ سال میں 66 کلو وزن کم کرلیا۔ آج وہ میراتھن اور ہائروکس جیسے مشکل مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
پال گڈسن کے لیے کبھی معمولی چہل قدمی بھی تکلیف دہ ہوا لرتی تھی مگر آج وہ ہفتے میں 40 کلومیٹر تک دوڑتے ہیں۔
’ایس سی ایم پی‘ کے مطابق لندن سے تعلق رکھنے والے جغرافیہ کے استاد پال گڈسن ہیں۔ سنہ 2017 میں 29 سال کی عمر میں ان کا وزن 150 کلوگرام تھا اور شدید نیند کی بیماری کے باعث ڈاکٹر نے خبردار کیا تھا کہ شاید وہ 30 برس کی عمر بھی نہ دیکھ سکیں۔
پال گڈسن کو بِنج ایٹنگ ڈس آرڈر نامی بیماری بھی لاحق تھی جس کے باعث وہ بے قابو ہوکر بہت زیادہ کھانا کھاتے اور پھر خود کو بے بس محسوس کرتے تھے۔
ڈاکٹر کے مشورے پر انہوں نے سنہ 2018 میں وزن کم کرنے کے لیے سپورٹ گروپ جوائن کیا اور اپنی خوراک میں تبدیلی لانا شروع کی۔ انہوں نے میٹھے مشروبات اور غیر صحت بخش کھانوں کو چھوڑ کر متوازن اور قدرتی غذاؤں کو معمول کا حصہ بنایا۔
سنہ 2019 میں برازیل میں تدریس کے دوران انہوں نے’کوچ ٹو فائیو کے‘ نامی ایپ کی مدد سے دوڑنا شروع کیا اور خوراک میں تبدیلی کے ساتھ 50 کلو وزن کم کرلیا۔ بعد ازاں سنہ 2021 میں ہانگ کانگ منتقل ہونے کے بعد انہوں نے مزید 16 کلو وزن کم کیا اور سنہ 2022 تک ان کا وزن 84 کلوگرام ہوگیا۔

پال گڈسن کو ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ شاید وہ 30 سال تک نہ جی سکیں (فوٹو: پال گڈسن)

وزن کم ہونے کے بعد دوڑنا ان کے لیے آسان ہوگیا۔ ہانگ کانگ میں انہوں نے مختلف رننگ کلبز کا حصہ بن کر ہفتے میں چھ دن تربیت شروع کردی۔ وہ اب اوسطاً ہفتے میں 40 کلومیٹر دوڑتے ہیں اور میراتھن، ہائروکس اور دیگر دوڑوں کے سخت مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
سنہ 2024 میں انہوں نے اپنی پہلی میراتھن مکمل کی جبکہ 2025 میں دوسری میراتھن تین گھنٹے 28 منٹ 42 سیکنڈ میں مکمل کرکے اپنے وقت میں 20 منٹ سے زیادہ بہتری لائی۔
پال نے ہائروکس مقابلوں میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اب تک ہانگ کانگ، چین، جاپان، تائیوان، تھائی لینڈ اور سنگاپور میں 18 ایونٹس کے دوران 21 ریسز مکمل کرچکے ہیں۔ تاہم 2025 کی میراتھن کے بعد ان کے ایکیلز ٹینڈن میں چوٹ آئی، جس نے انہیں آرام اور جسم کی دیکھ بھال کی اہمیت کا احساس دلایا۔

وزن کم ہونے کے بعد دوڑنا ان کے لیے آسان ہوگیا (فوٹو: پال گڈسن)

پال گڈسن کے مطابق ان کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے، دل کی دھڑکن کم ہوئی، نیند بہتر ہوگئی اور ٹانگوں کا وہ درد بھی ختم ہوگیا جو کبھی انہیں مسلسل پریشان کرتا تھا۔
وہ اپنی کامیابی میں کمیونٹی اور دوسروں کی حمایت کو اہم قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس لمحے انسان جسمانی تبدیلی کے لیے پُرعزم ہوجائے، کوئی رکاوٹ اسے روک نہیں سکتی۔

شیئر: