کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں اینیمی مارکیٹ پر جاپان سے درآمد کیے گئے ڈب شدہ اینیمی مواد کا غلبہ رہا ہے۔ لیکن اب یہ سب کچھ بدل رہا ہے جس کی وجہ تخلیق کاروں اور پروڈیوسرز کی ایک نئی نسل ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس بڑی تبدیلی کے مرکز میں مانگا پروڈکشنز ہے جو محمد بن سلمان فاؤنڈیشن مِسک کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔
اس کا بنیادی مقصد مقامی صلاحیتوں کی تربیت کرنا، اوریجنل مواد تیار کرنا اور تجربہ حاصل کرنے کے لیے جاپانی سٹوڈیو کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔
مزید پڑھیں
-
سعودی فلم پروڈکشن نیا مانگا ویڈیو گیم لانچ کرے گیNode ID: 780676
-
کتاب میلے میں جاپانی ادب اور اینیمی کہانیوں میں دلچسپیNode ID: 895626
اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ایسی اینیمیشن بنائی جائے جو جاپانی نظر آئے بلکہ مقصد سعودی ثقافت، تاریخ اور شناخت سے بھرپور اعلیٰ معیار کا مواد تیار کرنا ہے۔
مانگا کی پروڈیوسر لمیس السنتیلی کے نزدیک، یہ اقدام نئے تخلیق کاروں کے سامنے آنے اور مقامی شائقین میں بڑھتی ہوئی دلچسپی، دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے لمیس السنتیلی نے کہا کہ ’سعودی عرب میں اینیمی اور اینیمیشن دیکھنے والوں کی پہلے سے ہی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن جو مواد ہم دیکھتے ہیں اس میں سے زیادہ تر دیگر ثقافتوں اور نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ یہ بالکل صحیح وقت ہے کہ ہم محض اس مواد کے ناظرین بننے کے بجائے اب ایسی کہانیاں تیار کریں جو ہماری اپنی ثقافت اور تجربات کی ترجمانی کرتی ہوں۔‘

یہ تبدیلی آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ آئی ہے۔
مقامی صلاحیتوں اور معیاری مواد کی کمی کا سامنا کرتے ہوئے مانگا نے تربیتی پروگراموں اور عالمی شراکت داریوں میں سرمایہ کاری کی جس میں سعودی تخلیق کاروں کو انٹرن شپ کے لیے جاپان بھیجنا اور جاپانی پروڈکشن ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا شامل تھا۔
السنتیلی نے کہا کہ ’جاپانی سٹوڈیوز کے ساتھ کام کرنے سے ہمیں یہ سمجھنے کا بہترین موقع ملتا ہے کہ ایک زیادہ تجربہ کار اور مستحکم صنعت میں کام کیسے ہوتا ہے۔‘
’یہ ہمیں مختلف طریقۂ کار، معیارات اور کام کے نظام سے روشناس کراتا ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ ہمیں مقامی سطح پر کن چیزوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔‘
لیکن تمام رائج طریقے سعودی عرب کے لیے موزوں نہیں تھے اور مختلف طریقوں کو آزمانے، ان میں مقامی حالات کے مطابق تبدیلیاں کرنے اور بعض اوقات انہیں مسترد کرنے کا عمل مقامی پروڈکشن ماڈل تیار کرنے کا ایک اہم حصہ تھا۔

اس حکمتِ عملی کی ایک واضح مثال اینیمیٹڈ فلم ’دی جرنی‘ ہے جسے ٹوئی اینیمیشن کے ساتھ سعودی جاپانی تعاون کے ذریعے تیار کیا گیا۔
مانگا کے سی ای او عصام بخاری نے کہا کہ یہ منصوبہ محض کام باہر سے کروانے کے بجائے علم کی منتقلی پر مبنی تھا جسے ’جاپان کی شراکت کے ساتھ سعودی عرب میں بنایا گیا۔‘
سعودی تخلیق کاروں نے فلم کے ہر منظر کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور جاپانی سٹوڈیو کو 1300 سے زائد مناظر کے ری ٹیکس کے لیے بھیجا۔
انہوں نے کرداروں اور پس منظر کے ڈیزائن پر بھی مل کر کام کیا جبکہ سعودی ٹیم نے عربوں کے باڈی لینگوئج کو سمجھانے کے لیے 50 ویڈیوز فراہم کیں۔ بخاری کے مطابق، خانہ کعبہ کا ڈیزائن مکمل طور پر سعودی عرب میں ہی تیار کیا گیا تھا۔
اب یہ تعلق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
عصام بخاری کے مطابق ’فیوچر فوک ٹیلز‘ کے دوسرے سیزن کی متعدد قسطوں کی ہدایت کاری سعودی تخلیق کار کر رہے ہیں جبکہ مانگا کی پری پروڈکشن اور پروڈکشن میں شمولیت اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس تمام تر ہدف کا حتمی مقصد مہارت کو سنبھالنا اور اس صنعت کے زیادہ سے زیادہ حصوں کو سعودی عرب میں منتقل کرنا ہے۔

بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ صرف تعاون کرنے کے بجائے تخلیقی کاموں کی خود قیادت کرنے کی طرف یہ پیش قدمی انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اینیمیشن کی صنعت کو دیرپا اور قائم رکھنے کے لیے محض چند انفرادی فلموں کی تیاری ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ایسے ڈائریکٹرز، رائٹرز، اینیمیٹرز، وائس ایکٹرز اور پروڈیوسرز کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کسی بھی منصوبے کو مکمل طور پر خودمختارانہ انداز میں پروان چڑھا سکیں۔
السنتیلی نے بتایا کہ مقامی سطح پر ماہرین افراد کی محدود تعداد اب بھی اس صنعت کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سعودی اینیمیشن انڈسٹری ابھی نسبتاً کم عمر ہے، خاص طور پر ان مارکیٹوں کے مقابلے میں جہاں یہ شعبہ زیادہ ترقی یافتہ اور مستحکم ہے۔ اس لیے مقامی سطح پر ماہر اور تجربہ کار افرادی قوت کا ایک مضبوط ذخیرہ تیار کرنے میں وقت اور محنت درکار ہوگی اور ہم اس وقت اسی پر کام کر رہے ہیں۔‘
مانگا پروڈکشنز کے تربیتی پروگراموں کے ذریعے 500 سے زائد افراد کو تربیت دی جا چکی ہے اور کمپنی کا 80 فیصد سے زیادہ عملہ انہی پروگراموں سے فارغ التحصیل ہے۔ حتیٰ کہ اس کے ٹوکیو دفتر کے آدھے سے زیادہ ملازمین بھی سعودی ہیں۔
ان پروگراموں سے تربیت حاصل کرنے والے بعض افراد اب دیگر سعودی تخلیقی سٹوڈیوز میں کام کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کا یہ نظام اب واقعی پھل پھول رہا ہے۔

مانگا نے وزارتِ تعلیم اور وزارتِ ثقافت کے تعاون سے کم عمر بچوں کے لیے بھی ایک تعلیمی مہم چلائی ہے جس کا دائرہ کار 30 لاکھ سے زائد طلبہ تک پھیل چکا ہے۔
السنتیلی کے نزدیک، نئی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے صبر اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’جیسے جیسے یہ شعبہ آگے بڑھ رہا ہے، ایک دیرپا تخلیقی صنعت کو مضبوط بنانے میں سرکاری معاونت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ سرکاری مدد اس وقت خاص طور پر انتہائی اہم تھی جب یہ صنعت ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کیونکہ اس نے ابھرتے ہوئے اینیمیٹرز اور سٹوڈیوز کو فوری تجارتی منافع کے دباؤ کے بغیر تربیت حاصل کرنے اور نئے تجربات کرنے کا موقع دیا۔
اس تمام محنت کے نتائج اب خود کہانیوں کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
فیوچر فوک ٹیلز ایک سعودی خاندان کی کہانی ہے جو مستقبل کے جدید ترین شہر ریاض میں رہتا ہے جہاں دادی اپنی نئی نسل کو ماضی کے قصے سناتی ہے۔ اس کا دوسرا سیزن اس خاندان کو نیوم شہر لے جاتا ہے۔

ایک اور منصوبہ العوجا جس کا مقصد مانگا اور اینیمیشن کے ذریعے سعودی تاریخ کی عکاسی کرنا ہے جبکہ مجوزہ موبائل گیم ’فیوچر فوک ٹیلز‘ کہانی سنانے کے ایک وسیع تر، مختلف میڈیا پر مبنی انداز کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
اب اس تمام کاوشوں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنانا ہے۔
دی ووڈ کٹرز ٹریژر سات جاپانی ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہونے والی پہلی سعودی اور عربی اینیمی شارٹ فلم بن گئی۔ دوسری طرف فیوچر فوک ٹیلز نے ٹین سینٹ سمیت چینی پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کی جہاں عصام بخاری کے مطابق اسے 100 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔
فلم ’دی جرنی‘ کو سعودی عرب اور 10 دیگر عرب ممالک میں دکھایا گیا جبکہ کرنچی رول کے ساتھ معاہدے اور ایشیائی مارکیٹوں کے علاوہ، چھ یورپی ممالک اور شمالی امریکہ میں بھی اس کی نمائش کے حقوق حاصل کیے گئے۔
السنتیلی نے کہا کہ ’جب ہم کوئی پروڈکشن تیار کرتے ہیں تو اب ہم ناظرین کو صرف مقامی سطح تک محدود نہیں سمجھتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آج کی اس جڑی ہوئی دنیا میں، مواد ہر جگہ عالمی ناظرین تک پہنچتا ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنی سعودی شناخت کے ساتھ مخلص رہیں اور ساتھ ہی عالمی سطح کے ناظرین تک بھی پہنچیں۔‘

’مانگا پروڈکشنز‘ عالمی اینیمی انڈسٹری میں سعودی عرب کی شمولیت کو مزید گہرا کرنے کے لیے پہلے سے قائم بین الاقوامی فرنچائزز کا استعمال بھی کر رہی ہے۔
جاپانی شراکت داروں کے ساتھ گرینڈائزر کے سلسلے میں ان کے پروجیکٹ جی کے تعاون میں ایک عالمی مقابلہ شامل تھا جس میں مداحوں کو نئے ساسر بیسٹس ڈیزائن کرنے کی دعوت دی گئی اور جیتنے والے ڈیزائنوں کو آنے والے منصوبے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم سب سے بڑا امتحان یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ منصوبے محض چند نمایاں پروڈکشنز تک محدود رہنے کے بجائے ایک دیرپا اور قائم رہنے والے نظام میں ڈھل سکتے ہیں یا نہیں۔
سعودی عرب کے پاس ناظرین، سرمایہ کاری اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد پہلے سے موجود ہے۔ اب اگلا چیلنج اتنی مقامی مہارت اور بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو پیداوار کو جاری رکھ سکے، اصل مواد تیار کر سکے اور انفرادی منصوبوں سے ہٹ کر اس شعبے میں مستقل روزگار کے مواقع پیدا کر سکے۔
السنتیلی کے مطابق کامیابی کا حتمی معیار خود کفیل ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے لیے کامیابی کا مطلب پروڈکشن میں خود کفالت حاصل کرنی ہوگی تاکہ ہمارے پاس اپنے کام کو خود تیار کرنے کی ایسی صلاحیتیں اور افراد موجود ہوں۔‘
تاہم صرف مقامی سطح پر تخلیق کرنا ہی اس مقصد کا واحد حصہ نہیں ہے اصل اور بڑا مقصد ایسی کہانیاں بنانا ہے جو سرحدی حدود کو عبور کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں مواد کے معاملے میں بھی خود کفالت دیکھنا چاہتی ہوں۔ سعودی اینیمیشن ہماری اقدار اور ثقافت کی ایک مضبوط ترجمان بنے اور ساتھ ہی ایسی کہانیاں تخلیق کرے جو سعودی عرب سے باہر نکل کر دنیا بھر کے ناظرین کے دلوں میں اتر سکیں۔‘
اگر یہ وژن کامیاب ہو جاتا ہے تو سعودی عرب محض اس خطے میں اینیمی کے سب سے بڑے ناظرین میں سے ایک نہیں رہے گا بلکہ یہ ان اہم مقامات میں شامل ہو سکتا ہے جہاں عرب اینیمی کی نئی نسل کی تخلیق کی جائے گی۔











