Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 موسمیاتی خطرات سے دوچار دنیا کے بڑے شہروں میں پاکستان کے 4 شہر شامل

الفا جیو کے مطابق جنوبی ایشیا کے کئی بڑے شہر شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں.(اے ایف پی)
دنیا کے 72 بڑے شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کا جائزہ لینے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کے چار شہر شامل ہیں جو موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان  شہروں میں ملتان تیسرے، لاہور پانچویں، فیصل آباد ساتویں اور کراچی آٹھویں نمبر پر ہے۔
نیویارک ٹائمز کی جانب سے الفا جیو کی تحقیق کی بنیاد پر پیش کی گئی درجہ بندی میں شہروں کا جائزہ صرف سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور سمندری طوفان جیسے موسمیاتی خطرات کی بنیاد پر نہیں لیا گیا بلکہ یہ بھی دیکھا گیا کہ شہر ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔
خطرات سے نمٹنے کی کم صلاحیت والے شہروں کی فہرست میں انڈیا  کا احمد آباد 41 کے سکور کے ساتھ پہلے، حیدرآباد دوسرے، پاکستان کا ملتان 38 کے سکور کے ساتھ تیسرے، بنگلہ دیش کا ڈھاکہ 36 کے ساتھ چوتھے اور پاکستان کا لاہور 35 کے سکور کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔
فہرست میں انڈیا کا کولکاتا چھٹے، پاکستان کا فیصل آباد 34 کے سکور کے ساتھ ساتویں اور کراچی 32 کے سکور کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہے، جبکہ بنگلہ دیش کا چٹگرام نویں نمبر پر ہے۔

پاکستان کے شہر موسمیاتی خطرات کی زد میں

الفا جیو کے مطابق جنوبی ایشیا کے کئی بڑے شہر شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ان کی موافقت کی صلاحیت نسبتاً محدود ہے۔
تحقیق میں شہروں کو اندرونِ ملک اور ساحلی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور سمندری طوفان کی تیز ہواؤں سمیت مختلف خطرات کی بنیاد پر جانچا گیا۔
اس کے ساتھ شہروں کے ابتدائی انتباہی نظام، حکومتی اقدامات، پالیسی ردعمل اور بنیادی ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں سیلاب سے بچاؤ کے بند اور پانی کی نکاسی کے مؤثر نظام شامل ہیں۔
الفا جیو کے بانی اور سربراہ پیراگ کھنہ کے مطابق کسی شہر کی موسمیاتی لچک کا تعین صرف اس کے قدرتی خطرات سے نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ شہر ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کتنی تیاری رکھتا ہے۔

 ملتان سب سے زیادہ خطرے والے پاکستانی شہروں میں 

الفا جیو کے اعداد و شمار کے مطابق ملتان کا خطرے کے بعد باقی رہ جانے والا سکور 38، لاہور کا 35، فیصل آباد کا 34 اور کراچی کا 32 ہے۔ اس پیمانے پر زیادہ سکور کا مطلب زیادہ باقی ماندہ موسمیاتی خطرہ ہے۔
تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیا کے کئی شہر شدید گرمی، مون سون بارشوں اور سیلاب سمیت مختلف موسمیاتی خطرات کی زد میں ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے اور موافقت کے اقدامات ان خطرات کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہوسکتے ہیں۔
الفا جیو کی اصل رپورٹ میں پاکستان کے حیدرآباد کو بھی 41 کے سکور کے ساتھ انتہائی خطرے والے شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔

 شکاگو سب سے زیادہ لچکدار شہر

دوسری جانب امریکہ کا شکاگو 8 کے سکور کے ساتھ دنیا کا سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر بہتر شہر قرار پایا۔
اس کے بعد ایتھوپیا کا ادیس ابابا، آسٹریلیا کا میلبورن، سپین کا بارسلونا، ترکیہ کا انقرہ اور ارجنٹائن کا بیونس آئرس شامل ہیں۔
شکاگو کو نسبتاً معتدل موسم، میٹھے پانی تک بہتر رسائی اور سمندری طوفان کے کم خطرے کا فائدہ حاصل ہے۔ شہر نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں طویل عرصے سے سرمایہ کاری بھی کی ہے، جس میں زیرِ زمین سرنگوں اور پانی ذخیرہ کرنے والے بڑے نظام شامل ہیں۔

مضبوط منصوبہ بندی سے خطرہ کم کیا جاسکتا ہے

رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہ بھی ہو، تاہم مضبوط بنیادی ڈھانچے، بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر حکومتی اقدامات کے ذریعے ان کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں نیپال اور تبت میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات کو بھی موسمیاتی خطرات کی سنگینی کی مثال قرار دیا گیا ہے۔
الفا جیو کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی رفتار بڑھنے کے ساتھ شدید بارشوں اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ وادیوں اور نشیبی علاقوں میں آباد شہروں کو اس کا زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق کسی شہر کو موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں محفوظ بنانے کے لیے صرف جغرافیہ کافی نہیں، بلکہ مضبوط بنیادی ڈھانچہ، مؤثر حکمرانی، بروقت انتباہی نظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نظام میں مسلسل سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔
 

شیئر: