دانت صاف کرنے کے لیے الیکٹرک ٹوتھ برش بہتر ہے یا عام ٹوتھ برش؟
دانت صاف کرنے کے لیے الیکٹرک ٹوتھ برش بہتر ہے یا عام ٹوتھ برش؟
ہفتہ 12 ستمبر 2026 7:10
ڈاکٹر موہنتی نے مزید کہا کہ الیکٹرک ٹوتھ برش احتیاط سے استعمال نہ کیے جائیں تو مسوڑھوں یا دانتوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔(فوٹو: گیٹی امیجز)
دنیا بھر میں دانتوں کی صفائی کے طریقے گزشتہ کئی برسوں کے دوران نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں روایتی طور پر لوگ دانت صاف کرنے کے لیے درختوں کی ٹہنیوں یعنی ‘داتن‘ کا استعمال کرتے تھے، جس کے بعد دستی ٹوتھ برش کا رواج عام ہوا۔
طرزِ زندگی میں تبدیلی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اب مارکیٹ میں الیکٹرک ٹوتھ برش کی بھرمار ہے۔ مختلف کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ برش بغیر کسی خاص محنت کے دانتوں کو زیادہ اچھی طرح صاف کرتے ہیں۔
تاہم عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اندازاً 3.7 ارب افراد منہ اور دانتوں کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا ہم واقعی اپنے دانت درست طریقے سے صاف کر رہے ہیں؟
ای ٹی وی بھارت سے گفتگو میں مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل سائنسز نئی دہلی کے شعبۂ پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹری کے سربراہ ڈاکٹر وکرانت موہنتی نے کہا کہ بحث صرف اس بات تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ کون سا ٹوتھ برش بہتر یا زیادہ مؤثر ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ لوگ منہ اور دانتوں کی صفائی کے حوالے سے کتنے باشعور ہیں اور کیا انہیں بنیادی نوعیت کی ضروری سہولیات اور وسائل آسانی سے دستیاب ہیں۔
الیکٹرک ٹوتھ برش: بہتر یا صرف زیادہ آسان؟
ڈاکٹر موہنتی نے کہا کہ الیکٹرک ٹوتھ برش کے بارے میں یہ شواہد موجود ہیں کہ وہ دانتوں پر جمی تہہ دور کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق 56 سٹڈیزکے جائزے سے معلوم ہوا کہ الیکٹرک ٹوتھ برش نے دستی ٹوتھ برش کے مقابلے میں پلاک اور مسوڑھوں کی سوزش کو زیادہ کم کیا، اگرچہ اس فرق کی طبی اہمیت کے بارے میں حتمی رائے واضح نہیں تھی۔
ان کے مطابق الیکٹرک ٹوتھ برش کا فائدہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے زیادہ ہو سکتا ہے جنہیں دستی برش سے دانت صاف کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمر اور ہر فرد کی جسمانی صلاحیت کے لحاظ سے ہاتھوں کی حرکت اور گرفت پر قابو رکھنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔
ڈاکٹر موہنتی نے کہا کہ الیکٹرک ٹوتھ برش کے بارے میں یہ شواہد موجود ہیں کہ وہ دانتوں پر جمی تہہ دور کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔(فوٹو: اے ایف پی)
‘کسی شخص کے لیے دستی ٹوتھ برش کے ساتھ درست انداز میں ہاتھ چلانا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ الیکٹرک برش اس حرکت کا بڑا حصہ خود انجام دے سکتا ہے۔ یہ خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد، بزرگوں یا ہاتھوں کی حرکت پر قابو پانے میں دشواری کا سامنا کرنے والوں کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر موہنتی نے مزید کہا کہ الیکٹرک ٹوتھ برش احتیاط سے استعمال نہ کیے جائیں تو مسوڑھوں یا دانتوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
ڈاکٹر موہنتی کے مطابق دانتوں کے مسائل کے کئی مختلف اسباب ہوتے ہیں، اس لیے ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف ٹوتھ برش کو قرار دینے کے بجائے تمام عوامل کا الگ الگ جائزہ لینا زیادہ بہتر ہے۔
ٹیکنالوجی کا مطلب ہمیشہ بہتر اورل صحت نہیں
دندان ساز ڈاکٹر ارونما سنگھل نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال خود بخود بہتر اورل صحت کی ضمانت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق الیکٹرک ٹوتھ برش کو بھی درست طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ برش پر بہت زیادہ دباؤ ڈالنا، ضرورت سے زیادہ سختی سے دانت صاف کرنا یا غلط طریقہ اختیار کرنا دانتوں کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق مقصد زیادہ زور سے برش کرنا نہیں بلکہ پلاک کو مؤثر اور نرم انداز میں صاف کرنا ہونا چاہیے۔