قصر مشرف: سعودی عرب کے تاریخی ورثے کی منفرد جھلک
سعودی عرب کی بلجرشی کمشنری میں واقع ’قصر مشرف‘ 700 برس پرانا ہے۔ اس محل کا شمار انتہائی قدیم ’محلات‘ میں ہوتا ہے۔
سعودی ٹی وی چینل ون کے پروگرام ’صیف دیرتنا‘ (ہمارے علاقے کا موسم گرما) میں اس عمارت کے مالک ڈاکٹر احمد سعد غرم نے بتایا تھا کہ یہ تاریخی محل بلجرشی کمشنری کے ’سوق السبت‘ (سنیچر بازار) میں واقع ہے۔
محل کے نام کے حوالے سے ان کہنا تھا ’محل ایسے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا کہ وہاں سے وادی کی براہ راست نگرانی ہوا کرتی تھی اسی لیے اس کا نام ’قصر مشرف‘ یعنی نگران محل پڑا۔
الباحہ ریجن کی کمشنری بلجرشی میں واقع یہ قدیم محل، سیاحتی و تاریخی پیغام دیتا ہے تاکہ مختلف مقامات سے آنے والے سیاح اس قدیم تاریخی ورثے کا بذات خود مشاہدہ کرسکیں۔
قصر مشرف کی تعمیر و رقبے کے حوالے سے ڈاکٹر احمد سعد غرم نے بتایا ہمارے اجداد جب اس علاقے میں آئے تو انہوں نے یہاں قیام کیا، ابتدا میں یہ واحد مقام تھا بعد ازاں اس میں ضرورت کے مطابق توسیع کی جاتی رہی۔
یہ محل 25 کمروں اور وسیع مجلس پر مشتمل ہے اور اسلامی و عربی طرزِ تعمیر کا حامل ہے۔
سال ہجری 1373 میں اس محل میں تعلیم کا مرکزی دفتر بنایا گیا، یہاں ادارہ تعلیم 1398 سال ہجری تک رہا بعد ازاں دوسری جگہ اسے منتقل کردیا گیا۔
اس محل کی تاریخی اہمیت ہے، طرزِ تعمیر انتہائی منفرد ہے، اس میں مختلف ممالک کے تعمیرات کی جھلک دکھائی دیتی ہے، یہاں اندلس کا تعمیراتی انداز بھی دکھائی دے گا اور شامی طرز بناوٹ و سجاوٹ کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔
اس محل کی تعمیر گرینائٹ اور بازلٹ پتھروں سے کی گئی ہے جو علاقے کے اطراف کے پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں، جہاں تک اس محل کے نقش و نگار کی بات ہے تو یہ جان لیں کہ اہل بلجرشی عہدِ ماضی سے ہی مختلف انواع کے نقش و نگار کے ماہر ہیں جس کی شاندار مثال یہاں موجود نقوش میں دکھائی دیتی ہے۔