ریاض میں لیپ 2026 نمائش میں 50 پاکستانیوں کمپنیاں شریک
سعودی عرب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑی بین الاقوامی نمائش لیپ کا آغاز ہوگیا جس میں سعودی عرب اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کی دیگر آئی ٹی کمپنیاں بھی شریک ہیں ۔نمائش میں پاکستان کی وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ بھی خصوصی طور پر شریک ہوئیں۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایگزیبیشن اینڈ کنونشن سینٹر ملہم میں ہونے والے اس چار روزہ عالمی ایونٹ میں مختلف آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے اسٹارٹ اپس، سرمایہ کار، ماہرین اور پالیسی ساز شریک ہیں۔
اس سال ’لیپ‘ کا پانچواں ایڈیشن ’Into New Worlds‘ کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے، جو 31 اگست سے 3 ستمبر تک جاری رہے گا۔
انتظامیہ کے مطابق اس ایونٹ میں ایک ہزار سے زائد مقررین، 600 سے زائد اسٹارٹ اپس، 1800 سے زائد عالمی ٹیکنالوجی برانڈز اور تقریباً 1900 سرمایہ کار شریک ہو رہے ہیں، جبکہ دو لاکھ سے زائد افراد کی آمد متوقع ہے۔
لیپ 2026 میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، فن ٹیک، سمارٹ سٹیز، ایجوکیشن ٹیکنالوجی، گیمنگ اور خلائی ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

لیپ نمائش میں پاکستان کا خصوصی پویلین قائم کیا گیا ہے جہاں پاکستانی آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی مصنوعات، ڈیجیٹل سلوشنز اور خدمات عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری نمائندوں کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔
وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے سعودی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السواحہ کے ہمراہ لیپ نمائش کے مختلف سٹالز کا دورہ کیا۔ پاکستانی حکام سعودی عرب کے ساتھ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

اس موقعہ پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وسیع مارکیٹ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ سعودی عرب کے بڑے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے ساتھ ملکر کام کیا جائے جبکہ وزیراعظم شہبازشریف آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ پاکستانی نوجوانوں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں آئی ٹی سیکٹر میں بہتر انداز سے آگے بڑھ سکیں۔

لیپ 2026 کے دوران بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اہم اعلانات، نئی سرمایہ کاری، کاروباری معاہدوں اور شراکت داریوں کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے ریاض ایک مرتبہ پھر عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔