Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل نے امریکہ کی حمایت یافتہ غزہ جنگ بندی مسترد کر دی، نیتن یاہو کا فوجی موجودگی جاری رکھنے کا اعلان

 یلو لائن ان علاقوں کے درمیان حد بندی کرتی ہے جو حماس اور اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیا مین نیتن یاہو نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی پوزیشنز کے دورے کے دوران کہا کہ اسرائیلی افواج اپنی موجودہ پوزیشنز سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بنیا مین نیتن یاہو نے یلو لائن کے قریب گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ ہم اسی لائن پر موجود رہیں گے۔‘
 یلو لائن ان علاقوں کے درمیان حد بندی کرتی ہے جو حماس اور اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ دشمنی ختم کریں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن اور امریکی محکمۂ خارجہ کے بیانات کے مطابق، امریکہ کی سپورٹ سے ہونے والی ہ جنگ بندی کی تجویز کو عالمی سطح پر بھی حمایت حاصل ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تجویز کا مقصد شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی لانا اور انسانی امداد کی غزہ تک رسائی آسان بنانا ہے۔
غزہ میں فوجی کارروائیوں پر اسرائیل، حماس اور عالمی مؤقف
نیتن یاہو کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اس کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔ اسرائیلی حکومت اپنے جاری فوجی وجود کا جواز بارہا سکیورٹی خدشات اور غزہ سے ہونے والے حملوں کی روک تھام کی ضرورت کو قرار دیتی رہی ہے۔
غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھنے والی حماس نے اسرائیلی فوجی موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کے لیے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کو پیشگی شرط قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کے ایک بیان کے مطابق حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کی مذمت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اپنے ترجمان سٹیفان دوجارک کے ذریعے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ جنگ کے انسانی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
مصر کی وزارتِ خارجہ نے بھی دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی قبول کریں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عزہ کی قانونی حیثیت

اقوامِ متحدہ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی جانب سے پیش کیے گئے بین الاقوامی قانون کے مؤقف کے مطابق، غزہ کو مقبوضہ علاقہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسرائیل کو اس کی سرحدوں، فضائی حدود اور سمندری رسائی پر وسیع پیمانے پر کنٹرول حاصل ہے، اگرچہ اسرائیل نے 2005 میں غزہ سے اپنی مستقل زمینی فوج واپس بلا لی تھی۔
تاہم غزہ کی قانونی حیثیت سفارتی فورمز پر مسلسل زیرِ بحث رہنے والا معاملہ ہے۔
غزہ میں زمینی صورتِ حال کی آزادانہ تصدیق اس وقت محدود ہے، کیونکہ صحافیوں اور بین الاقوامی مبصرین کی علاقے تک رسائی پر پابندیاں موجود ہیں۔

شیئر: