امریکی میڈیا کی رپورٹس: ایران کی میزائل صلاحیتوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے دباؤ میں
تہران کے مطابق اس میزائل کی رینج تقریباً 1,450 کلومیٹر ہے، جس کے باعث خلیج میں موجود کئی اہم امریکی فوجی تنصیبات اس کی زد میں آ جاتی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کی میزائل صلاحیتوں میں مسلسل پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کے اس نیٹ ورک کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے، جو کئی دہائیوں سے خطے میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی کی بنیاد رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان خدشات کے مرکز میں ’خیبر شکن‘ میزائل ہے، جو ٹھوس ایندھن سے چلنے والا اور متحرک بیلسٹک میزائل ہے اور ایران نے اسے 2022 میں متعارف کرایا تھا۔
تہران کے مطابق اس میزائل کی رینج تقریباً 1,450 کلومیٹر ہے، جس کے باعث خلیج میں موجود کئی اہم امریکی فوجی تنصیبات اس کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اس میزائل کو پرواز کے آخری مرحلے میں سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے ساتھ بھی ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا مقصد اسے میزائل دفاعی نظام کے لیے روکنا مزید مشکل بنانا ہے۔
خیبر شکن میزائل
پرانے بیلسٹک میزائلوں کے برعکس، جو نسبتاً زیادہ متوقع راستے پر پرواز کرتے ہیں، خیبر شکن کی آخری مرحلے میں سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت اس وقت اسے روکنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہے جب یہ اپنے ہدف کے قریب پہنچ رہا ہو۔
اس کا ٹھوس ایندھن سے چلنے والا نظام اور متحرک لانچر بھی اسے لانچ سے پہلے تلاش کرکے تباہ کرنا زیادہ مشکل بنا سکتے ہیں۔
جاری تنازع کے دوران اس میزائل کی صلاحیتوں اور امریکی تنصیبات کے خلاف اس کے مبینہ استعمال پر بھی خاصی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔
امریکی میڈیا، بشمول یو ایس اے ٹو ڈے نے ایرانی حکومت کے بیانات، سابق امریکی فوجی و انٹیلی جنس حکام اور ہتھیاروں کے تجزیہ کاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کے لیے خیبر شکن میزائل استعمال کیے۔ تاہم امریکی حکومت نے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور نہ ہی خاص طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ خیبر شکن میزائل امریکی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس کے باوجود ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے خطے میں امریکی اور اتحادی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے کیے گئے سیٹلائٹ تجزیے، جس کا حوالہ یو ایس اے ٹو ڈے نے دیا، کے مطابق کم از کم 15 امریکی فوجی تنصیبات پر 228 عمارتیں اور فوجی سازوسامان کے حصے تباہ یا نقصان زدہ ہوئے ہیں۔
تاہم ان حملوں کے سٹریٹجک اثرات کے بارے میں اب بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔
امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل بیری میک کیفری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں امریکہ نے خلیج فارس کے 15 فوجی اڈوں تک رسائی ممکنہ طور پر مستقل طور پر کھو دی ہے۔ انہوں نے یہ تجزیہ 22 اگست کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں پیش کیا تھا اور بعد میں یو ایس اے ٹو ڈے سے گفتگو میں بھی اس پر بات کی۔ ان کے مطابق ایران کی میزائل صلاحیتیں ان کے اس نتیجے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
تاہم پینٹاگون کا مؤقف برقرار ہے کہ امریکی افواج اور دفاعی نظام بدستور فعال ہیں اور آنے والے زیادہ تر خطرات کو کامیابی سے روک لیا گیا ہے۔