کوئٹہ کان حادثہ: 30 گھنٹے بعد بھی دو لاپتہ کان کنوں کی لاش جاری، 32 لاشیں خیبرپختونخوا روانہ
جمعہ 31 جولائی 2026 18:53
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
کوئٹہ کے قریب گیس دھماکے سے منہدم ہونے والی کوئلہ کانوں سے اب تک 32 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ملبے تلے دبے دو کان کنوں کو تیس گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود بھی نہیں نکالا جاسکا۔
کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور سورینج میں واقع شیخ عزیز لیز کی سردار عثمان اور علی بھائی کول کمپنیوں کی دو کوئلہ کانوں میں یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا تھا اور جمعہ کو دوسرے روز بھی آپریشن جاری ہے۔
پی ڈی ایم اے اور مائنز ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے پہلے پھنسے ہوئے افراد کی تعداد 36 بتائی تھی تاہم چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان محمد عاطف نے جمعہ کی شام کو اردو نیوز کو بتایا کہ درست تعداد 34 ہے جن میں سے اب تک 32 کان کنوں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جنہیں خیبرپختونخوا میں واقع ان کے آبائی علاقوں کو بھیج دیا گیا ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
یہ حادثہ جمعرات کی دوپہر تقریباً دو بجے ایک دوسرے سے ملحقہ دو کانوں میں پیش آیا۔
چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف کے مطابق دھماکہ کان نمبر ایک میں میتھین گیس کی بھاری مقدار جمع ہونے سے ہوا جس سے کان کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے اثرات ملحقہ دوسری کان تک بھی پہنچے کیونکہ دونوں کانیں قریب واقع ہونے کے علاوہ زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے آپس میں جڑی ہوئی تھیں۔
ان کے مطابق ایسی سرنگوں کو 'ہوائی' کہا جاتا ہے جو کان میں ہوا اور آکسیجن کی بلاتعطل ترسیل کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق حادثے کے وقت دونوں کانوں میں مجموعی طور پر 32 کان کن موجود تھے جن میں سے صرف ایک زندہ باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔ باقی 31 ملبے تلے دبنے، راستے بند ہونے یا گیس کے باعث دم گھٹنے سے پھنس گئے۔ انہیں بچانے کے لیے نیچے جانے والے مزید تین کان کن بھی گیس سے دم گھٹنے کے باعث اندر پھنس گئے جس سے پھنسنے والوں کی مجموعی تعداد 34 ہو گئی۔
ریسکیو آپریشن میں مشکلات
محمد عاطف کے مطابق ابتدا میں دونوں کانوں میں گیس کی موجودگی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو داخلے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا جس کے بعد بڑے ایگزاسٹ پنکھوں کے ذریعے گیس نکال کر آکسیجن کی فراہمی بحال کی گئی اور پھر ریسکیو ٹیمیں اندر داخل ہو سکیں۔
چیف انسپکٹر کے مطابق زیادہ تر کان کن پہلی کان میں تقریباً ڈھائی سے تین ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنسے ہوئے تھے جن کی لاشیں ملحقہ کان نمبر دو کے متبادل راستے سے نکالا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کان نمبر دو سے تمام 12 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ کان نمبر ایک سے 22 میں سے 20 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور باقی دو کان کن تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق یہ دو کان کن تقریباً 1600 فٹ کی گہرائی میں کان کے درمیانی حصے میں ایسے مقام پر ملبے تلے دبے ہیں جہاں اوپر اور نیچے دونوں جانب سے بھاری ملبہ موجود ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے ابتدا میں ملحقہ کان کے راستے ملبہ ہٹا کر ان تک پہنچنے کی کوشش کی مگر خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔
انہوں نے بتایا کہ اب حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے اب دونوں کانوں کے درمیان آکسیجن کی ترسیل کے لیے بنائی گئی ایک بند سرنگ کھول کر متبادل راستے سے متاثرہ حصے تک رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں کئی سو فٹ تک ملبہ پڑا ہے اور اسے ہٹانے کا کام جاری ہے۔
کول مائنز لیبر یونین کے صدر بخت نواب کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات سطح زمین تک محسوس کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کے فوری بعد قریبی کانوں کے مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام شروع کیا جس کے کئی گھنٹے بعد کوئٹہ سے سرکاری امدادی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچیں۔
حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن میں مائنز انسپکٹریٹ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، مقامی کان کنوں اور رضاکاروں کی ٹیمیں مشترکہ طور پر حصہ لے رہی ہیں۔
چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف خود کان میں اتر کر سرچ اینڈ ریسکیو مشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔
متاثرین کی تفصیلات
چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق مرنے والے کان کنوں میں سے 31 کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے جبکہ باقی دو کا تعلق سوات اور صوابی سے ہے۔
مزدور تنظیموں کے مطابق شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 31 میں سے 23 کان کن صرف ایک ہی یونین کونسل، پیرآباد سے ہیں اور بیشتر آپس میں رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ کے مطابق ایک ہی خاندان کے تین سگے بھائی، ایک چچا اور چار کزن بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ اور ملحقہ اضلاع میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث یہاں کے مزدور سینکڑوں کلومیٹر دور کوئٹہ اور بلوچستان کے ان اضلاع کا رخ کرتے ہیں جہاں کوئلے کے ذخائر واقع ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت کی عمریں 25 سال سے کم بتائی جاتی ہیں۔
اردو نیوز کو موصول ہونے والی فہرست کے مطابق متاثرہ کان کنوں میں نجیب اللہ ولد محمد سلیم، ذاکر اللہ ولد معتبر خان، نصراللہ ولد دوشم گل، ایاز الدین ولد گل صنوبر، حضرت علی ولد عمر زادہ، ضیاء اللہ ولد انذر گل، رحمان الدین ولد شانہ گل، سردار علی ولد گل فروز، امجد علی ولد گل فروز، ودوداللہ ولد معتبر خان، محمد طاہر ولد احمد خان، لائق زادہ ولد محمد اقبال، ہدایت اللہ ولد محمد گل، امان اللہ ولد محمد یوسف شامل ہیں۔
باقیوں کی شناخت ابوزر ولد محمد اکمل، ابوسفیان ولد فضل باچا، رومان سعید ولد عرفان اللہ، تاج بہادر ولد محمد زرین، محمد اسلم ولد محمد ظاہر، عمر سلیم ولد عالم زیب، شیر باچا ولد روزی گل، رفیق اللہ ولد رازی خان، حسن باچا ولد محمد امین، فضل الرحمان ولد ملوک، مطیع اللہ ولد عبدالرحمان، افسر خان ولد نذر من، بخت رودین ولد گل مندیر اور بشیر احمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
مرنے والوں میںپ بحرالامین ولد شفیع اللہ کا تعلق صوابی اور نعمت اللہ ولد عقل زمین کا تعلق سوات سے بتایا جاتا ہے۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی کے مطابق حکومت ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
معاون خصوصی وزیراعلیٰ برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہلاک کان کنوں کے لواحقین کے لیے فی کس پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو امدادی سرگرمیوں میں کوتاہی نہ برتنے کی ہدایت کی ہے۔
مزدور تنظیموں اور سوشل میڈیا پر صارفین نے کان کنوں کی لاشیں ایمبولینسوں کے بجائے کرائے کی ہائی ایس اور ویگن گاڑیوں کے اندر اور چھتوں پر تابوتوں کو رکھ کر ان کے آبائی علاقوں تک بھجوائے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔
شانگلہ کے رہائشی دوست محمد کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی چھتوں پر تابوت باندھ کر روانہ کرنا غریب مزدوروں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ سرکاری سطح پر لاشوں کی باوقار منتقلی کا مناسب انتظام کیوں نہیں کیا گیا
تاہم شاہد رند کے مطابق لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں تک باعزت طریقے سے پہنچانے کے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے۔
مزدور تنظیموں کا ردعمل
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان نے حادثے کی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہے ہیں اور کوئلے کی کانیں ’موت کے کنویں‘ بن چکی ہیں۔
فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین عبدالستار نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور حفاظتی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث حادثات معمول بن چکے ہیں اور کان کن ماسک، آکسیجن سلنڈر اور گیس ناپنے والے آلات کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین محمد زمین نے ٹھیکیداری نظام ختم کرنے اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان نے حادثے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور محکمہ مائنز سے مطالبہ کیا ہے کہ کان کنوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے رہنما عبدالحکیم مجاہد نے حادثے کی ذمہ داری حکومت اور محکمہ معدنیات پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مزدوروں کو کانوں کے اندر تحفظ حاصل نہیں، اور فیڈریشن جلد اجلاس بلا کر مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
ہر سال 80 سے زائد کانکنوں کی موت ہوتی ہے
سورینج میں اس سے پہلے بھی کوئلہ کانوں میں بڑے حادثات پیش آ چکے ہیں۔ مارچ 2011 میں یہاں گیس دھماکے سے 45 کان کن ہلاک ہوئے تھے۔ مائنز انسپکٹریٹ بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران صوبے میں کوئلہ کانوں کے کم از کم 229 حادثات میں 383 کان کن جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہر سال اوسطاً 80 سے 90 کان کن اس شعبے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
