Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیوزی لینڈ میں ذہنی صدمے کے علاج کے لیے ’پارٹی ڈرگ‘  ایم ڈی ایم اے کے استعمال کی منظوری

ڈیوڈ سیمور کے مطابق نیوزی لینڈ ’جدید اور اختراعی علاج‘ تک لوگوں کی رسائی بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
 نیوزی لینڈ میں دو ماہرِ نفسیات کو شدید پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ایس ٹی ڈی) میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے طبی معیار کے مطابق تیار کردہ ایم ڈی ایم اے (ایم ڈی ایم اے) تجویز کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
خبررساں ادارے ایے ایف پی کے مطابق نیوزی لینڈ کے ادویات کے نگران ادارے ’میڈ سیف‘ کی جانب سے جمعے کو دی گئی اس منظوری کے بعد نیوزی لینڈ دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے جہاں پی ٹی ایس ڈی کے علاج میں ایم ڈی ایم اے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل 2023 میں آسٹریلیا نے اس کے استعمال کی منظوری دی تھی۔
نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم ڈیوڈ سیمور نے کہا کہ ’پی ٹی ایس ڈی زندگیوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اس کا علاج مشکل ہے۔‘
ڈیوڈ سیمور نے گزشتہ برس شدید ڈپریشن کے شکار افراد کے علاج کے لیے میجک مشرومز میں موجود سائیکیڈیلک مادے کے استعمال کی منظوری کی بھی حمایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’سائیکیڈیلک معاون تھراپی کے ذریعے ایم ڈی ایم اے پی ٹی ایس ڈی کے علاج میں انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔‘
ڈیوڈ سیمور کے مطابق نیوزی لینڈ ’جدید اور اختراعی علاج‘ تک لوگوں کی رسائی بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
پی ٹی ایس ڈی کیا ہے؟
پی ٹی ایس ڈی ایک ذہنی صحت کی کیفیت ہے جو کسی شخص کو موت، جنگی حالات، جنسی تشدد یا کسی دوسرے شدید صدمے کا سامنا ہونے، یا ایسے کسی واقعے کا خطرہ لاحق ہونے کے بعد پیدا ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں ایم ڈی ایم اے کے طبی استعمال سے متعلق کلینیکل ٹرائلز اب بھی جاری ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 2024 میں طبی مقاصد کے لیے ایم ڈی ایم اے کے استعمال کو قانونی حیثیت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ادارے کا مؤقف تھا کہ اس دوا کے محفوظ اور مؤثر ہونے کے بارے میں شواہد کافی نہیں ہیں۔
امریکہ میں اس وقت پی ٹی ایس ڈی کے علاج کے لیے منظور شدہ ادویاتی اختیارات بنیادی طور پر دو اینٹی ڈپریسنٹس تک محدود ہیں۔ ان ادویات کو اثر ظاہر کرنے میں تقریباً تین ماہ لگ سکتے ہیں اور مختلف مریضوں میں ان کا ردعمل یکساں نہیں ہوتا۔
گزشتہ برس اسرائیل میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نووا میوزک فیسٹیول میں موجود بعض افراد، جہاں حماس کے حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے، کی جانب سے ایم ڈی ایم اے کے استعمال نے ان پر پڑنے والے شدید صدمے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی۔
نیوزی لینڈ کی وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ ایم ڈی ایم اے پر مبنی علاج کو سائیکوتھراپی کے ساتھ استعمال کیا جائے گا اور مریضوں کو دوا گھر لے جانے کے لیے فراہم نہیں کی جائے گی۔
وزارت کے مطابق ’علاج ایک ایسے کنٹرول شدہ طبی ماحول میں ہوگا جہاں مریض کی نگرانی ایک مجاز ماہرِ نفسیات کرے گا اور یہ علاج کے ایک جامع منصوبے کا حصہ ہوگا۔‘
وزارت نے مزید بتایا کہ اس طریقۂ علاج سے استفادہ کرنے والے مریضوں کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری ہوگی۔

شیئر: