Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میکلمور کی ’فری فلسطین‘ کی حمایت میں ایڈ شیرن کے کنسرٹس سے چار فنکار الگ ہونے کا معاملہ کیا؟

امریکی ریپر نے 5 ستمبر کو پرفارمنس کے دوران ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگایا تھا۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
امریکی ریپر میکلمور کو فلسطین کے حق میں بیان دینے کے بعد ایڈ شیرن کے کنسرٹس سے ہٹائے جانے پر چار دیگر فنکاروں نے بھی ان کے ساتھ ہونے والے کنسرٹس سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایڈ شیرن کے ساتھ پرفارم کرنے والے آئرش فنکار ایرون رو، بینڈ بیوگا، ڈینش بینڈ لوکاس گراہم اور گلوکار فنیاس نے انسٹاگرام پر اپنے پیغامات میں میکلمور کی حمایت کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق معاملہ اس وقت شروع ہوا جب میکلمور نے 5 ستمبر کو نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں پرفارمنس کے دوران ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگایا۔
میکلمور کو ہٹائے جانے کے بعد ایڈ شیرن کے ساتھ پرفارم کرنے والے چار فنکاروں نے بھی اپنے اپنے انسٹاگرام پیغامات میں اس فیصلے پر ردعمل دیا۔
ان فنکاروں میں مشہور گلوکارہ بلی آئلش کے بھائی فنیاس بھی شامل ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ ’فنکاروں کو مظلوم لوگوں کے لیے آواز اٹھانے پر خاموش نہیں کیا جانا چاہیے۔
’میں نے ایڈ شیرن کے ساتھ اپنے آنے والے کنسرٹس سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں فلسطین اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by FINNEAS (@finneas)

آئرش فنکار ایرون رو نے کہا کہ ایڈ شیرن ان کے دوست ہیں اور انہوں نے ان کی زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم وہ اپنی تاریخ کی وجہ سے فلسطین کے معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے لکھا، ’ہم آئرش لوگ نسل کشی، جبری قحط اور پرتشدد قبضے کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ میں ارب پتی افراد کو اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کی آواز خاموش کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا جو اس معاملے پر بات کر رہے ہیں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by aaron rowe (@aaronrowe__)

آئرش بینڈ بیوگا نے بھی اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا، ’ہم آئرش لوگ نوآبادیات کی تاریخ کو سمجھتے ہیں۔‘
انہوں نے لکھا ہے کہ ’ہم آئرش آرٹسٹس فار فلسطین تحریک کے بانی ارکان میں شامل ہیں اور انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Beoga (@beogamusic)

ڈینش بینڈ لوکاس گراہم نے ایڈ شیرن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے فیصلے کو ’مشکل فیصلہ‘ قرار دیا۔
بینڈ نے لکھا، ’پیسہ کسی کو گفتگو پر اختیار نہیں دیتا۔ کسی کے بینک اکاؤنٹ کی رقم یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کون بول سکتا ہے اور کس کے دکھ کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایڈ شیرن نے میکلمور کو کنسرٹس سے ہٹانے کے فیصلے سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ فیصلہ ان کا نہیں‘ بلکہ منتظمین کا تھا۔
انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا، ’میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ منتظمین کا تھا، میرا نہیں۔
میں ان مداحوں کو کبھی مایوس نہیں کرنا چاہتا جنہوں نے اس کے لیے منصوبہ بنایا تھا اور نہ ہی ان لوگوں کو چھوڑ سکتا ہوں جو اس ٹور سے روزی کما رہے ہیں۔
ایڈ شیرن نے لکھا ہے کہ انہوں نے کئی دن تک کنسرٹ مقامات کی انتظامیہ سے بات کرکے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن آخرکار منتظمین اور متعلقہ مقامات کا فیصلہ برقرار رہا۔
انہوں نے کہا کہ وہ موسیقی کے ذریعے مختلف پس منظر اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایڈ شیرن کے مطابق غزہ کی جنگ کے بارے میں ان کی اپنی ذاتی رائے ہے، تاہم وہ اس معاملے پر عوامی سطح پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ان کے کنسرٹ میں آنے والے لوگ وہاں سیاسی گفتگو سننے نہیں آتے۔
انہوں نے کہا، ’میں اس معاملے میں شریک نہیں ہوں۔
ایڈ شیرن نے میکلمور کے مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امن کے حصول کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے بقول وہ اپنی شہرت اور پلیٹ فارم کو ایسا مقام بنانا چاہتے ہیں جہاں لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں، سفارت کاری ہو اور کھلے عام گفتگو جاری رہے۔
بعدازاں امریکی ریپر میکلمور نے پیر کو انسٹاگرام پر لکھا کہ امریکہ کے کئی مقامات نے کنسرٹس کے منتظمین کو بتایا تھا کہ اگر وہ ایڈ شیرن کے ساتھ پرفارم کریں گے تو وہ کنسرٹ کی اجازت نہیں دیں گے۔
ان کے مطابق انہی حالات کے بعد انہیں ایڈ شیرن کے کنسرٹس سے ہٹا دیا گیا۔
میکلمور نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں فلسطین کے حق میں بات کرنے اور اسرائیل پر تنقید کرنے کے اپنے مؤقف کا بھی دفاع کیا۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by BEN (@macklemore)

امریکی ریپرکو کنسرٹس سے ہٹانے کے معاملے میں نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک ارب پتی رابرٹ کرافٹ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔
 کرافٹ گروپ کے پاس گلٹ سٹیڈیم بھی ہے، جہاں ایڈ شیرن کے کنسرٹس ہونے ہیں۔
کرافٹ نے کہا کہ میکلمور کو ہٹانے کا فیصلہ ان کے حالیہ بیانات اور ’ایسے بیانات اور تصاویر کی وسیع تر تاریخ‘ کی وجہ سے کیا گیا جنہیں ان کے بقول یہودی برادری کے لیے تکلیف دہ اور توہین آمیز سمجھا گیا۔
ایڈ شیرن کے امریکہ میں مزید کنسرٹس کا سلسلہ سنیچر کو فلاڈیلفیا سے دوبارہ شروع ہونا ہے۔ اس کے بعد ان کے کنسرٹس گلٹ سٹیڈیم، اٹلانٹا کے مرسڈیز بینز سٹیڈیم اور انڈیانا پولس کے لوکاس آئل سٹیڈیم میں ہوں گے۔

شیئر: