حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے
اسرائیل نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں مہلک حملے کیے، جبکہ حزب اللہ نے کہا کہ اسے جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملے اس نئی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہوئے جس کا اعلان امریکہ نے کیا تھا۔ یہ جنگ بندی ایران کے ساتھ ہونے والے ایک ابتدائی معاہدے کو بچانے کی کوشش تھی، جس پر حالیہ لڑائی کے باعث دباؤ بڑھ گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے اس ہفتے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو تمام محاذوں پر روکنا تھا، جس میں لبنان بھی شامل تھا۔ یہ تہران کا ایک اہم مطالبہ تھا۔
تاہم، اس معاہدے پر مزید پیش رفت کے لیے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے، جب اسرائیل نے لبنان میں شدید فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اس سے قبل لڑائی میں اسرائیل کے چار فوجی مارے گئے تھے، جس پر اسرائیل کے اندر شدید ردعمل سامنے آیا۔
جمعہ کی دوپہر ایک امریکی عہدیدار نے اعلان کیا کہ امریکی اور قطری ثالثوں کی کوششوں سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی طے پا گئی ہے۔ واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے کہا کہ اگر حزب اللہ جنگ بندی کا احترام کرے گی تو اسرائیل بھی اس پر عمل کرے گا۔
تاہم ہفتے کے روز ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف نئے حملے شروع کیے ہیں۔ اس کے مطابق حزب اللہ نے رات بھر جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی افواج پر 50 سے زائد راکٹ اور گولے داغے۔
حزب اللہ نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل یا لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر کسی حملے کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔
لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے تقریباً 20 مقامات پر بمباری کی۔ لبنان کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ نبطیہ کے علاقے میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔
اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے حملوں کے بعد شہر کے اوپر دھواں اٹھتے دیکھا۔
اسرائیلی سرحد کے قریب موجود اے ایف پی کے ایک صحافی نے بھی لبنان میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی۔ تاریخی بیوفورٹ قلعے کے پیچھے دھوئیں کے بادل دیکھے گئے، جو نبطیہ کے قریب ایک اہم عسکری مقام ہے اور جس پر اسرائیل نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔
’مقابلہ کرنے کا حق‘
حزب اللہ کے رکنِ پارلیمان حسن فضل اللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ ان کی جماعت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’دشمن جنگ بندی کا مکمل اور جامع احترام کرے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’مزاحمت کو مکمل حق حاصل ہے کہ جب دشمن ہم پر حملہ کرے تو اس کا مقابلہ کرے، کیونکہ وہ حملہ آور اور قابض قوت ہے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ ان کا ملک جنگ بندی کو ’گولی کا جواب گولی‘ کی بنیاد پر دیکھتا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق جمعہ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 افراد ہلاک ہوئے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی جنگ روکنے کے معاہدے کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔