Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پابندی سے وضاحت تک، سوزوکی اور ہونڈا کمپنیز کے نئے اقدامات سے آٹو مارکیٹ میں ہلچل

پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں سامنے آنے والی تبدیلیاں اور خبریں ہمیشہ سے عام صارفین اور خریداروں کے فیصلوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ رواں ماہ ستمبر میں بھی ایسی ہی دو نئی پیشرفت سامنے آئی ہیں جنھوں نے گاڑیوں کے خریداروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
پہلی پیشرفت سوزوکی موٹرز کی طرف سے ہوئی ہے جس نے اپنے ڈیلرشپ نیٹ ورک کو بھیجے گئے خط کے ذریعے کَلٹس کے دو ویریئنٹس ( وی ایکس آر اور اے جی ایس) کی بکنگ پر پابندی لگا دی ہے جس کے بعد اب اس سلسلے میں صرف ایک ہی ماڈل دستیاب رہے گا۔
دوسری جانب ہونڈا ایٹلس نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونڈا سٹی کے نئے ماڈل کی آمد سے متعلق پھیلنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ کمپنی کے مطابق فی الحال موجودہ جنریشن ماڈل کو ختم کرنے یا اس کی جگہ نیا ماڈل متعارف کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اس صورت حال یہ سوال اہم ہے کہ دو بڑی کمپنیوں کی پیشرفت کے پیچھے کیا ہے اور اس سے گاڑیوں کی مارکیٹ اور خریداروں کی ترجیحات پر کیا اثر پڑے گا؟
ویریئنٹس بند کرنے اعلان کیوں کیا گیا؟
پاک سوزوکی نے ڈیلرز کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کلٹس وی ایکس آر  اور اے جی ایس کو ڈس کنٹینیو کرنے کی کوئی باضابطہ وجہ تو بیان نہیں کی تاہم انڈسٹری ذرائع کے مطابق اس کے پیچھے پیداواری لاگت میں اضافہ اور پرزوں کی درآمدی مشکلات اہم وجوہات ہیں۔ 
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق 1000 سی سی تک کی کیٹیگری میں سوزوکی آلٹو کی مسلسل بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث کمپنی نے اپنی پیداواری صلاحیت اور سیمی کنڈکٹرز کا استعمال صرف مخصوص ماڈلز تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آپریشنل اخراجات کو کنٹرول کیا جا سکے۔

ہونڈا ایٹلس نے سوشل میڈیا پر ہونڈا سٹی کے نئے ماڈل کی آمد سے متعلق پھیلنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے (فوٹو: ہونڈا ایٹلس)

کمپنی کی جانب سے یکم ستمبر سے ملک بھر کی تمام ڈیلر شپس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وی ایکس آر اور اے جی ایس ویریئنٹس کے لیے کسی قسم کا نیا آرڈر یا ٹوکن رقم قبول نہ کریں۔ 
اس فیصلے کے بعد اب سوزوکی کَلٹس کی لائن اپ میں صرف کلٹس وی ایکس ایل ہی واحد ماڈل باقی بچا ہے جس کی بکنگ اور اسمبلنگ جاری رہے گی۔
مارکیٹ پر اثرات
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق پاک سوزوکی کے اس فیصلے کے نتیجے میں چھوٹی گاڑیوں کی کیٹیگری میں سستی آٹومیٹک گاڑیاں تلاش کرنے والے خریداروں کے اختیارات مزید محدود ہو جائیں گے جس کا فائدہ سوزوکی آلٹو اے جی ایس یا دیگر چینی و کوریائی برانڈز کو ملے گا۔ 
اس کے علاوہ یوزڈ کار مارکیٹ میں کلٹس کے ان دونوں ویرینٹس کی مانگ بڑھنے سے ان کی قیمتوں اور آن منی میں بھی فوری اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ہونڈا سٹی سے متعلق مارکیٹ کی خبریں اور کمپنی کی وضاحت
پاکستان کے آٹو موٹیو پورٹلز اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں تیزی سے گردش کر رہی تھیں کہ ہونڈا ایٹلس ستمبر 2026 میں منعقد ہونے والے ’پاکستان آٹو پارٹس شو‘ کے موقع پر ہونڈا سٹی کا نیا ساتواں جنریشن ماڈل متعارف کرانے جا رہی ہے۔
اس خبر نے گاڑیوں کی مارکیٹ اور بالخصوص ان خریداروں میں دلچسپی  پیدا کر دی تھی جو 2021 سے پاکستان میں فروخت ہونے والے چھٹے جنریشن ماڈل کے تبدیل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

رواں ماہ گاڑیوں سے متعلق پیشرفت نے خصوصی طور پر خریداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اب ان تمام افواہوں پر ہونڈا ایٹلس کارز پاکستان نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے خبروں کو مکمل طور پر من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ 
کمپنی کی جانب سے جاری کیے بیان میں واضح کیا ہے کہ فی الحال نیا ماڈل لانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور صارفین غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر کان دھرنے کے بجائے صرف کمپنی کے مصدقہ ذرائع پر اعتماد کریں۔ 
ہونڈا نے اپنے ڈیلرز کو موجودہ سکستھ جنریشن ہونڈا سٹی کی بکنگز حسبِ معمول جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
کمپنی کی اس باضابطہ وضاحت کے بعد سب سے پہلے تو ان خریداروں کا ابہام ختم ہو گیا ہے جو نیا ماڈل آنے کے خدشے کی وجہ سے موجودہ ہونڈا سٹی کی خریداری معطل یا ملتوی کر رہے تھے۔ 
انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق اس سے بی سیڈان کیٹیگری میں گاڑی کی جاری بکنگز اور فروخت میں استحکام برقرار رہے گا کیونکہ یہ گاڑی اپنی کیٹیگری میں دیگر حریفوں سے پہلے ہی سخت مقابلہ کر رہی ہے۔ 
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ موجودہ چھٹی جنریشن کے مالکان کی ری سیل ویلیو بھی محفوظ ہو گئی ہے کیونکہ نیا ماڈل فوری طور پر مارکیٹ میں نہ آنے کی وجہ سے پرانی گاڑی کی قیمت میں اچانک گراوٹ کا امکان ٹل گیا ہے۔

شیئر: