چینی صدر کا دورۂ مصر، کیا چین مشرق وسطیٰ میں گہرا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے؟
چینی صدر کا دورۂ مصر، کیا چین مشرق وسطیٰ میں گہرا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے؟
بدھ 2 ستمبر 2026 10:46
شی منگل کی شام قاہرہ ایئرپورٹ پہنچے جہاں چینی اور مصری جھنڈوں سے سجاوٹ کی گئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
چینی صدر شی جن پنگ کا اس ہفتے مصر کا دورہ بظاہر دو ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک معمولی موقع ہے۔ لیکن صدر شی اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی ملاقات کے پیچھے ایک گہرا پس منظر ہے۔
عرب نیوز کے مطابق چین، جو امریکہ کا سب سے بڑا عالمی حریف ہے، تیزی سے بدلتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے امریکہ کے ایک کلیدی اتحادی کے ساتھ وسیع تعلقات قائم کر رہا ہے۔ شی کا مقصد چین کو خطے میں ایک استحکام پیدا کرنے والی طاقت کے طور پر پیش کرنا ہے، اس کے برعکس امریکہ جو دہائیوں سے یہاں فوجی طور پر الجھا ہوا ہے، ایران کے ساتھ اس کی چھ ماہ کی جنگ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔
شی منگل کی شام قاہرہ ایئرپورٹ پہنچے جہاں چینی اور مصری جھنڈوں سے سجاوٹ کی گئی تھی۔ السیسی اور فوجی دستوں نے انہیں سرخ قالین پر خوش آمدید کہا۔ دونوں رہنماؤں کی بدھ کو ملاقات طے ہے اور شی مصر کے عظیم میوزیم کا دورہ بھی کریں گے جو اہرامِ جیزہ کے قریب واقع ہے۔ یہ شی کا مصر کا دس سال بعد پہلا دورہ ہے اور 2022 میں سعودی عرب کے دورے کے بعد خطے کا پہلا سفر ہے۔
دونوں رہنماؤں نے منگل کو مصر کے سرکاری اخبارات میں دوستانہ مضامین شائع کر کے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔ شی نے لکھا کہ بیجنگ اور قاہرہ کو ترقی کے ذریعے ’عملی تعاون کے دائرے کو وسیع‘ کرنا چاہیے۔ السیسی نے مصر میں چین کی سرمایہ کاری کی تعریف کی اور تائیوان کو چین کا حصہ ماننے کے دعوے کی حمایت دہرائی۔ مصر چین کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو اپنی اسٹریٹجک شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
2023 میں مصر کو برکس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں اور اسے مغربی اداروں جیسے جی سیون کا توازن سمجھا جاتا ہے۔
ایک سال بعد مصر نے چین کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر تعاون کے معاہدے کیے۔ چین نے مصر میں 10 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں قاہرہ کے مشرق میں ایک بزنس ہب اور نائل ڈیلٹا میں صنعتی ریلوے لائن شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 20 ارب ڈالر ہے، جبکہ امریکہ اور مصر کے درمیان تجارت 2025 میں 15.7 ارب ڈالر رہی۔
چین خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 2023 میں بیجنگ نے ایران، جو اس کا سب سے اہم علاقائی اتحادی اور تیل فراہم کرنے والا ملک ہے، اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے کا معاہدہ کرایا۔ چین اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور 2023 میں فلسطینی صدر محمود عباس کی میزبانی کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ’سٹریٹجک شراکت داری‘ کا اعلان کیا۔
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکی پابندیوں نے ایران کے مالی روابط کو نشانہ بنایا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل شدید متاثر ہے، اس لیے مصر کے زیرِ انتظام نہر سویز توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن گئی ہے۔ ایک ماہر کے مطابق ’چین کے لیے اس ملک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ٹھوس وجہ ہے جو اس راستے کو کنٹرول کرتا ہے۔‘
اگست میں چین اور مصر نے کئی فضائی اڈوں پر مشترکہ جنگی مشقیں کیں، جن میں چین کے جے16 لڑاکا طیارے اور مصر کے فرانسیسی ساختہ رافیل شامل تھے۔ شی قاہرہ کا دورہ شنگھائی تعاون تنظیم کی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کے بعد کر رہے ہیں، جسے امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ کا توازن سمجھا جاتا ہے۔
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکی پابندیوں نے ایران کے مالی روابط کو نشانہ بنایا ہے۔ چین، جو ایران کے 80 فیصد سے زیادہ تیل خریدتا ہے، کہتا ہے کہ اس کی تجارت ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق رہی ہے۔