اس صدی کا سب سے طویل سورج گرہن کب اور کہاں دیکھا جا سکے گا؟
اس صدی کا سب سے طویل سورج گرہن کب اور کہاں دیکھا جا سکے گا؟
جمعرات 17 ستمبر 2026 6:07
مکمل گرہن کے دوران چاند کا سایہ زیادہ سے زیادہ تقریباً 258 کلومیٹر چوڑا ہوگا۔(فوٹو:سپیس ڈاٹ کام)
دن کے وقت اچانک اندھیرا چھا جائے، سورج کی روشنی مدھم پڑ جائے اور آسمان پر سورج کی بیرونی فضا نمایاں ہونے لگے، ایسا نایاب فلکیاتی منظر اگلے برس دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا۔
سپیس ڈاٹ کام کے مطابق 2 اگست 2027 کو ہونے والے مکمل سورج گرہن کے دوران چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا اور مکمل تاریکی کا مرحلہ زیادہ سے زیادہ 6 منٹ 23 سیکنڈ تک جاری رہے گا، جو 21ویں صدی کا طویل ترین مکمل سورج گرہن ہوگا۔
گرہن کا راستہ بحر اوقیانوس سے شروع ہوکرسپین، شمالی مراکش، شمالی الجزائر، شمالی تیونس، شمال مشرقی لیبیا، مصر، سوڈان، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ کے بعض علاقوں سے گزرے گا اور بحر ہند میں چاغوس جزائر کے قریب ختم ہوگا۔
مکمل گرہن کے دوران چاند کا سایہ زیادہ سے زیادہ تقریباً 258 کلومیٹر چوڑا ہوگا اور تقریباً 3 گھنٹے 20 منٹ میں زمین پر اپنا راستہ طے کرے گا۔
تاہم مکمل تاریکی صرف اسی محدود پٹی میں نظر آئے گی جہاں چاند کا گہرا سایہ زمین پر پڑے گا، جبکہ اس سے باہر کے علاقوں میں جزوی گرہن ہوگا۔
مصر اس فلکیاتی منظر کے لیے اہم ترین مقامات میں شامل ہوگا۔ اقصر کے قریب مکمل گرہن تقریباً 6 منٹ 19 سیکنڈ تک جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ سوہاج اور بحیرۂ احمر کے بعض علاقوں میں بھی مکمل گرہن کا دورانیہ 6 منٹ سے زائد ہوگا۔
سپین کے ملاگا، کیڈیز اور طریفا، مراکش کے طنجہ، الجزائر کے وھران، تیونس کے صفاقس، لیبیا کے بن غازی اور سعودی عرب کے جدہ سمیت متعدد مقامات پر بھی مکمل سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔
مکہ مکرمہ میں مکمل گرہن کا دورانیہ تقریباً 5 منٹ 10 سیکنڈ ہوگا۔
مکمل گرہن کے راستے میں تقریباً 8 کروڑ 89 لاکھ افراد رہتے ہیں، جو 2024 میں نظر آنے والے مکمل سورج گرہن کے راستے میں رہنے والی آبادی سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
مصر اور مشرقی لیبیا کے بعض علاقوں میں گرہن کے وقت آسمان صاف رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔(فوٹو:اپیس ڈاٹ کام)
مصر اور مشرقی لیبیا کے بعض علاقوں میں گرہن کے وقت آسمان صاف رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اقصر میں اگست کے دوران بادلوں کی اوسط موجودگی صرف 0.7 فیصد بتائی گئی ہے، تاہم وہاں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
جنوبی سپین اور شمالی مراکش میں موسم نسبتاً غیر یقینی رہنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں بھی 2 اگست 2027 کو سورج گرہن دیکھا جاسکے گا، تاہم یہاں مکمل نہیں بلکہ جزوی سورج گرہن ہوگا۔
ٹائم اینڈ ڈیٹ کے مطابق پاکستان میں یہ گرہن تقریباً 2 بج کر 43 منٹ پر شروع ہوکر 4 بج کر 51 منٹ تک جاری رہے گا۔
اسلام آباد میں گرہن 3 بج کر 14 منٹ پر شروع، 3 بج کر 47 منٹ پر عروج پر اور 4 بج کر 19 منٹ پر ختم ہوگا، جبکہ کراچی میں یہ تقریباً 3 بجے شروع ہوکر 4 بج کر 48 منٹ تک جاری رہے گا۔
پاکستان کے علاوہ یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں میں بھی جزوی گرہن دیکھا جائے گا۔(فوٹو:سکرین شارٹ، ٹائم اینڈ ڈیٹ)
پاکستان کے علاوہ یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں میں بھی جزوی گرہن دیکھا جائے گا۔
سپیس ڈاٹ کام کے مطابق میڈرڈ میں سورج کا تقریباً 86 فیصد، رباط میں 98 فیصد، الجزائر اور طرابلس میں تقریباً 99.9 فیصد جبکہ قاہرہ میں 95 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔
مکمل سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آکر سورج کی پوری قرص کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس دوران دن کے وقت آسمان تاریک ہوجاتا ہے اور سورج کی بیرونی فضا ’کورونا‘ نمایاں ہوسکتی ہے۔
2 اگست 2027 کے بعد اگلا مکمل سورج گرہن 22 جولائی 2028 کو ہوگا، جس کے بعد 2030، 2031، 2033 اور 2034 میں بھی مکمل سورج گرہن ہوں گے۔ 20 مارچ 2034 کا مکمل سورج گرہن پاکستان سمیت افغانستان، ایران، سعودی عرب، انڈیا اور چین کے بعض علاقوں سے گزرے گا۔
ماہرین کے مطابق سورج گرہن کے جزوی مرحلے میں سورج کو براہ راست (بغیر حفاظتی چشمے کے) آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہوسکتا ہے، اس لیے مشاہدے کے لیے مستند سولر ایکلپس گلاسز یا مناسب سولر فلٹر استعمال کرنا ضروری ہے۔ عام دھوپ کے چشمے سورج گرہن دیکھنے کے لیے محفوظ نہیں ہوتے۔