ممتاز امریکی میگزین نیوز ویک کے حالیہ شمارے میں ایک اکسکلیوسیو رپورٹ نے مجھے چونکا دیا۔ ہماری جنریشن کے لیے یہ میگزین بڑی دلچسپی کے حامل رہے۔ مجھے انٹرنیشنل میگزینز میں سے نیوز ویک، ٹائم اور اکانومسٹ ہمیشہ سے پسند ہیں۔ جب میں مختلف اردو اخبارات کا میگزین ایڈیٹر تھا تو ان سے بہت استفادہ کیا۔
نیوز ویک کے حالیہ شمارے کی ٹائٹل سٹوری بڑی تہلکہ خیز اور الارمنگ ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس رپورٹ میں بہت کچھ قابل غور ہے۔ لِیونگ آن دی ایج کے عنوان سے شائع ہونے والی ٹام او کونر کی اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، بس اس نے اپنا طریقۂ واردات بدل لیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
کوئٹہ میں دھماکہ، ڈی ایس پی سمیت تین افراد ہلاک، 25 زخمیNode ID: 649401
رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے دہشت گردوں نے دنیا کی سپرپاور کو نقصان پہنچانے کے لیے میزائل یا کوئی جدید فوجی ہتھیار استعمال نہیں کیا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں چند معمولی باکس کٹر تھے، جن کی مدد سے انہوں نے مسافر طیارے اغوا کیے اور پھر جہازوں ہی کو ہتھیار بنا ڈالا۔ اس ہولناک واقعے کا اصل سبق یہ تھا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے ہمیشہ بڑے ہتھیار درکار نہیں ہوتے۔ اس کے لیے چالاک دہشت گرد ، محتاط منصوبہ بندی اور سکیورٹی نظام کی ایسی کمزوری کافی ہے جو سب کے سامنے ہونے کے باوجود کسی کو دکھائی نہ دے۔
نائن الیون کے 25 برس بعد خطرہ کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اب کسی دہشت گرد کے ہاتھ میں صرف باکس کٹر نہیں بلکہ بازار سے خریدا ہوا ڈرون، مصنوعی ذہانت، سائبر ٹولز اور عالمی سوشل میڈیا بھی آ سکتا ہے۔
ہم پاکستانی اس خطرے کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ اس نئی دہشت گردی کے ابتدائی آثار ہمارے دروازے تک پہنچ چکے ہیں۔

جب تباہی کی طاقت عام ہو گئی
نیوز ویک نے مختلف عسکری اور کاؤنٹر ٹیررازم ماہرین کے حوالے سے گفتگو کی اور اہم نکتہ اٹھایا کہ ماضی میں جدید فوجی ٹیکنالوجی بڑی ریاستوں کے قبضے میں ہوتی تھی۔ مہنگی قیمت، پیچیدہ تیاری اور برآمدی پابندیوں کی وجہ سے دہشت گرد تنظیمیں اسے آسانی سے حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔
اب صورت حال الٹ رہی ہے۔ کمرشل ڈرون بازار میں دستیاب ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے طاقت ور ماڈل انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ کسی مشین کے استعمال کی تربیتی ویڈیو چند سیکنڈ میں مل جاتی ہے۔
اس تبدیلی کی پہلی بڑی مثال داعش تھی۔ ایک زمانے میں ڈرون کا نام آتا تو امریکہ کا ایم کیو نائن ریپر ذہن میں آتا، جس کی قیمت تقریباً 34 ملین ڈالر تھی۔ داعش نے ڈرون جنگ کا تصور بدل دیا۔ اس نے بازار میں دستیاب سستے کواڈ کاپٹر خریدے، انہیں بارودی مواد گرانے کے لیے استعمال کیا اور حملوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلا دیں۔ یوں ایک ہی سستی چیز سے حملے، نگرانی اور پروپیگنڈے کے کام لیے گئے۔
سکیورٹی ایکسپرٹ بروس ہوفمین کے مطابق داعش نے تقریباً 80، 82 ممالک سے 53 ہزار غیر ملکی جنگجو بھرتی کیے۔ اس کامیابی میں میدانِ جنگ سے زیادہ سوشل میڈیا کا کردار تھا۔ داعش کی نام نہاد خلافت 2019 تک ختم ہو گئی مگر تنظیم ختم نہیں ہوئی۔ اس کی شاخیں افغانستان اور افریقہ میں موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے ان میں سب سے اہم داعش خراسان ہے۔

مصنوعی ذہانت کا منفی استعمال
نیوز ویک کے مطابق داعش خراسان کے رسالے وائس آف خراسان کے فروری 2026 کے شمارے میں جنگجوؤں کو مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کے طریقے بتائے گئے۔ جولائی میں داعش نواز فورمز پر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی حفاظتی پابندیاں توڑنے اور نگرانی سے بچنے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم اپنی خبریں سنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے بنے ورچوئل نیوز اینکر بھی استعمال کر رہی ہے۔
بظاہر یہ چھوٹی پیش رفت ہے مگر اس کے مضمرات بڑے ہیں۔ پہلے مختلف زبانوں میں پروپیگنڈا بنانے کے لیے مترجم، لکھاری، ویڈیو ایڈیٹر اور تکنیکی عملہ درکار ہوتا تھا۔ اب چند افراد اردو، پشتو، فارسی، عربی اور انگریزی میں بیک وقت مواد تیار کر سکتے ہیں۔ جعلی آواز اور ڈیپ فیک کے ذریعے کسی مذہبی شخصیت، ریاستی افسر یا سیاسی رہنما سے ایسا بیان منسوب کیا جا سکتا ہے جو اس نے کبھی دیا ہی نہ ہو۔
پاکستان میں خطرہ پہنچ چکا
ہمیں یہ غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ دہشت گردوں کے ڈرون استعمال کرنے کا خطرہ ابھی مفروضہ ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق 2025 میں ملک میں کم از کم ایک ہزار 63 عسکریت پسند حملے ہوئے اور چھوٹے ڈرون استعمال کرنے کا رجحان بھی نمایاں ہوا۔
ایک اور تحقیق میں خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے سے 2025 کے دوران ڈرون حملوں یا کوششوں کے ڈھائی سو کے لگ بھگ واقعات کا ذکر ہے جن میں سے 215 صرف بنوں میں رپورٹ ہوئے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ 2025 اور 26 کے دوران ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دونوں نے اپنے ڈرون یونٹ قائم کرنے کا اعلان کیا۔
ابھی یہ ڈرون زیادہ تر نگرانی، بارودی مواد گرانے یا حملے کی ویڈیو بنانے کے محدود مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں مگر ہر نئی جنگی ٹیکنالوجی ابتدا میں خام ہوتی ہے۔ تجربے کے ساتھ اس کی پرواز، درستگی اور تباہی کی صلاحیت بہتر ہوتی جاتی ہے۔

ڈرونوں کے جُھنڈ کا استعمال
نیوز ویک کی سٹوری میں بروس ہوفمین مستقبل کے سب سے بڑے خطرے کو ’سوارمنگ ٹیکٹکس‘ قرار دیتے ہیں۔ اس سے مراد ایک ہی وقت میں مختلف سمتوں اور مقامات سے مربوط حملے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی حکمت عملی مصنوعی ذہانت سے ہدف تلاش کرنے والے درجنوں ڈرونز کے ساتھ استعمال ہو تو کسی گنجان شہر میں اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
ظاہر ہے نیوز ویک نے تو اس خطرے کا جائزہ نہیں لیا مگر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خدانخواستہ دہشت گرد گروہ اگر اس طرح کے حربوں میں کامیاب رہے تو کس قدر نقصان ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑے سیاسی جلسے، مذہبی جلوس، اجتماعات اور بھرے ہوئے کرکٹ سٹیڈیم ہوتے ہیں۔ پولیس وغیرہ کی تنصیبات کے علاوہ ہوائی اڈے، بندرگاہیں، بجلی گھر، ڈیم، آئل ٹرمینل وغیرہ موجود ہیں۔
ان تمام جگہوں پر ایک ہی درجے کا فضائی دفاع فراہم کرنا ممکن نہیں، دہشت گرد کا فائدہ یہی ہے۔ ریاست کو ہر جگہ دفاع کرنا پڑتا ہے، حملہ آور کو صرف ایک جگہ کامیاب ہونا ہے۔
چند ہزار کا حملہ، کروڑوں کا دفاع
دراصل ڈرون جنگ نے حملے اور دفاع کی معاشیات بھی بدل دی ہے۔ نیوز ویک کے مطابق بعض ڈرون تقریباً سات ہزار ڈالر میں تیار ہو سکتے ہیں مگر انہیں روکنے کے لیے کئی لاکھ یا ملین ڈالر کا انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے محدود وسائل رکھنے والے ملک کے لیے یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔
اس لیے ہر ڈرون کا جواب مہنگا میزائل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو ڈرون کی شناخت، الیکٹرونک جیمنگ، جیو فینسنگ اور کم قیمت کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی پر مشتمل کئی تہوں والا دفاعی نظام درکار ہو گا۔
یوکرین سے نکلنے والی نئی مصیبت
یوکرین کی جنگ ڈرون ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بن چکی ہے۔ وہاں مبینہ طور پر ہزاروں فوجیوں اور غیر ملکی رضاکاروں نے ڈرون تیار کرنے، اڑانے اور جنگی استعمال کی مہارت حاصل کی ہے۔ نیوز ویک اسے ’ڈرون ڈائسپورا‘ قرار دیتا ہے۔ افغانستان، عراق اور شام کی جنگوں نے دنیا کو تربیت یافتہ غیر ملکی جنگجو دیے تھے۔ یوکرین کی جنگ دنیا کو تربیت یافتہ ڈرون آپریٹر دے سکتی ہے۔ ان میں باقاعدہ فوجی بھی ہوں گے اور کرائے پر لڑنے والے بھی۔
یہی مہارت (اللہ نہ کرے) کل افغانستان، مشرق وسطیٰ، افریقہ یا جنوبی ایشیا کے مسلح گروہوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، خاص طور پر جب اس کا سامان عام مارکیٹ میں دستیاب ہو۔

دو گولیاں اور دو کروڑ ہلاکتیں
نیوز ویک کی سٹوری کا سب سے گہرا نکتہ زیکری کیلن بورن نے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق وسیع تباہی صرف ایٹمی، کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیار سے نہیں پھیلتی۔ کبھی دہشت گردی کی چھوٹی سی کارروائی بڑی جنگ شروع کرا دیتی، امن مذاکرات تباہ کردیتی یا پورے خطے کو آگ میں دھکیل دیتی ہے۔
انہوں نے آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کے قتل کی مثال دی۔ گیوریلو پرنسپ کی چلائی ہوئی صرف دو گولیوں نے وہ چَین ری ایکشن پیدا کیا جو فرسٹ ورلڈ وار کا باعث بنا۔ اس جنگ میں تقریباً دو کروڑ انسان مارے گئے۔
پاکستانی ماہرین اور منصوبہ سازوں کو اس نکتے پر خاص طور پر غور کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایٹمی ملک ہے، انڈیا سے مستقل کشیدگی ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار رہتے ہیں، اندرونی فرقہ وارانہ حساسیت موجود ہے اور مختلف عالمی طاقتوں کے مفادات یہاں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
خدانخواستہ کسی بڑے حملے کی غلط ذمہ داری، ڈیپ فیک ویڈیو یا سوچے سمجھے اشتعال انگیز واقعے سے ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جو حملہ آور کی اصل صلاحیت سے ہزاروں گنا بڑا ہو۔
اسے ’کیٹالسٹ ٹیررازم‘ کہا جا سکتا ہے یعنی ایسی دہشت گردی جس کا اصل ہدف چند افراد کو مارنا نہیں بلکہ بڑی جنگ، داخلی تصادم یا ریاستی بحران شروع کرانا ہو۔
نئی جنگ کے لیے نئی تیاری
پاکستان دہشت گردی کے خلاف طویل اور خونیں جنگ لڑ چکا ہے۔ ہماری فوج، پولیس، انٹیلی جنس اہلکاروں اور عام شہریوں نے ہزاروں جانیں دی ہیں۔ پاکستان نے بڑے شہروں میں دہشت گرد نیٹ ورک توڑے، قبائلی علاقوں سے منظم گروہوں کا کنٹرول ختم کیا اور خودکش حملوں کی اس لہر کو پسپا کیا جس نے پورے ملک کو خوف زدہ کررکھا تھا۔

یہ مثبت حقائق ہیں مگر مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو جامع نیشنل کاؤنٹر ڈرون حکمت عملی درکار ہے۔ اس موضوع پر ریسرچ کرتے ہوئے چند ایک نکات سمجھ میں آئے۔
ایک: قومی کاؤنٹر ڈرون حکمت عملی: فوج، فضائیہ، پولیس، نیکٹا، سول ایوی ایشن اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشترکہ نظام۔
دو: تھریٹ میپنگ: مذہبی اجتماعات، سٹیڈیم، ایئرپورٹ، فوجی تنصیبات، ڈیم، توانائی منصوبوں اور سی پیک اہداف کی الگ درجہ بندی
تین: پولیس کی تکنیکی اپ گریڈیشن: ہر خطرے کا جواب فوج نہیں دے سکتی۔ ضلعی پولیس کو ڈرون شناخت اور فوری ردعمل کی صلاحیت دینا ہوگی۔
چار: مصنوعی ذہانت سے مصنوعی ذہانت کا مقابلہ: مقامی زبانوں میں انتہا پسند مواد، ڈیپ فیک اور بھرتی کے نیٹ ورکس کی خودکار شناخت۔
پانچ: ڈرون خرید وفروخت کا متوازن ضابطہ: ایسی پابندی نہ ہو جو زراعت، فوٹوگرافی اور صنعت کو نقصان پہنچائے، لیکن حساس پرزوں اور مشکوک خریداری کا سراغ ضرور موجود ہو۔
چھ: افغانستان سے متعلق انٹیلی جنس: داعش خراسان اور ٹی ٹی پی کے تکنیکی یونٹوں، تربیت گاہوں اور آن لائن نیٹ ورکس کو ترجیحی ہدف بنانا۔
سات: علاقائی تعاون: چین، ترکیہ، سعودی عرب اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ کاؤنٹر ڈرون، سائبر سلامتی اور دہشت گردوں کی آن لائن نقل و حرکت پر تعاون۔












