بانی مملکت شاہ عبدالعزیز کی سادہ زندگی، لباس اور ذاتی اشیا کی جھلک
شاہ عبدالعزیز خوشبو لگانے کا بھی خاص اہتمام کیا کرتے تھے ( فوٹو: ایس پی اے)
بانی مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ ان کا لباس بھی انتہائی سادہ اور روایتی ہوتا تھا۔
ایس پی اے کے مطابق کنگ عبدالعزیز فاونڈیشن کی جانب سے مملکت کے قومی دن کے موقع پر تاریخی مواد سے متعلق شاہ عبدالعزیز کے لباس، ذاتی اشیا اور بعض اہم عادات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
شاہ عبدالعزیز کے لباس کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہیں سفید لباس زیادہ پسند تھا۔ وہ جمعہ کو سفید ’بشت‘ اور ’غترہ‘ (سفید رومال) پہنتے تھے۔
ان کے ملبوسات میں ’مقطع‘ یا ’مدرعہ‘ شامل ہوتا تھا جو بنیادی لباس مانا جاتا تھا۔ اس زمانے کا یہ لباس دورِ حاضر میں ’ثوب‘ سے مشابہ تھا تاہم ثوب کے مقابلے میں زیادہ ڈھیلا ہوتا تھا۔
موسمِ سرما میں شاہ عبدالعزیز عموماً اون کی ایک جیکٹ یا کوٹ نما جسے ’زبون‘ کہتے تھے استعمال کیا کرتے تھے جو سامنے سے کھلی ہوتی اور نچلے حصے، آستینوں کے سروں اور اطراف میں بھی کھلی رہتی تھی۔
سینے کے اوپری حصے میں قیطانی بند اور بٹنوں سے اسے بند کیا جاتا تھا جبکہ کھلے حصوں کو بھی قیطانی سے سجایا جاتا تھا۔
شاہ عبدالعزیز کو ’عقال مقصب‘ بھی پسند تھا جو اس دور میں ان کی ایک نمایاں علامت بھی بن گیا تھا۔ وہ ان چند افراد میں شامل تھے جو اسے پہنتے تھے۔ 1943 میں امریکی جریدے ’لائف‘ کے ایک صحافی نے بھی اس پر توجہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ شاہ عبدالعزیز تاج نہیں بلکہ سنہری عقال پہنتے ہیں۔

بشت یا مشلح (ثوب کے اوپر پہننے والا چغہ) بھی شاہ عبدالعزیز کے ملبوسات کا حصہ تھا جسے وہ مختلف مواقع پر استعمال کرتے تھے۔ ان کے پسندیدہ رنگوں میں سیاہ، عودی (ڈارک براؤن) اور سفید جسے ’اشقح‘ کہا جاتا تھا، شامل تھے۔ سفید بشت وہ عام طورپر جمعہ کے روز پہنتے تھے۔
شاہ عبدالعزیز کڑھائی والے بشت بھی پہنا کرتے تھے جن میں ’دربوجہ‘ بشت شامل تھا۔ اس نام سے مراد گردن اور جیب کے اطرا ف میں کڑھائی والا حصہ۔ سامنے کے حصے پر زری کا کام ہوتا تھا جو دونوں جانب گول آرائشی شکل میں لٹکتا تھا جبکہ کندھوں پر سامنے اور پچھلے حصے کو ’عصام‘ (مخصوص قسم کی کڑھائی) سے جوڑا جاتا تھا۔
ان کی ذاتی اشیا میں چشمہ شامل تھا جبکہ جیبی گھڑی ان کے ہمراہ ہوا کرتی تھی۔ ان کے پاس عقیق کے نگینے والی ایک چاندی کی انگوٹھی تھی جس پر ’عبدالعزیز بن عبدالرحمان الفیصل السعود‘ کنندہ تھا۔

ایک اور انگوٹھی بھی تھی تاہم چاندی کی انگوٹھی ان کے ساتھ آخر وقت تک رہی۔ اس حوالے سے بیماری کے دور میں جب ڈاکٹروں نے علاج کے دوران دھاتی اشیا دور کرنے کی درخواست کی تو وہ مسکرائے اور کہا ’یہ پہلی بار ہے کہ میں نے یہ انگوٹھی اپنی انگلی سے اتاری ہے۔‘
شاہ عبدالعزیز ’محجان‘ اپنے ساتھ رکھتے تھے جو ایک لمبی اور خم دار سرے والی چھڑی تھی جسے سخت لکڑی ’شوحط‘ سے بنایا گیا تھا۔
کویت میں قیام کے دوران اس سے متعلق ایک واقعہ بھی مشہور ہے، ایک روز وہ چند افراد کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے ان سے خاموشی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا ’میں خود کو ایک ایسے نوجوان کے طورپر دیکھ رہا ہوں جس کے پاس اس ’محجان‘ کے سوا کچھ نہیں۔‘
’اس کے باوجود میں یہ تصورکرتا ہوں کہ میں نجد کے مشرق سے مغرب تک حکومت کروں گا۔ یہی سوچ و خیال مجھے آپ لوگوں سے گفتگو کرنے اور آپ کی بات سننے سے غافل کیے ہوئے ہے۔

شاہ عبدالعزیز خوشبو کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ وہ خوشبودار تیل اور خالص عطر استعمال کرتے تھے جن میں خالص عرق گلاب بھی شامل تھا جسے ایک مخصوص چمڑے کے صندوق میں محفوظ رکھا جاتا تھا۔ اپنے مہمانوں کو بھی خوشبو لگانے کا خاص اہتمام کرتے تھے۔
