Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کنگ عبدالعزیز لائبریری نے 10 ہزار 861 تاریخی دستاویزات اور اشیا بحال کر دیں

مقدس شہروں کے ترقیاتی ادوار پر مشتمل تاریخی ورثے کو بھی محفوظ کیا گیا ( فوٹو: ایس پی اے)
ریاض میں کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے بحالی مرکز نے تاریخی دستاویزات اور اشیا کی بحالی اور درستگی کا کام مکمل کرکے ایک سنگ میل عبور کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق مرکز کی جانب سے 10 ہزار 861 دستاویزات، نادر خطوط، نایاب اخبارات و رسائل، تاریخی تصاویر و نقشے وغیرہ کی درستگی اور بحالی کا کام جدید سائنسی اور پروفیشنل طریقے سے مکمل کیا گیا۔
لائبریری کے مطابق فنی ماہرین نے قدیم و نادر دستاویزات و دیگر مواد کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کے تحت تمام امور مکمل کیے جس سے نادر مواد کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا انتہائی آسان ہو گیا۔
درست کیے گئے مواد کے ذخیرے میں نادر تاریخی تصاویر شامل ہیں، جن میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے علاوہ دونوں مقدس شہروں کے ترقیاتی ادوار پر مشتمل تاریخی ورثے کو بھی محفوظ کیا گیا۔

مملکت کے شاہی اصطبل اور ان میں موجود عربی النسل گھوڑوں کی نادر تصاویر بھی لائبریری میں موجود تھیں جنہیں ماہرین نے انتہائی جدید طریقے سے محفوظ کیا، جو مملکت کے تاریخی ورثے سے عبارت ہیں۔
مرکز کی جانب سے طائف شہر کے مختلف مقامات کی قدیم تصاویر اور وہاں کی طرز زندگی کو نمایاں کرنے والی تصاویر کی بحالی کا کام کیا گیا، جبکہ اخبارات اور پرانے رسائل کو بھی محفوظ کیا گیا جو تاریخی حوالوں سے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ ان میں ’الریاض اخبار‘ کا شمار جس کا عنوان (ریاض ماضی اور حال میں) شامل تھا۔

بحالی مرکز نے نادر تاریخی نقشوں کی بھی درستگی کی جن میں جزیرہ نما عرب کا 1771 عیسوی کا ایک نایاب نقشہ شامل ہے جو سال 1789 میں تانبے پر کندی کاری کے ذریعے بنایا گیا تھا۔
بحالی مرکز کا کہنا ہے کسی بھی تاریخی مواد کی اصلاح سے قبل اسے جراثیم سے محفوظ بنانا انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے، تاہم اس کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

قدیم دستاویزات اور نادر مواد کو محفوظ بنانے کے حوالے سے تعلیمی و تریبتی ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ مخصوص تربیتی کورسز کرائے جاسکیں۔

 

شیئر: