Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تاریخی محل السبیعی: جہاں شاہ عبدالعزیز ریاض اور حجاز کے سفر کے دوران قیام کرتے تھے

محل میں اسلامی اور اندلسی طرز تعمیر کی جھلک قصر السبیعی میں نمایاں ہے ( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
ریاض ریجن کی کمشنری شقراء میں واقع قصر السبیعی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ بانی مملکت شاہ عبدالعزیز ریاض اور حجاز کے درمیان سفر کے دوران اس محل میں قیام کیا کرتے تھے۔
ایس پی اے کے مطابق قصر السبیعی کی ابتدائی تعمیر سال ہجری 1327 بمطابق 1909 میں شیخ عبداللہ  بن محمد السبیعی نے کرائی تھی۔ بعدازاں 1936 میں شیخ عبدالرحمان بن عبداللہ السبیعی نے اس محل کو از سرِ نو تعمیر کرایا۔
یہ تاریخی محل شقراء کمشنری کے قدیم علاقے کے جنوب مغربی سمت میں واقع ہے جو ریاض شہر سے تقریباً 200 کلو میٹر دوری پر ہے۔ یہ راستہ ماضی میں ریاض اور حجاز کو ملانے والے تاریخی راستے پرایک اہم پڑاؤ کی حیثیت کا حامل رہا تھا۔
محل کی دیگر تاریخی حیثیت بھی رہی تھی جن میں افواج کا کمانڈ سینٹر، بعض اہم معرکوں کے دوران کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے طور پر بھی اس محل کو استعمال کیا جاتا رہا تھا۔
اس تاریخی عمارت کی دو مرتبہ مرمت کی گئی۔ پہلی بار سال ہجری 1411 جبکہ دوسری مرتبہ 1421 میں وزارتِ سیاحت کی زیرنگرانی محل کی بحالی کا کام کیا گیا۔

محل میں 32 کمرے ہیں جبکہ مجموعی طور پر دو منزلہ ہے۔ تاریخی نوادرات بھی اس محل میں رکھے گئے ہیں۔
عمارت کے وسط میں ایک کشادہ صحن ہے جس کے گرد دونوں منزلوں پر برآمدے بنائے گئے ہیں۔ محل کی دیواریں نجدی طرزِ تعمیر کے مطابق کچی اینٹوں سے بنائی گئی ہیں۔
اسلامی، اندلسی طرزِ تعمیر کی جھلک قصر السبیعی میں واضح طور پر نمایاں ہے۔ بیرونی اور اندرونی حصوں کو خوبصورت بالکونیوں، عربی و اسلامی نقش ونگار سے سجایا گیا ہے۔

عمارت کے سامنے والے حصے پر نمایاں فریم اور تکون نما معماری عناصر اس انداز میں بنائے گئے ہیں کہ بارش کا پانی دیواروں سے ٹکرا کر اندر نہ جا سکے۔
محل کے لکڑی کے دروازوں اور کھڑکیوں پر ہاتھ سے تراشے گئے پھول بوٹوں کے نقوش بنائے گئے ہیں جن میں انگور کے خوشے نمایاں ہیں۔ جو اس دور کے فنِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔
اندرونی جانب پتھریلے ستون نصب ہیں جو ہموار دائروں پر مشتمل ہیں جبکہ چھتوں کے ستون اور سہارے کی تعمیر میں درختوں کے تنوں، کھجور کے پتوں اور چکنی مٹی کا استعمال کیا گیا ہے۔

شیئر: