’میں جاسوسی نہیں کر رہا‘، میٹا کے سمارٹ گلاسز نے رائے عامہ کو کیوں تقسیم کیا؟
’میں جاسوسی نہیں کر رہا‘، میٹا کے سمارٹ گلاسز نے رائے عامہ کو کیوں تقسیم کیا؟
اتوار 20 ستمبر 2026 14:22
سنہ 2025 میں 70 ملین سے زائد جوڑوں کی فروخت کی اطلاعات کے بعد میٹا کے ’رے بن‘ سمارٹ گلاسز دنیا کی مقبول ترین جدید ڈیوائسز میں سے ایک بنتے جا رہے ہیں۔
دی گارڈیئن کی ایک رپورٹ کے مطابق جہاں ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید عینکیں عکاسی اور معذور افراد کی رسائی میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہیں، وہیں ناقدین نے بغیر اجازت فلم بندی، پرائیویسی اور ڈیٹا اکٹھا کیے جانے پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ کے رہائشی سرواس روزانہ یہ عینک پہنتے ہیں۔ وہ اسے اے آئی فیچرز کے بجائے اس کے اندر نصب کیمرے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کے مناظر ریکارڈ کر سکیں۔
سرواس کا کہنا ہے کہ ’خفیہ کیمرے کی وجہ سے اکثر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ میں نے سمارٹ گلاسز پہن رکھے ہیں۔‘ تاہم ایک سرکاری عمارت میں سکیورٹی نے انہیں اس خدشے کے تحت روک لیا کہ وہ شاید ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔
سرواس کہتے ہیں ’وہ ان گلاسز سے بہت خوفزدہ تھے لیکن میں کوئی جاسوسی نہیں کر رہا۔‘
دوسری جانب معذور افراد کے لیے یہ ٹیکنالوجی کسی نعمت سے کم نہیں۔
برطانیہ کے علاقے ڈیون کی 59 سالہ نکی پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہیں اور ان کے لیے یہ عینک انتہائی کارآمد ثابت ہوئی ہے۔
نکی بتاتی ہیں ’میں گلی میں جا رہی تھی کہ مجھے آگے کسی کام کی آواز آئی۔ میں نے کہا ’ہے میٹا، دیکھ کر بتاؤ آگے کیا ہے‘ اور اس نے فوراً بتایا کہ ایک وین سے سامان اتارا جا رہا ہے۔‘
نکی کا خیال ہے کہ پرائیویسی کے نام پر ایسی ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے جو معذور افراد کی زندگی آسان بناتی ہے۔
تاہم ہر صارف کا تجربہ اتنا مثالی نہیں رہا۔
سان ڈیاگو کی 84 سالہ کیرن والٹر جو شدید سماعت سے محروم ہیں، نے یہ عینک صرف لائیو کیپشن فیچر کے لیے خریدی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ خاموش دکان میں نمائش کے دوران تو اس نے کام کیا لیکن جب وہ تین سے سات افراد کے گروہ میں ہوتی ہیں جہاں آس پاس کا شور زیادہ ہو تو یہ کیپشن فیچر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
44 سالہ پیٹ کا ماننا ہے کہ مسئلہ صرف خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ کا نہیں بلکہ ڈیٹا کے تحفظ کا ہے (فائل فوٹو: میٹا، رے بن)
عام جگہوں پر ان گلاسز کی موجودگی نے بہت سے لوگوں کو بے چین بھی کیا ہے۔
برطانیہ کی رہائشی کیکی کا کہنا ہے کہ عینک میں چھپے کیمرے خواتین اور بچوں کی پرائیویسی کے لیے خطرہ ہیں۔ ’اگر کوئی فون سے تصویر لے تو نظر آ جاتا ہے لیکن عینک کا کیمرہ محسوس کرنا مشکل ہے۔ میں نے ایک کیفے میں کسی کو یہ عینک پہنے دیکھا تو میں بے آرام ہو کر دور جا بیٹھی۔‘
44 سالہ پیٹ کا ماننا ہے کہ مسئلہ صرف خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ کا نہیں بلکہ ڈیٹا کے تحفظ کا ہے۔
وہ کہتے ہیں ’مجھے نہیں معلوم کہ ان تصاویر اور ویڈیوز کا ڈیٹا کس کے پاس جا رہا ہے اور وہ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جب تک ٹھوس حفاظتی قوانین نہیں بنتے، میں اس پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اور پرائیویسی کے قوانین کے درمیان یہ فاصلہ آنے والے دنوں میں مزید تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔