طریف میں باز پکڑنے کے لیے جال بنانے کا ہنر، نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک دستکاری
جالوں کی تیاری کا سیزن اگست میں شروع ہوتا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
حدود شمالیہ ریجن کی طریف کمشنری کئی دہائیوں سے ہاتھ سے بنے فالکن پکڑنے کے جالوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ ایک روایتی ہنر ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ اس کام سے وابستہ افراد کے لیے سیزن میں آمدنی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
ان جالوں کی تیاری کا سیزن اگست میں شروع ہوتا ہے۔ موسمِ خزاں میں فالکنز کی نقل مکانی کے وقت ان کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر تک جاری رہتا ہے۔
فالکن اپنے موسمی ہجرتی راستوں پر طریف کے علاقے میں صحرائے الحماد کے آسمان کو جنوب کی طرف عبور کرتے ہیں جس سے یہ علاقہ شکاری پرندے کو پکڑنے کے شوقین افراد کی ایک منزل بن جاتا ہے۔
فالکنزی کے شوقین اور جال بنانے کے ماہر احمد البناقی نے کہا کہ یہ جال سادہ خام مال سے تیار کیے جاتے ہیں جس میں باریک دھاتی تاریں، نائیلون اور باریک ریشم شامل ہے۔ ان کا وزن پانچ گرام سے زیادہ نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا یہ جال کیوتر یا جربوع (چھوٹا صحرائی جانور) کے اوپر رکھا جاتا ہے یہ طریقہ فالکن کو ترغیب دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب فالکن اپنے شکار پر جھپٹتا ہے تو اس کے پنجے جال میں پھنس جاتے ہیں جس سے شکاری پرندے کو پکڑنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک جال تیار کرنے میں تقریبا آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔

حدود شمالیہ کے علاقے میں صحرائے الحماد ہر سال ستمبر کے آغاز سے نومبر کے آخر تک مملکت اور خلیج کے ملکوں سے آنے والے فالکنری کے شوقین افراد کی ایک منزل ہے۔
یہ علاقہ فالکن کے نقل مکانی کرنے والے راستوں میں سے ایک پر واقع ہے، خصوصاً پیریگرین فالکن یہاں سے گزرتے ہیں۔
