Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی کابینہ کا سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے اقدامات کا خیر مقدم

او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیا گیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے منگل کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان  مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے نتائج کو سراہا ہے۔
جس میں سعودی عرب میں جنرل سیکرٹریٹ کے قیام  کے لیے مزید ادارہ جاتی اقدامات اور مشترکہ تعاون کے میکانزم کو فعال کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منگل کو جدہ میں ہونے والے اجلاس میں استنبول میں سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے نتائج کو اجاگر کیا گیا۔
 مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ملکوں نے اپنے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے مزید اقدامات پر اتفاق کیا جس کا مقصد یکجہتی کو مضبوط بنانا، اجتماعی ڈیٹرنس، دفاع کی موثریت کو یقینی بنانا، منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کے لیے علاقائی کوششوں اور تعاون پر مبنی سلامتی میں کردار ادا کرنا ہے۔
کابینہ نے سعودی عرب اور دوست ملکوں کے درمیان حالیہ مشاورت اور بات چیت کا بھی جائزہ لیا جس میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمن کی جاننب سے سعودی ولی عہد کو موصول ہونے والا مکتوب شامل ہے۔

سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے ایس پی اے کو بتایا کابینہ نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیا۔ مسلم دنیا کے مسائل کے حل اور امن و استحکام کے لیے تنظیم کی کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔
کابینہ نے اسماعیل ولد شیخ احمد کو او آئی سی کا نیا سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور سبکدوش جنرل سیکرٹری حسین ابراہیم طہ کی خدمات اور کام کو سراہا۔

 علاقائی اور بین الاقوامی تظیموں میں سعودی عرب کی فعال شمولیت کو بھی اجاگر کیا اور ان قومی کوششوں کوسراہا جن کے نتیجے میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مملکت کے 21 شہروں کو صحت مند شہر قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس میں سعودی عرب اور یونان کے درمیان سفارتی، خصوصی اور سروس پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے سے استثنی کی منظوری دی گئی جبکہ ہرسال 12 مئی کو آرگن ڈونیشن ڈے منانے کی بھی منظوری جاری کی ہے۔

 

شیئر: