کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد فعال، سعودی کابینہ کا خیر مقدم
کابینہ کا اجلاس منگل کو شاہ سلمان کی زیر صدارت جدہ میں ہوا ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے کثیرالقومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل اور آپریشنل فعال ہونے کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ اتحاد آرگنائزیشنل اور پلاننگ فریم ورک کی تکمیل کے بعد اجتماعی میری ٹائم سکیورٹی کو مضبوط بنانے، فریڈم آف نیویگیشن اور آبی گزر گاہوں کے تحفظ کے لیے کام کرے گا۔ یہ بین الاقوامی تجارت اورعالمی سپلائی چین کے تسلسل میں بھی معاونت کرے گا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت جدہ میں ہوا ہے۔
کابینہ نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعاون کو بڑھانے، باہمی مفادات کے حصول، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کی سپورٹ کے حوالے سے برادر اور دوست ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کی حالیہ بات چیت اور مشاورت کا جائزہ لیا۔
اجلاس نے کمرشل بحری جہازوں اور ٹینکروں پر بار بار ایرانی حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا۔ انہیں ایک ’خطرناک کشیدگی‘ اور میری ٹائم سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔

کابینہ نے کہا ’یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو کھلا چیلنج ہے جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجاری جہازوں کی آزادی اور حقوق کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔‘
کابینہ نے کہا یہ حملے میری ٹائم نیویگیشن کی سکیورٹی اور سیفٹی کے لیے خطرہ ہیں۔ کسی بھی ایسے اقدام یا دھمکی کی مذمت کی جو اس سٹریٹیجک آبی گزرگاہ سے گزرنے کی ازادی میں رکاوٹ بنے۔
کابینہ نے سعودی، سوڈانی رابطہ کونسل کے قیام کو دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ کو آرڈینیشن کے عزم کی توسیع قرار دیا۔

نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے موقع پر تعلیمی شعبے کی کامیابیوں اور نئے تعلیمی سال کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ پبلک انویسٹمنٹ کی مالی کارکردگی اور اس کے اہداف کی جانب مسلسل پیش رفت کی تعریف کی۔
کابینہ نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور کا بھی جائزہ لیا۔ سعودی عرب اور کویت کی حکومتوں کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں تعاون پر مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی گئی۔
