عرب پام ڈے: العلا میں کھجور کے درخت کی زرعی، اقتصادی اور ثقافتی اہمیت
العلا میں 42 لاکھ سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
العلا میں کچھور کے درخت یہاں کے زرعی منظر نامے کے ستھ اس کی سماجی اور اقتصادی تاریخ کا لازمی حصہ ہیں۔
یہ درخت اس علاقے کی اہم ترین فصل، خوراک اور آمدنی کا ذریعہ ہونے کے باعث آج بھی یہاں کی شناخت ہیں۔ العلا کے نخلستان ہمیشہ سے غیرمعمولی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 15 ستمبر کو ’عرب پام ڈے‘ منایا جاتا ہے ۔ یوم نخلستان کے موقع پر یہاں موجود کھجور کے باغات کی تفصیلات اجاگر کی جاتی ہیں۔
العلا کے نخلستان یہاں کی مقامی آبادی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت العلا میں 42 لاکھ سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں جو تقریبا 16 ہزار 484 ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ کھجوروں کی سالانہ پیداوار تقریبا ایک لاکھ 30 ہزار ٹن سے زیادہ ہے۔
العلا میں کھجور کی کاشت کو تاریخی، اقتصادی اور غذائی اہمیت کے پیش نظر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
کھجور کا پھل اور گھٹلی کے علاوہ درخت کے پتے، شاخیں اور تنے سے مختلف کاموں میں استعمال ہوتے ہیں۔ بعض اقسام کی طبی اور کاسمیٹک مصنوعات بھی اس سے تیار کی جاتی ہیں۔
اس کے اجزا کو حیاتیاتی ایندھن کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے کھجور کے درخت سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے ساتھ زرعی فضلے میں کمی ممکن ہوتی ہے۔
عالمِ عرب میں کھجور کے حوالے سے مخصوص دن منانے کی تجویز سال 1981 کو عراقی وزارتِ زراعت نے عرب لیگ کے سامنے پیش کی تھی۔ ’عرب پام ڈے‘ عرب ماحول اور ثقافت میں کھجور کے درخت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
مملکت میں کھجور کا درخت زرعی، ثقافتی اور اقتصادی حوالے سے ایک مضبوط مقام رکھتا ہے۔ العلا ان نمایاں علاقوں میں شامل ہے جہاں کھجور کی قدیم کاشت اور اس زرعی ورثے کی عکاسی نخلستان فیسٹیول کرتے ہیں۔ یہ روایت نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔
آج بھی کھجور کے درخت العلا کی مقامی پیداوار کا بنیادی عنصر ہیں۔ صدیوں سے انسان اور زمین کے وسائل کے مابین گہرے تعلق کی نمایاں علامت کے طور پر معروف ہیں۔
