خلیجی تعاون کونسل کے سربراہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت
جاسم محمد البدیوی نے حوثی حملوں کو ’بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا (فائل فوٹو: اے پی)
خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی سعودی عرب کے شہروں پر حوثی حملوں کی مذمت کی ہے، جن کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق ایک بیان میں جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں جبکہ شہریوں کی سلامتی سے مکمل بے اعتنائی اور علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بھی ہیں۔
ان کے مطابق بار بار ہونے والے حملوں سے حوثیوں کے عزائم ظاہر ہوتے ہیں جبکہ یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ وہ یمن میں امن و استحکام کے حصول کے لیے ہونے والی کوششوں کا راستہ روک رہے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’شہری تنصیبات اور قومی وسائل کو نشانہ بنانا قابل مذمت اور دہشت گرد کارروائی ہے جس کے لیے کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔‘
جاسم محمد البدیوی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ حملوں کے ذمہ داروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے۔
انہوں نے جی سی سی کی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک مملکت کی سلامتی، استحکام، خود مختاری اور قومی وسائل کو لاحق خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی حمایت کی اور زخمیوں کی مکمل اور جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
کویت
کویت کی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں حوثیوں کے حملے کو ’سعودی عرب کی خود مختاری‘ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ایسے حملے شہریوں، مقیم افراد کے لیے براہ راست خطرہ، بین الاقوامی و انسانی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
کویت نے بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی۔
بیان کے مطابق ایسی کارروائیاں سمندری آمد و رفت، عالمی طور پر توانائی کے وسائل کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
مصر
مصر کی وزارت خارجہ نے بھی حوثیوں کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔
اس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مصر سعودی عرب کی سلامتی و خود مختاری کولاحق کسی بھی خطرے کے خلاف اس کے ساتھ کھڑا ہے اور جنوبی حصے کے چار شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتا ہے۔‘
قطر
قطر کی جانب سے بھی سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور اس کو ’قابل مذمت اور جارحیت پر مبنی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔
بحرین
بحرین نے بھی سعودی عرب کے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ اپنی خود مختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی جانب سے ہونے والے اقدامات کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔