شاہ عبدالعزیز کا تعلیمی وژن: تمام شہریوں کے لیے تعلیم کو مفت اور قابل رسائی بنایا
تعلیم کو انسانی ترقی، ریاست کی تعمیر اور قومی استحکام کی بنیاد قرار دیا۔(فوٹو: ایس پی اے)
بانی مملکت شاہ عبدالعزیز کی تعلیم کے حوالے سے مثالی خدمات ہیں۔ انہوں نے تعلیم کو انسانی ترقی، ریاست کی تعمیر اور قومی استحکام کی ناگزیر بنیاد قرار دیا۔
ملکی اتحاد کے ساتھ بانی مملکت نے ایک ایسی فعال اور دور اندیش سوچ پر عمل کیا جس نے علاقائی اتحاد کو سماجی اور ادارہ جاتی ترقی سے جوڑ دیا۔ ہرعلاقے میں تمام شہریوں کے لیے تعلیم کو مفت اور قابل رسائی بنایا۔
ایس پی اے کے مطابق شاہ عبدالعزیز کا طلبہ کے ساتھ گہرا ذاتی لگاؤ تھا۔ وہ بچوں کو تعلیم یافتہ، ہنرمند اور با صلاحیت دیکھنا چاہتے تھے اور وہ ہمیشہ اس کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ وہ تعلیم کو معاشرے کی ترقی، امن و استحکام کی بنیاد کہتے تھے۔
شاہ عبدالعزیز نے مملکت کے اتحاد اور ریاست کے قیام کے ساتھ تعلیمی ادارے قائم کرنے، اساتذہ تیار کرنے اور طلبہ کو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا۔
ان کی کوشش تھی کہ تعلیم عام اور مفت ہو تاکہ ہر فرد کو علم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ تعلیم کو انسان اور ملک کی تعمیر کا ذریعہ بنایا جاسکے۔
شاہ عبدالعزیز نے 1931 میں سعودی سائنسی ادارے کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ حاصل کیے گئے علم کی قدر کریں اور یاد رکھیں کہ عمل کے بغیر علم ایک بے ثمر درخت کی مانند ہے۔ علم کی قدر اس کی کثرت سے نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والے مفید عمل سے ہوتی ہے۔

انہوں نے طلبہ کو نصحیت کی کہ وہ اپنی محنت اور اپنی قابلیت کے ذریعے اپنے دین، اپنی زبان اور اپنے وطن کی خدمت کریں۔
سال 1962 میں شاہ عبدالعزیز نے تعلیمی امور کی نگرانی کے لیے ’ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ‘ قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ایک برس بعد سعودی علمی ادارہ قائم کیا گیا جس کا مقصد ابتدائی اور پرائمری سطح کے اساتذہ تیار کرنا تھا۔

طائف کمشنری میں سال 1945 میں ’دارالتوحید سکول‘ قائم کیا گیا جہاں اسلامی علوم اور عربی زبان کی تعلیم پر خاص توجہ دی گئی تاکہ ملک کو عدلیہ، دینی امور اور شعبہ تدریس کے ماہرین فراہم کیے جاسکیں۔
مکہ مکرمہ میں سال 1950 میں ’شریعہ کالج‘ بعد ازاں سال 1953 میں ’کلیہ المعلمین‘( ٹیچرز ٹریننگ کالج) اور اس کے اگلے برس ریاض میں ’شریعہ کالج‘ کا قیام اعلی تعلیمی بنیاد پر ہوا۔

انسانی وسائل کی ترقی کے لیے اس بنیادی عزم نے دہائیوں تک جاری رہنے والی قومی ترقی کی بنیاد رکھی جسے آنے والی سعودی قیادت نے آگے بڑھایا۔ آج شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں اس ابتدائی وژن نے ایک عالمی تبدیلی کی شکل اختیار کر لی ہے۔
