Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا الزائمر کی بیماری کو یادداشت جانے سے پہلے روکا جا سکتا ہے؟

برطانیہ میں رواں سال کے اختتام تک کم از کم 15 ہسپتالوں اور کلینکس کے اس تحقیق میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایسے افراد پر الزائمر کی ایک تجرباتی دوا آزمائی جا رہی ہے جنہیں ابھی یادداشت کی خرابی کا سامنا نہیں، مگر ان میں مستقبل میں اس بیماری کے بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہے۔ طبی ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے علاج شروع کرکے ڈیمینشیا کو روکا جا سکتا ہے۔
برطانوی اخبار گاڈیئن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بین الاقوامی فیز تھری کلینیکل ٹرائل ہے، جس کا نام ’پریونٹرون‘ رکھا گیا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے 55 سے 80 سال کی عمر کے قریباً 1600 افراد کو شامل کیا جائے گا۔
یورپ میں اس آزمائش کے پہلے شرکا کی سکریننگ برطانیہ کے سرے اینڈ بارڈرز پارٹنرشپ این ایچ ایس ٹرسٹ کے تحت کی جائے گی۔
تحقیق میں شامل ہونے والے افراد کا پہلے یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا انہیں یادداشت سے متعلق کوئی مسئلہ تو نہیں۔ اس کے بعد خون کا ایک ٹیسٹ کیا جائے گا جس کے ذریعے p-tau217 نامی حیاتیاتی نشان کی سطح معلوم کی جائے گی۔
p-tau217 کو الزائمر کے آغاز سے منسلک ایک اہم بائیو میکر سمجھا جاتا ہے۔ سابقہ تحقیق کے مطابق جن افراد میں اس کی سطح سب سے زیادہ تھی، ان میں 10 سال کے اندر ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا اندازاً 78 فیصد امکان پایا گیا۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خون میں p-tau217 کی پیمائش کرنے والے ٹیسٹ بعض صورتوں میں الزائمر کی بیماری کی شناخت 95 فیصد تک درستگی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔
تجرباتی دوا ٹرونٹینیماب
فیز تھری پریونٹرون آزمائش میں ان افراد کو ٹرونٹینیماب  نامی نئی دوا دی جائے گی جن میں p-tau217 کی سطح زیادہ ہو اور جو آزمائش کے دیگر معیار پر بھی پورے اترتے ہوں۔
ایک سوئس دوا ساز کمپنی کی تیار کردہ ٹرونٹینیماب دماغ میں جمع ہونے والے ایمیلائڈ پلاکس کو ہدف بناتی ہے۔ یہ زہریلے پروٹین کا ایک مجموعہ ہے جسے الزائمر کی بیماری کی اہم خصوصیات میں شمار کیا جاتا ہے اور جو وقت کے ساتھ دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ابتدائی تحقیق میں دوا کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی مرحلے کے الزائمر یا معمولی ذہنی کمزوری کا شکار افراد میں 28 ہفتوں کے علاج کے بعد تقریباً 10 میں سے 9 افراد کے دماغ سے ایمیلائڈ پلاکس  صاف ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

80 سال سے زیادہ عمر کے ہر چھ میں سے ایک فرد کو متاثر کرتی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ نئی آزمائش کا اصل مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر یہ دوا بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے دی جائے تو کیا اس سے ڈیمینشیا کے آغاز کو روکا جا سکتا ہے۔
برطانیہ میں رواں سال کے اختتام تک کم از کم 15 ہسپتالوں اور کلینکس کے اس تحقیق میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
آزمائش تقریباً چار سے چھ سال جاری رہے گی۔ شرکا کو تصادفی طور پر ٹرونٹینیماب یا پلاسیبو دیا جائے گا اور پھر ان کی نگرانی کی جائے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں ڈیمینشیا کی علامات کتنی تیزی سے ظاہر ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق الزائمر دماغ میں اس وقت سے نشوونما پانا شروع کر سکتا ہے جب مریض عام طور پر یادداشت کے مسائل کے علاج کے لیے طبی مدد حاصل کرنے سے تقریباً 10 سال پہلے تک بظاہر صحت مند ہو۔
یہ بیماری 65 سال سے زائد عمر کے تقریباً ہر 14 میں سے ایک فرد جبکہ 80 سال سے زیادہ عمر کے ہر چھ میں سے ایک فرد کو متاثر کرتی ہے۔

شیئر: