ڈارک میٹر کی تلاش میں اہم پیش رفت، سائنس دانوں کو نایاب ذراتی تعامل کا ممکنہ سگنل مل گیا
ڈارک میٹر کی تلاش میں اہم پیش رفت، سائنس دانوں کو نایاب ذراتی تعامل کا ممکنہ سگنل مل گیا
جمعرات 3 ستمبر 2026 6:19
سائنس دانوں کے مطابق کائنات میں موجود مادے کا تقریباً 85 فیصد ڈارک میٹر ہے۔(فوٹو: ایس یو آر ایف)
سائنس دانوں نے ڈارک میٹر کی تلاش میں ممکنہ اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک ایسے ذراتی تعامل کا مشاہدہ کیا ہے جو ڈارک میٹر کے ممکنہ ذرے سے متعلق ہوسکتا ہے، تاہم محققین نے اسے ڈارک میٹر کی حتمی دریافت قرار نہیں دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ مشاہدہ امریکا کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں زمین سے تقریباً 1.6 کلومیٹر گہرائی میں قائم زیرِ زمین تحقیقی مرکز سینفورڈ انڈر گراؤنڈ ریسرچ فیسلٹی (ایس یو آر ایف) میں جاری ایک تجربے کے دوران سامنے آیا، جہاں سائنس دان ڈارک میٹر کے انتہائی نایاب تعاملات کی تلاش کررہے ہیں۔
ڈارک میٹر’تاریک مادے‘ کائنات کا ایک ایسا پراسرار جزو ہے جو روشنی خارج یا منعکس نہیں کرتا، جس کے باعث اسے براہ راست دیکھا نہیں جاسکتا۔
سائنس دانوں کے مطابق کائنات میں موجود مادے کا تقریباً 85 فیصد ڈارک میٹر ہے، جبکہ باقی تقریباً 15 فیصد عام مادہ ہے جس سے ستارے، سیارے، انسان اور دیگر نظر آنے والی اشیا تشکیل پاتی ہیں۔
اگرچہ ڈارک میٹر براہ راست دکھائی نہیں دیتا، سائنس دان اس کے وجود پر اس لیے پُراعتماد ہیں کہ اس کی کششِ ثقل کے اثرات کہکشاؤں اور کہکشانی جھرمٹوں کی سطح پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل سے وابستہ ذراتی طبیعیات کے ماہر اور تحقیق کے مرکزی مصنف سیم ایرکسن نے کہا کہ یہ مشاہدہ ’ڈارک میٹر کے مشاہدے کا پہلا اشارہ‘ ہوسکتا ہے۔
یہ مشاہدہ ’لکس زیپلِن‘ نامی تجربے کے دوران سامنے آیا، جو ڈارک میٹر کے ممکنہ ذرات، بالخصوص ’کمزور تعامل رکھنے والے بھاری ذرات‘ کی تلاش کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ تجربہ ساؤتھ ڈکوٹا کے بلیک ہلز علاقے میں ایک سابق سونے کی کان میں قائم زیرِ زمین تحقیقی مرکز میں جاری ہے۔
اس تجربے میں مائع حالت میں 10 ٹن زینون استعمال کیا گیا ہے.
سائنس دان اس بات کی تلاش کررہے ہیں کہ ڈارک میٹر کا کوئی ممکنہ ذرہ زینون کے ایٹم سے ٹکراتا ہے یا نہیں۔ ذرّے کے ٹکرانے کی صورت میں روشنی کی انتہائی مدھم چمک پیدا ہوسکتی ہے، جس کی خصوصیات سے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ تعامل کس قسم کے ذرے کے ساتھ ہوا۔
محققین نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک واقعہ ہے اور اس بنیاد پر ڈارک میٹر کی دریافت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔(فوٹو: ایس یو آر ایف)
محققین کے مطابق تازہ مشاہدے میں زینون کے ایک ایٹم اور دوسرے ذرے کے درمیان ایسا تعامل ریکارڈ کیا گیا جو ڈارک میٹر کے ممکنہ ذرے کے متوقع رویے سے مطابقت رکھتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ممکنہ طور پر یہ ذرہ زینون ایٹم کے مرکزے سے ٹکرایا، جس سے تھوڑی مقدار میں توانائی منتقل ہوئی اور بالائے بنفشی روشنی کی ایک مدھم چمک پیدا ہوئی۔ اس ٹکر کے نتیجے میں زینون ایٹم کے مرکزے میں بھی حرکت پیدا ہوئی۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک واقعہ ہے اور اس بنیاد پر ڈارک میٹر کی دریافت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ سائنس دان اب اس مشاہدے کی دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
تحقیق کی شریک مصنف اور امریکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس سے وابستہ ماہرِ فلکیات الیوائن کاماہا نے کہا کہ ممکن ہے سائنس دانوں نے کسی غیر معمولی چیز کا مشاہدہ کیا ہو، لیکن اس نتیجے تک پہنچنے سے پہلے انتہائی سخت سائنسی جانچ ضروری ہے۔
کاماہا کے مطابق ممکن ہے کہ ہر سیکنڈ میں ڈارک میٹر کے لاکھوں ذرات انسانی جسموں سے گزرتے ہوں۔(فوٹو:ناسا)
کاماہا کے مطابق ممکن ہے کہ ہر سیکنڈ میں ڈارک میٹر کے لاکھوں ذرات انسانی جسموں سے گزرتے ہوں، تاہم ان میں سے تقریباً کوئی بھی انسانی جسم کے ایٹم سے تعامل نہیں کرتا۔
سائنس دان ڈارک میٹر کی تلاش کے لیے مختلف طریقے اختیار کررہے ہیں، جن میں کہکشاؤں اور کائنات پر اس کے کششِ ثقل کے اثرات کا مطالعہ، ذراتی سرعت گاہوں میں ڈارک میٹر کے ذرات پیدا کرنے کی کوشش اور زمین کی گہرائی میں قائم تجربہ گاہوں کے ذریعے براہ راست مشاہدہ شامل ہے۔
کاماہا نے ڈارک میٹر کو کہکشاؤں کی تشکیل میں مدد دینے والا ’کائناتی گوند‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر کائنات کا ارتقائی عمل بہت مختلف ہوسکتا تھا اور وہ خلائی ڈھانچے شاید اس طرح تشکیل نہ پاتے جنہوں نے بالآخر ہمارے نظام شمسی کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔